ٹرمپ نے ایران سے معاہدے کی شرائط ’مزید سخت‘ کر دیں: امریکی میڈیا

امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ نے معاہدے کی شرائط کو مزید سخت کرنے کی کوشش کی ہے اور نیا فریم ورک ایران کو دوبارہ غور کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 29 جنوری 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے کابینہ روم میں ہونے والے اجلاس کے دوران (برینڈن اسمیالوسکی / اے ایف پی)

امریکی میڈیا نے ہفتے کو رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے پیش کیے گئے مجوزہ معاہدے کی کئی شرائط میں تبدیلی کی ہے، جس کے باعث فریقین کے درمیان حتمی معاہدہ تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ نے معاہدے کی شرائط کو مزید سخت کرنے کی کوشش کی ہے اور نیا فریم ورک ایران کو دوبارہ غور کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

 حکام کے مطابق یہ واضح نہیں کہ تبدیلیاں کس نوعیت کی ہیں، تاہم ایکسِیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ نے معاہدے کے کئی نکات کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا ہے، خاص طور پر ایران کے جوہری مواد کے حوالے سے۔

یہ نئی ترامیم مذاکرات کو کئی دنوں تک طول دے سکتی ہیں، اس سے پہلے کہ فیصلہ ہو کہ آیا یہ معاہدہ اس جنگ کو ختم کرے گا جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔

امریکی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ معاہدے کی منظوری ٹرمپ کے دستخط کی منتظر تھی، لیکن جمعہ کو وائٹ ہاؤس کی سچویشن روم میٹنگ کے بعد بھی انہوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ان کی ترجیحات میں ایران کی جانب سے کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت اور ناکہ بندی شدہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہے، جس کے ذریعے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔

دوسری جانب امریکی فوج نے کہا کہ اس نے جمعے کو سمندری ناکہ بندی توڑ کر ایران جانے کی کوشش کرنے والے ایک جہاز کے انجن روم پر میزائل داغا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہفتے کو جاری بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ گیمبیا کے جھنڈے والے جہاز لیان اسٹار پر ’ہیل فائر میزائل‘ فائر کیا گیا، جب وہ بین الاقوامی پانیوں سے گزرتا ہوا خلیج عمان میں ایک ایرانی بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا۔

سینٹرل کمانڈ کے مطابق: حملے سے پہلے امریکی افواج نے جہاز کو 20 سے زیادہ وارننگز دیں کہ وہ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جہاز اب ایران کی طرف نہیں جا رہا، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

امریکی فوج کے مطابق، 13 اپریل سے ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 115 جہازوں کو دوبارہ رخ موڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا