ایران کے سپریم لیڈر زندہ اور سرگرم ہیں: امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی میں کہا ایران سے معاہدے کا امکان موجود ہے، یہ آج بھی ہو سکتا ہے، کل بھی اور اگلے ہفتے بھی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو دو جون، 2026 کو واشنگٹن میں سینیٹ کی خارجہ کمیٹی میں سوالوں کا جواب دے رہے ہیں (اے ایف پی)

ایران کے سپریم لیڈر زندہ اور سرگرم ہیں: امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای، جو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں زخمی ہوئے تھے اور عہدہ سنبھالنے کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، زندہ ہیں اور بتدریج زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا ’میرے خیال میں ایسے اشارے موجود ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتے ہوئے انداز میں سرگرم ہو رہے ہیں۔‘

56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد علی خامنہ ای کی جگہ لی تھی، جو 28 فروری کو جنگ کے آغاز پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں جان سے چلے گئے تھے۔

روبیو سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے ایسے وقت میں بیان دے رہے تھے جب تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

روبیو نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی امید ظاہر کی، تاہم اس بات پر زور دیا کہ پابندیوں میں نرمی حاصل کرنے کے لیے تہران کو اپنے جوہری پروگرام کو نمایاں حد تک محدود کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا ’ہمارے سامنے معاہدے کا امکان موجود ہے، یہ آج بھی ہو سکتا ہے، کل بھی ہو سکتا ہے اور اگلے ہفتے بھی ہو سکتا ہے۔‘

روبیو نے کہا کہ تہران کو خلیج کے تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر بھی رضامند ہونا ہو گا۔

’انہیں واضح طور پر اعلان کرنا ہوگا کہ ’آبنائے ہرمز اب کھلی ہے، ہم کوئی محصول وصول نہیں کر رہے۔‘‘

’ہم وہاں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں مدد کریں گے اور وہ جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔‘

مزید برآں انہوں نے کہا ’انہیں یورینیم افزودگی کی سرگرمیوں پر سخت اور طویل المدتی پابندیوں یا ان کی مکمل بندش سے متعلق مذاکرات پر بھی آمادہ ہونا ہوگا۔‘

روبیو کا کہنا تھا ’ایران پر پابندیاں اس لیے عائد ہیں کہ اس نے اعلیٰ درجے تک افزودہ یورینیم تیار کیا ہے، ایران پر پابندیاں اس کی جوہری سرگرمیوں کی وجہ سے ہیں۔

’اگر وہ ان سرگرمیوں سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔‘ اے ایف پی


اسرائیل کے ساتھ جزوی جنگ بندی قبول نہیں: حزب اللہ

حزب اللہ کے ایک سینیئر عہدے دار نے منگل کو کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ ’جزوی جنگ بندی‘ قبول نہیں کرے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنظیم شمالی اسرائیل پر حملے روکنے کے بدلے میں بیروت کے جنوبی مضافات کو اسرائیلی حملوں سے محفوظ رکھنے کی کسی پیشکش کو قبول نہیں کرے گی۔

محمود قماطی نے اے ایف پی کو تحریری بیان میں کہا ’ہم جزوی جنگ بندی قبول نہیں کریں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’صہیونی دشمن کو معلوم ہونا چاہیے کہ جنوبی مضافاتی علاقوں پر کسی بھی جارحیت کے نتیجے میں حزب اللہ کی جانب سے زیادہ گہرا اور زیادہ طاقتور ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔‘

پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک معاہدے کا اعلان کیا تھا، جس کے بارے میں بعد میں لبنانی حکام نے بتایا کہ اس کے تحت اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر حملے نہیں کرے گا جبکہ اس کے بدلے حزب اللہ اسرائیلی علاقے پر حملے نہیں کرے گی۔ اے ایف پی


امریکہ سے جنگ کا دوبارہ آغاز ’ناگزیر‘: ایران

ایران کی مرکزی فوجی کمان ’خاتم الانبیا‘ کے نائب سربراہ محمد جعفر اسدی نے منگل کو کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کا دوبارہ آغاز ’ناگزیر‘ ہے۔

ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔

محمد جعفر اسدی نے کہا ’امریکہ ہم سے مکمل ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتا ہے لیکن ایرانی قوم کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا ’اگر ہتھیار نہ ڈالے جائیں تو جنگ ہونا یقینی ہے۔‘ اے ایف پی


امریکہ بیروت کے مضافاتی علاقوں پر حملوں کی حمایت کرے گا : اسرائیل

اسرائیل نے منگل کو خبردار کیا کہ اگر حزب اللہ اسرائیلی شہروں کو نشانہ بناتی رہی تو اس کا اتحادی امریکہ اسے بیروت کے مضافاتی علاقوں میں حزب اللہ کے مضبوط ٹھکانوں پر حملوں سے نہیں روکے گا۔

اسرائیل کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حملے روکنے کے ایک معاہدے کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔

ٹرمپ کے اس اعلان کو کسی بھی فریق نے عوامی طور پر قبول نہیں کیا جب کہ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ لبنانی دارالحکومت کے جنوبی مضافات اب بھی ممکنہ اہداف ہیں۔ اے ایف پی


لبنانی ہسپتال کے قریب اسرائیلی حملوں میں چار اموات

لبنان کی وزارت صحت نے منگل کو بتایا کہ جنوبی شہر صور میں ایک ہسپتال کے قریب اسرائیلی حملوں میں چار افراد جان سے گئے اور 127 زخمی ہوئے، جن میں طبی عملے کے 39 افراد بھی شامل ہیں۔

وزارت صحت کے بیان کے مطابق جبل عامل ہسپتال کے زخمی عملے میں ’چار ڈاکٹر، 27 نرسیں اور آٹھ انتظامی اہلکار شامل ہیں، جن میں سے چار کی حالت تشویش ناک ہے اور انہیں انتہائی نگہداشت میں علاج دیا جا رہا ہے۔‘ اے ایف پی


ٹرمپ کے جنگ بندی اعلان کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ میں رات بھر جھڑپیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فریقین کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کے اعلان کے باوجود پیر اور منگل کی درمیانی شب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اے ایف پی کے مطابق رات گئے ہونے والی یہ جھڑپیں لبنان کے اس بیان کے بعد ہوئیں کہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے ’حملے دوطرفہ طور پر روکنے‘ کی امریکی تجویز قبول کر لی ہے۔ 

اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے متحارب فریقوں کو کشیدگی کم کرنے پر راضی کر لیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ دونوں فریقوں نے منگل کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکہ کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات سے قبل لڑائی روکنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

انہوں نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے انہیں کہا ہے کہ اسرائیل بیروت میں کوئی فوج نہیں بھیجے گا، جبکہ جو فوجی دستے پہلے ہی روانہ ہو چکے تھے انہیں واپس بلا لیا گیا ہے۔

 لبنان میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت نے، جس میں شدید بمباری اور دو دہائیوں میں اس کی سب سے گہری زمینی دراندازی شامل ہے، امریکہ اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ کی وسیع تر جنگ میں جنگ بندی کو ناکام بنانے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں ایران کے سپریم لیڈر کی موت کے جواب میں حزب اللہ نے دو مارچ کو اسرائیل پر راکٹ داغ کر لبنان کو اس تنازعے میں دھکیل دیا تھا۔ تہران کا مطالبہ ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے میں لبنان کو شامل کیا جائے۔


امریکہ سے معاہدے کے حتمی متن پر تہران میں بات چیت جاری: ایرانی میڈیا

دوسری جانب روئٹرز کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک قریبی ذریعے نے منگل کو مہر نیوز کو بتایا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تنازع ختم کرنے کے مقصد سے لائے گئے مجوزہ حتمی معاہدے کا ابھی تک جواب نہیں دیا ہے، اور تہران میں حتمی متن پر بات چیت جاری ہے۔

ذریعے کا کہنا تھا کہ ایران اس تجویز کا محتاط انداز میں جائزہ لے رہا ہے کیوں کہ اس کی نظر میں امریکہ کی جانب سے معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے کی ایک تاریخ اور دیرینہ عدم اعتماد موجود ہے۔

ذریعے نے کہا: ’گذشتہ تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا