کراچی میوزیم میں انڈین تیندوے سیمت کون سے جانوروں محفوظ ہیں؟

سندھ وائلڈ لائف میوزیم میں موجود تمام جانور ایسے ہیں جن کی قدرتی طور پر موت واقع ہوئی اور بعد ازاں انہیں ’ٹیکسی ڈرمی‘کے فن کے ذریعے محفوظ کیا گیا۔

کراچی میں واقع سندھ وائلڈ لائف میوزیم میں داخل ہوتے ہی لوگوں کی توجہ ایک ایسے نایاب تیندوے کے محفوظ شدہ نمونے پر جا ٹھہرتی ہے جو 2021 میں مبینہ طور پر انڈیا سے سرحد عبور کرکے سندھ کے صحرائی ضلع تھرپارکر پہنچا تھا۔

سندھ وائلڈ لائف میوزیم کے افسر عادل خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مقامی لوگوں نے ڈر کے مارے انڈین تیندوے کو زخمی کر دیا تھا۔ بعد ازاں اس کی موت واقع ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ’اس کی موت کے بعد محکمہ وائلڈ لائف نے اسے محفوظ کیا اور اب یہ میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے تاکہ لوگ سندھ میں پائی جانے والی نایاب جنگلی حیات سے آگاہ ہو سکیں۔‘

کراچی کے مرکز میں واقع سندھ وائلڈ لائف میوزیم تقریباً تین دہائیوں تک بند رہنے کے بعد بحال کیا گیا اور 26 فروری 2020 کو دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ میوزیم میں داخلہ مفت ہے اور سکولوں، کالجوں اور جامعات کے طلبہ کے علاوہ عام شہری بھی یہاں آتے ہیں۔

یہ میوزیم مولانا دین محمد وفائی روڈ پر واقع تاریخی عمارت ’فری میسنز لاج‘ میں قائم ہے۔ برطانوی دور میں 1914 میں تعمیر ہونے والی یہ عمارت کئی دہائیوں تک فری میسن سوسائٹی کے زیر استعمال رہی، تاہم بعد میں حکومت سندھ نے اسے محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کر دیا، جہاں اب سندھ کا واحد وائلڈ لائف میوزیم قائم ہے۔

عادل خان کے مطابق میوزیم میں موجود تمام جانور، پرندے اور رینگنے والے جانور ایسے ہیں جن کی قدرتی طور پر موت واقع ہوئی اور بعد ازاں انہیں ’ٹیکسی ڈرمی‘کے فن کے ذریعے محفوظ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’ٹیکسی ڈرمی ایک ایسا فن ہے جس میں جانور کی کھال کو احتیاط سے الگ کرکے مخصوص کیمیکلز سے محفوظ کیا جاتا ہے اور بعد میں فائبر سے تیار کردہ جسم پر نصب کیا جاتا ہے تاکہ اسے تعلیمی اور تحقیقی مقاصد کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔‘

میوزیم میں تقریباً 400 اقسام کے پرندوں، 180 اقسام کے رینگنے والے جانوروں اور 150 اقسام کے جنگلی جانوروں کے نمونے موجود ہیں۔ ان میں فشنگ کیٹ، جنگل کیٹ، فالکن، ہاک ڈئیر، نایاب اولیو رڈلے کچھوا اور دیگر کئی انواع شامل ہیں۔

میوزیم میں ہوبارا بسٹرڈ، جسے اردو میں تلور کہا جاتا ہے، کا نمونہ بھی رکھا گیا ہے۔ یہ ایک نایاب اور خطرے سے دوچار مہاجر پرندہ ہے جو ہر سال سردیوں میں سائبیریا سے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے پاکستان آتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے علاوہ سندھ میں پائے جانے والے زہریلے سانپوں، جن میں بلیک کوبرا اور انڈین کریٹ شامل ہیں، کے نمونے بھی میوزیم کا حصہ ہیں۔

عادل خان کے مطابق میوزیم میں 2004 میں ساحل پر مردہ حالت میں ملنے والی بلیو وہیل کی ہڈیاں بھی محفوظ کی گئی ہیں، جبکہ دریائے سندھ کی نایاب انڈس بلائنڈ ڈولفن ’بولہن‘ کا ڈھانچہ بھی یہاں موجود ہے، جو تحقیق اور تدریسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میوزیم میں جانوروں اور پرندوں کی تصاویر کے ساتھ ان کے سائنسی نام، رہائش گاہ اور دیگر معلومات بھی درج کی گئی ہیں تاکہ طلبہ اور محققین کو ایک ہی جگہ پر جامع معلومات میسر آسکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات