پاکستان نے برطانیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے روچڈیل گرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کو متعدد لڑکیوں کے ساتھ ریپ اور جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے کی اجازت دی۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے شبیر احمد کے جرائم کی وجوہات برطانیہ میں پنہاں ہیں، ’جہاں وہ بڑے ہوئے، ان کی پرورش ہوئی، انہیں گروم کیا گیا اور بدقسمتی سے بگاڑا بھی گیا۔‘
73 سالہ شبیر احمد کو دو ہفتے قبل لائسنس پر جیل سے رہائی ملی تھی، جس کے بعد برطانیہ انہیں ان کے آبائی ملک پاکستان واپس بھیجنا چاہتا ہے۔ شبیر احمد نے بچوں سے ریپ کے 30 جرائم پر سنائی گئی 22 سال قید کی سزا میں سے 14 سال کاٹ لیے ہیں۔
اس ہفتے برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے نئے قوانین پیش کیے، جن کے ذریعے شبیر احمد کو ملک بدر کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ حکومت نے یہ انتباہ بھی دیا کہ اگر پاکستان نے انہیں واپس لینے سے انکار کیا تو اس پر ویزا پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ شبیر احمد، جو 60 سال قبل برطانیہ گئے تھے، کے معاملے سے برطانوی قوانین کے مطابق نمٹا جانا چاہیے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ پاکستان کا ’اس معاملے سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔‘
انہوں نے پہلی بار عوامی طور پر کہا کہ ان کی حکومت اس مجرم کو واپس نہیں لے گی۔
انہوں نے کہا: ’ان کے گھناؤنے جرائم اس بات کے متقاضی ہیں کہ سنجیدہ خود احتسابی کی جائے، نہ کہ بیرونی اسباب تلاش کیے جائیں۔‘
طاہر اندرابی نے مزید کہا: ’متعلقہ شخص برطانوی شہری ہیں، جنہوں نے اپنی پوری بالغ زندگی برطانیہ میں گزاری اور برطانوی سرزمین پر کیے گئے قابلِ نفرت جرائم پر انہیں برطانوی عدالت نے سزا سنائی۔
’اس کی رہائی، نگرانی یا قانونی حیثیت سے متعلق کوئی بھی فیصلہ مکمل طور پر برطانوی حکام کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے اور ان سے برطانیہ کے قوانین کے مطابق نمٹا جانا چاہیے۔‘
بقول طاہر اندرابی: ’ان کی پیدائش جہاں بھی ہوئی ہو، ذمہ داری اس جگہ پر عائد ہوتی ہے جہاں وہ بڑے ہوئے، ان کی پرورش ہوئی، انہیں تیار کیا گیا اور بدقسمتی سے بگاڑا گیا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا: ’برطانوی قانون کے تحت اس شخص کی رہائی یا اس کے بعد ان کے ساتھ کیے جانے والے کسی بھی سلوک سے ہمیں منسلک نہیں کیا جا سکتا۔‘
دوسری جانب پاکستانی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دی ٹائمز کو بتایا کہ پاکستان شبیر احمد کو واپس لینے کے لیے برطانیہ کی دھمکیوں کے آگے نہیں جھکے گا۔
دوسری جانب شبیر احمد کو اس رہائش گاہ سے منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ مقیم تھے، کیونکہ لنکاشائر کے علاقے ایکرنگٹن میں واقع اس مقام کی معلومات سوشل میڈیا پر سامنے آ گئی تھیں۔
شبیر احمد پر لائسنس کی متعدد شرائط عائد ہیں، جن میں منظور شدہ رہائش گاہ پر قیام بھی شامل ہے۔
ہنڈبرن اور ہیزلنگڈن سے لیبر پارٹی کی رکن پارلیمان سارہ سمتھ، جنہوں نے احمد کو اس قصبے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا، نے کہا: ’مجھے اس بات پر شدید غصہ ہے کہ انہیں پہلے کبھی یہاں رکھا گیا۔ میں اپنے دیگر رکنِ پارلیمان ساتھیوں کے مطالبے کی حمایت کرتی ہوں کہ ان کے لیے مزید وسیع اخراجی علاقہ مقرر کیا جائے تاکہ انہیں لنکاشائر یا شمال مغربی انگلینڈ میں کہیں بھی نہ رکھا جائے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’انہیں جلد از جلد ملک بدر کیا جانا چاہیے اور مجھے خوشی ہے کہ حکومت اس مقصد کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ میری پہلی ہمدردیاں ان کے متاثرین کے ساتھ ہیں۔ ان کی رہائی ان خواتین کے لیے ناقابلِ تصور صدمے کو دوبارہ زندہ کر دے گی، جن کی زندگیاں ان کے بھیانک جرائم کے باعث ہمیشہ کے لیے بدل گئیں۔‘
شبیر احمد اپنے سابقہ گھر، جو اولڈہم میں واقع ہے، واپس نہیں جا سکتے جبکہ ان پر روچڈیل کے بعض علاقوں میں داخلے پر بھی پابندی ہے۔
شبانہ محمود امیگریشن اینڈ اسائلم بل میں ترمیم کرنا چاہتی ہیں تاکہ 1971 کے امیگریشن ایکٹ کے تحت حاصل وہ قانونی تحفظ ختم کیا جا سکے، جو شبیر احمد کو ملک بدر کیے جانے سے روکتا ہے۔
تاہم اس کے لیے اسلام آباد کو شبیر احمد کو واپس لینے پر رضامند ہونا ہوگا اور برطانوی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ اگر پاکستان نے انہیں واپس نہ لیا تو ان پر ویزا پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ شبیر احمد نے پاکستانی شہریت ترک کر دی تھی اور اسی بنیاد پر وہ اسے واپس لینے سے انکار کر رہا ہے، تاہم برطانیہ اس دعوے سے اختلاف کرتا ہے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ممکن ہے انہوں نے اپنا پاسپورٹ پھاڑ دیا ہو، لیکن انہوں نے شہریت ختم کرنے کا مکمل قانونی عمل مکمل نہیں کیا۔
اطلاعات کے مطابق برطانیہ گذشتہ ایک سال سے شبیر احمد کی ملک بدری کے معاملے پر پاکستان سے مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان نے شبیر احمد کو واپس لینے کے بدلے برطانیہ سے دو سیاسی مخالفین کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔
© The Independent