ایران معاہدہ چاہتا ہے جو امریکہ اور ساتھ کھڑے تمام لوگوں کے لیے اچھا ہوگا: ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران واقعہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے جبکہ اسی دوران امریکہ اور ایران نے ایک بار پھر ایک دوسرے کی دفاعی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 31 مئی 2026 کو گالف کھیلنے کے بعد وائٹ ہاؤس واپسی پر میڈیا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے (اے ایف پی)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر  کو کہا کہ ایران واقعی امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور یہ معاہدہ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے لیے اچھا ہوگا۔

ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب چند گھنٹے قبل امریکی فوج نے کہا کہ اس نے ہفتے کے آخر میں ایران کے فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے، جبکہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ انہوں نے اس کے جواب میں ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا۔

یہ پیش رفت تین ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے دوران حالیہ کشیدگی کی ایک اور کڑی ہے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ: ’ایران واقعی معاہدہ کرنا چاہتا ہے، اور یہ امریکہ اور ہمارے ساتھ کھڑے تمام لوگوں کے لیے ایک اچھا معاہدہ ہوگا۔‘

تاہم ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ تنازعے کے گرد جاری سیاسی تبصروں کی وجہ سے ایران کے ساتھ مذاکرات کرنا ان کے لیے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے لیے اپنا کام درست طریقے سے کرنا اور مذاکرات کرنا بہت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے جب سیاسی لوگ مسلسل منفی باتیں کرتے رہتے ہیں، کبھی کہتے ہیں تیزی کریں، کبھی کہتے ہیں سست چلیں، کبھی کہتے ہیں جنگ کریں یا نہ کریں، اور اسی طرح کی باتیں بار بار کرتے رہتے ہیں۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’بس سکون سے بیٹھیں، آخر میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔‘

اس سے قبل جمعہ کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ جلد ہی ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے مجوزہ معاہدے پر فیصلہ کریں گے۔


ایران کے ریڈار اور ڈرون کنٹرول مراکز کو نشانہ بنایا: امریکہ

امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں ایران کے علاقے گوروک اور جزیرہ قشم میں ایرانی ریڈار اور ڈرون کنٹرول مراکز پر ’سیلف ڈیفنس‘ کے تحت حملے کیے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی تہران کی ’جارحانہ‘ سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سنٹ کام) نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ایران نے ایک امریکی MQ-1 ڈرون کو مار گرایا تھا، جو بین الاقوامی سمندری حدود کے اوپر پرواز کر رہا تھا۔

سینٹ کام کے مطابق، اس کے جواب میں امریکی جنگی طیاروں نے ایرانی فضائی دفاعی نظام، ایک گراؤنڈ کنٹرول سٹیشن اور خودکش نوعیت کے دو حملہ آور ڈرونز کو تباہ کر دیا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس کارروائی میں کسی بھی امریکی فوجی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔

گذشتہ ہفتے بھی دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ ایران نے ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی ڈرون آپریشن کو نشانہ بنانے کے لیے حملے کیے تھے۔


ایران کا امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایران کی ایلیٹ فورس پاسدارن انقلاب ’آئی آر جی سی‘ نے پیر کو کہا ہے کہ اس کی فضائیہ نے ایک ایسے فضائی اڈے کو نشانہ بنایا، جسے اس کے مطابق امریکہ نے جزیرہ سیریک پر ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے لیے استعمال کیا تھا۔

تاہم ایرانی حکام نے اس فضائی اڈے کی صحیح جگہ نہیں بتائی۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حملہ دراصل امریکی کارروائی کے جواب میں کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے اس اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے امریکی حملہ شروع کیا گیا تھا، اور اسے ایک ‘انتباہ’ کے طور پر بھی پیش کیا گیا۔

ایران نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ کی جانب سے مزید کارروائیاں ہوئیں تو اس کا جواب زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔

یہ واقعہ خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب جاری فوجی جھڑپوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کے حملوں کا جواب دے رہے ہیں۔


کویت میں سائرن، میزائل اور ڈرونز حملوں کو روکا گیا

کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’کونا‘ کے مطابق پیر کو ملک بھر میں سائرن بجنے لگے جبکہ کویت کے فضائی دفاعی نظام میزائلوں اور ڈرون حملوں کو فضا ہی میں تباہ کرنے میں مصروف رہا۔ تاہم حکام نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

رپورٹس کے مطابق کویت کے ایئر ڈیفنس سسٹمز نے آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کی کوشش کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرہ فوری اور حقیقی تھا۔

کویت خلیج کے اس حساس علاقے میں واقع ہے جہاں کئی امریکی فوجی تنصیبات بھی موجود ہیں، اس لیے ایسے حملوں کو علاقائی کشیدگی کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا