کراچی میں آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع سرخ اینٹوں سے تعمیر شدہ کاٹن ایکسچینج کی عمارت ایک صدی سے زائد عرصے تک پاکستان کی کپاس کی تجارت کا مرکز رہی، جہاں روزانہ کپاس کے سودے طے ہوتے، قیمتوں کا تعین کیا جاتا اور ملک بھر سے آنے والے بروکرز اور ٹیکسٹائل صنعت سے وابستہ افراد جمع ہوتے تھے۔
مگر گذشتہ سال یہ عمارت سیل کر دی گئی ہے، جس کے بعد تمام سرگرمیاں بند ہیں اور اب کپاس کے تاجر شہر کے مختلف مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔
اگرچہ سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کاٹن ایسوسی ایشن (کے سی اے) کو عارضی ریلیف دیتے ہوئے عمارت میں کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی ہے، لیکن ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود انہیں تاحال عمارت میں واپس جانے کی اجازت نہیں ملی۔
کاٹن ایکسچینج کی عمارت کب تعمیر ہوئی؟
انڈومنٹ فنڈ ٹرسٹ کے مطابق 1860 کی دہائی میں کراچی ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر ابھرنا شروع ہوا اور ممبئی سے تاجر کراچی میں آ کر سندھ میں پیدا ہونے والی کپاس یورپ برآمد کرنے کا کروبار کرنے لگے۔
جب کاروبار عروج پر تھا تو 20 اپریل 1933 کو کراچی کاٹن ایشن ایسوسی ایشن قائم کی گئی۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس وقت کراچی میں آنے والی کپاس کی مقدار تقریباً 16 لاکھ گانٹھوں تک پہنچ چکی تھی۔
1936 میں ایسوسی ایشن نے وہ اراضی خریدی جہاں آج کراچی کاٹن ایکسچینج کی تاریخی عمارت قائم ہے۔ اس عمارت کی بنیاد 1938 میں رکھی گئی جبکہ 1940 کو اس عمارت کا افتتاح کے سی اے سیٹھ نیرنجن پرسادہ نے کیا۔
اسی عمارت میں تجارت کے فروغ کے ساتھ کراچی کپاس کی خرید و فروخت کا بڑا مرکز بنتا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ ادارہ کئی دہائیوں تک ملک میں کپاس کی منظم تجارت اور قیمتوں کے تعین کا مرکزی پلیٹ فارم رہا۔
کراچی کاٹن ایکسچینج روزانہ سپاٹ ریٹ جاری کرتی رہی، جنہیں کسان، ٹیکسٹائل ملز، برآمد کنندگان، بینک اور دیگر مالیاتی ادارے معیار کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
تنازع کیسے شروع ہوا؟
گذشتہ دسمبر کو ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ای ٹی پی بی) نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے تعاون سے عمارت کو سیل کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی کی ملکیت ہے۔
دوسری جانب کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ انہوں نے یہ جائیداد 1936 میں رجسٹرڈ دستاویز کے ذریعے حاصل کی تھی اور اس کی لیز 2081 تک مؤثر ہے۔
اس کارروائی کے بعد ایف آئی اے نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، کراچی کاٹن ایسوسی ایشن اور دیگر افراد کے خلاف مبینہ جعلی دستاویزات کے ذریعے ملکیت کا دعویٰ کرنے کا مقدمہ درج کیا۔ تاہم حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ نے اس مقدمے کو کالعدم قرار دے دیا۔
18 جون 2026 کو سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں 9 اگست 1963 کے متنازع نوٹیفکیشن کو معطل کرتے ہوئے کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کو کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی اور عمارت کی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے معاملہ 90 روز میں طے کرنے کی ہدایت کے ساتھ ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کے چیئرمین کو بھجوا دیا۔
پانچ ہزار افراد کا روزگار متاثر ہوا
کاٹن ایکسچینج بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان کہتے ہیں کہ پاکستان بننے سے پہلے قائم ہونے والی اس عمارت پر اب 1963 کے ایک نوٹیفکیشن کی بنیاد پر ملکیت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’12 دسمبر کو اچانک ای ٹی پی بی کے حکام پولیس کے ہمراہ آئے، ہمیں دفاتر خالی کرنے کو کہا اور اگلے ہی روز پوری عمارت سیل کر دی گئی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق عمارت میں 209 دفاتر قائم تھے، جہاں کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے تقریباً 320 رجسٹرڈ ممبران کاروبار کرتے تھے جبکہ لگ بھگ پانچ ہزار افراد کا روزگار براہِ راست یا بالواسطہ اس عمارت سے وابستہ تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ عمارت بند ہونے کے بعد کاروباری افراد کو شہر کے مختلف علاقوں میں منتقل ہونا پڑا، جس سے نہ صرف اخراجات بڑھے بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
نسیم عثمان کے مطابق کئی ماہ تک پاکستان کاٹن ایکسچینج کے روزانہ جاری ہونے والے سپاٹ ریٹس بھی معطل رہے، جس سے پوری کاٹن سپلائی چین متاثر ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ ’یہ ریٹ صرف خرید و فروخت کے لیے نہیں بلکہ ٹیکسٹائل ملز اور بینکوں کے لیے بھی بنیادی حوالہ ہوتے ہیں۔ قرضوں اور مالیاتی لین دین میں بھی انہی نرخوں کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔‘
ان کے مطابق 1990 کی دہائی کے وسط تک پاکستان کپاس کی پیداوار اور برآمدات میں دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار ہوتا تھا، مگر اب کپاس کے زیرِ کاشت رقبے میں مسلسل کمی اور گنے کی کاشت بڑھنے سے یہ شعبہ سکڑتا جا رہا ہے۔
ای ٹی پی بی اور وفاق کا مؤقف کیا ہے؟
عدالتی فیصلے کی نقول کے مطابق دورانِ سماعت پاکستان کی ڈپٹی اٹارنی جنرل شازیہ حنیف نے ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ اور ایف آئی اے کی نمائندگی کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی درخواستیں قابلِ سماعت نہیں کیونکہ ان میں ایسے حقائق پر مبنی تنازعے کا فیصلہ مانگا گیا ہے، جن کا تعین آئینی درخواست کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے مطابق کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جس لیز دستاویز پر انحصار کیا، وہ تحقیقات کے دائرے میں ہے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق وہ جعلی ہے۔
شازیہ حنیف نے یہ بھی کہا کہ 1963 کے گزٹ نوٹیفکیشن کو تقریباً چھ دہائیوں بعد چیلنج کیا گیا جبکہ اس تاخیر کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی گئی۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل کے مطابق تقسیم ہند سے قبل کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے 318 ارکان میں سے 306 ہندو تھے، جن کی ہجرت کے بعد ایسوسی ایشن عملی طور پر ختم ہو گئی، اس لیے یہ ادارہ متروکہ املاک کے قوانین کے تحت آتا ہے۔
18وہین ترمیم کے بعد یہ صوبائی معاملہ ہے
دورانِ سماعت کے ایم سی کے وکیل حیدر وحید نے موقف اختیار کیا کہ کے ایم سی ہی اس عمارت کی اصل کی مالک ہے جبکہ کے سی اے لیزیز ملکیت ہے۔ پہلے 99 سال کی لیز محمد صالح میمن کو ہوئی، جنہوں نے اس ملکیت کے حقوق کے سی اے کو دیے۔
پہلی لیز 11 دسمبر 1982 کو ختم ہوئی تو دوبارہ 99 سال کا لیز دیا گیا، جس کی مدت 2081 تک کی ہے۔
’اب ہر شخص الگ جگہ بیٹھ کر کاروبار کر رہا ہے‘
کراچی کاٹن ایکسچینج سے وابستہ ملازم آفتاب حسین، جو پہلے دفاتر کے بیرونی امور، دستاویزات کی ترسیل اور بینکوں سے متعلق کام انجام دیتے تھے، کہتے ہیں کہ عمارت سیل ہونے کے بعد پورا تجارتی نظام منتشر ہو گیا ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’پہلے سارا کاروبار ایک ہی جگہ سے چلتا تھا، مگر اب کوئی گودام میں بیٹھا ہے، کسی نے کلفٹن میں دفتر لے لیا ہے اور کچھ لوگ شہر کے دوسرے علاقوں سے کام کر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق کپاس کی خرید و فروخت جاری ہے، لیکن ایک ہی جگہ تمام فریق موجود نہ ہونے سے رابطوں، مذاکرات اور لین دین میں مشکلات اور اخراجات بڑھ گئے ہیں۔
بقول آفتاب: ’جولائی سے کپاس کا نیا سیزن شروع ہو چکا ہے، مگر بروکرز اور تاجر سب پریشان ہیں۔ اس کے باوجود ہر شخص کو جہاں جگہ ملی، وہیں سے روزگار چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو تشویش
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے 27 جون کو جاری ایک بیان میں تاریخی کاٹن ایکسچینج بلڈنگ کی مسلسل بندش پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
کے سی سی آئی کے صدر محمد ریحان حنیف کے مطابق عمارت کی بندش سے پاکستان کی کپاس کی تجارت، سینکڑوں کاروباری ادارے اور برآمدی شعبہ متاثر ہوا ہے۔ سرگرمیاں متاثر ہونے سے قیمتوں کے شفاف نظام میں خلل آیا اور پوری کاٹن ویلیو چین غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے 18 جون کے فیصلے کے باوجود کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کو عمارت سے کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کی اجازت پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا، اس لیے متعلقہ حکام عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور معاملے کو آئین اور قانون کے مطابق جلد از جلد حل کریں۔