سندھ کے مینگرووز، پانی، زراعت اور توانائی کے وسائل اب صرف ماحولیاتی تحفظ کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ صوبے کے لیے کاربن کریدٹس کی شکل میں اربوں ڈالر کی ممکنہ آمدن کا راستہ بھی بن سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے والے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور ان منصوبوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کاربن کریڈٹس ایک ایسی عالمی منڈی کی شکل اختیار کر چکے ہیں جہاں حکومتیں اور کمپنیاں ان کی خرید و فروخت کرتی ہیں۔
سندھ حکومت بھی اب صوبے میں موجود قدرتی وسائل اور ماحول دوست منصوبوں کو اس عالمی منڈی سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے ذریعے ماحول کے تحفظ کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری، روزگار اور پائیدار معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
اسی مقصد کے تحت محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی سندھ کے زیر اہتمام چھ اگست کو کراچی میں ہونے والے ایک مشاورتی اجلاس میں کاربن مارکیٹس، کلائمیٹ فنانس، کاربن کریڈٹس، پانی، توانائی اور خوراک سے متعلق منصوبوں، بین الاقوامی سرمایہ کاری کے مواقع اور ماحول دوست ترقی کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سندھ میں ایسے منصوبوں کی نشاندہی کی جائے جو ماحول کے تحفظ کے ساتھ بین الاقوامی موسمیاتی اور کاربن فنڈز حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
حکام کے مطابق اس سے صوبے میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی ترقی، پانی اور توانائی کے مؤثر استعمال اور پائیدار معاشی ترقی کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔
کاربن کریڈٹ آخر ہے کیا؟
پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی سے کاربن مارکیٹس اور کلائمیٹ فنانس پر کام کرنے والی ماہر حفضہ رضوان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کاربن کریڈٹ بھی کسی دوسری تجارتی شے کی طرح ایک قابلِ خرید و فروخت اثاثہ ہے۔
انہوں نے کہا: ’اگر کسی منصوبے کے ذریعے ایک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ یا اس کے مساوی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی آتی ہے تو اس کے بدلے ایک کاربن کریڈٹ حاصل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر سولر انرجی استعمال کی جائے، میتھین کے اخراج میں کمی لائی جائے یا کسی اور ماحول دوست منصوبے سے اخراج کم کیا جائے تو ہر ایک ٹن کمی ایک کاربن کریڈٹ کے برابر شمار ہوتی ہے۔‘
ان کے مطابق یہ کریڈٹس مقامی اور عالمی کاربن مارکیٹس میں فروخت کیے جا سکتے ہیں۔
ان کے خریدار عموماً وہ ممالک یا کمپنیاں ہوتی ہیں جنہوں نے کاربن اخراج میں کمی کے اہداف مقرر کیے ہوتے ہیں لیکن خود اتنی کمی کرنا ان کے لیے مہنگا یا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے وہ ایسے منصوبوں کے کاربن کریڈٹس خرید لیتے ہیں، جنہوں نے حقیقی طور پر اخراج کم کیا ہو۔
حفضہ رضوان کے مطابق پاکستان کا ڈیلٹا بلیو کاربن منصوبہ اس کی نمایاں مثال ہے، جس کے کاربن کریڈٹس رضاکارانہ عالمی مارکیٹ میں مختلف اوقات میں تقریباً 15، 35 اور 50 ڈالر سے زائد فی کریڈٹ تک فروخت ہو چکے ہیں۔
پاکستان نے کاربن اخراج کم کرنے کا کیا ہدف مقرر کیا ہے؟
پاکستان نے 2016 میں اپنی پہلی نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشن (این ڈی سی) جمع کروائی، جسے 2021 میں اپ ڈیٹ کیا گیا، جبکہ ستمبر 2025 میں NDC 3.0 پیش کی گئی۔
اس کے تحت پاکستان نے 2035 تک متوقع گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 50 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اس ہدف میں 17 فیصد کمی غیر مشروط ہے، جبکہ باقی 33 فیصد کمی بین الاقوامی مالی معاونت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعدادِ کار میں اضافے سے مشروط ہے۔
حکومت قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، شجرکاری، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور جدید ویسٹ مینجمنٹ کو اس حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتی ہے۔
سندھ کہاں کھڑا ہے؟
سندھ حکومت اب ان قومی اہداف کو صوبائی سطح پر ایسے منصوبوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو ایک طرف اخراج میں کمی لائیں اور دوسری طرف عالمی کاربن مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کر سکیں۔
سیکریٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی سندھ فیصل عقیلی نے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت پاکستان کے موسمیاتی اہداف پر عمل درآمد کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’ہماری کوشش ہے کہ سندھ میں ایسے منصوبوں کی نشاندہی کی جائے جو نہ صرف ماحول کے تحفظ میں مددگار ہوں بلکہ بین الاقوامی موسمیاتی اور کاربن فنڈز بھی حاصل کر سکیں۔ ماحول محفوظ ہوگا تو معیشت بھی مضبوط ہوگی۔‘
ان کے مطابق دنیا بھر میں ایسے منصوبوں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جو کاربن کے اخراج میں کمی لاتے ہیں، جبکہ کاربن کریڈٹس کے ذریعے ان منصوبوں کے لیے مالی وسائل بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
پانی، زراعت اور توانائی میں کتنی گنجائش ہے؟
سندھ کے لیے کاربن مارکیٹ کا امکان صرف جنگلات یا مینگرووز تک محدود نہیں۔
ایگزیکیٹو ڈائریکٹر کلائمیٹ چینج اینڈ کاربن فنانس سید امداد علی شاہ کے مطابق سندھ میں پانی، توانائی اور زرعی شعبے میں کاربن کریڈٹس پیدا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا: ’اگر ہم فوسل فیول کی بجائے گرین انرجی استعمال کریں، پانی کے ضیاع کو کم کریں اور زرعی طریقہ کار کو جدید بنائیں تو نہ صرف پیداوار اور آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ میتھین اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں مزید کاربن کریڈٹس حاصل کیے جا سکیں گے۔‘
ان کے مطابق اس وقت سندھ میں صرف ایک کاربن کریڈٹ منصوبہ، ڈیلٹا بلیو کاربن، فعال ہے، جبکہ سندھ حکومت اور نجی شعبے کے تقریباً 13 نئے منصوبے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کو منظوری کے لیے بھجوائے جا چکے ہیں۔
یہ منصوبے اگر عالمی معیار کے مطابق منظور اور رجسٹر ہو جاتے ہیں تو صوبے کے لیے کاربن مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے کا دائرہ موجودہ مینگرووز کے منصوبوں سے کہیں آگے بڑھ سکتا ہے۔
ڈیلٹا بلیو کاربن: سندھ کا موجودہ ماڈل
سندھ کے لیے کاربن کریڈٹس سے آمدن کی سب سے نمایاں مثال ڈیلٹا بلیو کاربن منصوبہ ہے۔
محکمہ سرمایہ کاری سندھ کے مطابق ڈیلٹا بلیو کاربن-ون منصوبہ 2015 میں شروع کیا گیا، جو ٹھٹھہ اور سجاول میں تین لاکھ 50 ہزار ہیکٹر رقبے پر محیط ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس منصوبے میں 30 برس کے دوران پانچ کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جبکہ حاصل ہونے والے کاربن کریڈٹس کا 40 فیصد حکومت سندھ اور 60 فیصد نجی شراکت دار کو ملتا ہے۔
منصوبے کے تحت تقریباً دو لاکھ 25 ہزار ہیکٹر مینگرووز کے جنگلات کی بحالی اور تحفظ کیا جا رہا ہے، جس سے ساحلی علاقوں کے 60 دیہات کے 42 ہزار سے زائد افراد مستفید ہو رہے ہیں۔
2022 میں اس منصوبے کے پہلے کاربن کریڈٹس فروخت ہوئے، جن سے ایک کروڑ 47 لاکھ 47 ہزار امریکی ڈالر کی آمدن حاصل ہوئی۔
اس کامیابی کے بعد 2020 میں ڈیلٹا بلیو کاربن-ٹو منصوبہ بھی شروع کیا گیا، جو دو لاکھ 50 ہزار ہیکٹر رقبے پر محیط ہے۔
دونوں منصوبے مجموعی طور پر چھ لاکھ ہیکٹر سے زائد مینگرووز کے جنگلات کا احاطہ کرتے ہیں، جس کی بدولت سندھ بلیو کاربن بحالی کے شعبے میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔
کیا کاربن مارکیٹ سندھ کے لیے نئی معیشت بن سکتی ہے؟
سندھ کے پاس پہلے ہی ایک ایسا منصوبہ موجود ہے جس نے کاربن کریڈٹس کے ذریعے غیر ملکی آمدن حاصل کرنے کا عملی نمونہ پیش کیا ہے، جبکہ پانی، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں مزید منصوبوں کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر صوبے کے مجوزہ منصوبے عالمی معیار کے مطابق رجسٹر ہو کر کاربن مارکیٹ تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں تو سندھ کے لیے اس کے فوائد صرف کاربن کریڈٹس کی فروخت تک محدود نہیں رہیں گے۔
ایسے منصوبے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری، روزگار اور زرعی ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں، جبکہ پانی اور توانائی کے زیادہ مؤثر استعمال اور پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد بھی بن سکتے ہیں۔
یوں سندھ کے مینگرووز، پانی، زراعت اور توانائی کے وسائل مستقبل میں صرف ماحولیاتی اثاثے نہیں بلکہ ایک ایسی معاشی قدر بھی بن سکتے ہیں جسے عالمی کاربن مارکیٹ میں فروخت کیا جا سکے۔