سیٹلائٹ سے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی 40 سالہ نگرانی ممکن: سپارکو

سپارکو کے مطابق سیٹلائٹ ڈیٹا سے جنگلات، گلیشیئرز، فضائی معیار، آبی گزرگاہوں اور زمین کے استعمال میں تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے گا، معلومات کو پالیسی سازی اور آفات سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

کراچی میں پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو)  کے سمپوزیم میں ماہرین نے کہا ہے کہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی نہ صرف نگرانی کی جا سکتی ہے بلکہ گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا تجزیہ بھی ممکن ہے۔

’سپیس فار کلائمیٹ‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے سمپوزیم میں موسمیاتی تبدیلی، ساحلی علاقوں، مینگروز، سمندری پانی کی مداخلت، خشک سالی، ہیٹ ویو، آبی گزرگاہوں، زمینی احاطے اور فصلوں کی نگرانی میں خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال پر گفتگو کی گئی۔

سپارکو کے ڈائریکٹر جنرل سپیس فار کلائمیٹ انیشی ایٹو ڈاکٹر محمد فاروق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’سپیس فار کلائمیٹ‘ اقدام کا بنیادی مقصد سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہم اشاریوں کی باقاعدگی سے نگرانی کرنا ہے۔

ان کے مطابق اس سلسلے میں جنگلات، گلیشیئرز اور برف، فضائی معیار، گرین ہاؤس گیسز، آبی گزرگاہوں اور زمین کے استعمال میں تبدیلیوں سمیت مختلف شعبوں کا سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے مسلسل جائزہ لیا جائے گا۔

ڈاکٹر محمد فاروق نے کہا کہ ’صرف سیٹلائٹ ڈیٹا اکٹھا کرنا مقصد نہیں، بلکہ اس کا تجزیہ کرکے یہ معلوم کرنا ہے کہ گذشتہ 10، 20 یا 40 برسوں کے دوران ان شعبوں میں کیا تبدیلیاں اور رجحانات سامنے آئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس تجزیے کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے متعلق معلومات کو عملی اقدامات اور پالیسی سازی کے لیے استعمال کرنا ہے۔

ان کے مطابق ’سپیس فار کلائمیٹ‘ اقدام پر کام گذشتہ برس شروع کیا گیا تھا، تاہم اسے باضابطہ طور پر 23 مارچ 2026 کو لانچ کیا گیا۔

ڈاکٹر محمد فاروق نے بتایا کہ اس اقدام کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت مختلف متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ان کی ضروریات اور ڈیٹا میں موجود خلا کی نشاندہی کی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس اس وقت آٹھ اپنے سیٹلائٹس ہیں، جن میں چھ ارتھ آبزرویشن یا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس شامل ہیں۔

ان کے مطابق تین سیٹلائٹس 50 سینٹی میٹر تک کی ریزولوشن میں تصاویر فراہم کرتے ہیں، جبکہ ایک سیٹلائٹ ریڈار ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جو رات کے وقت اور بادلوں کی موجودگی میں بھی زمین کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر مختار نے بتایا کہ پاکستان کے پاس ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ بھی موجود ہے، جبکہ سپارکو اپنے سیٹلائٹس کے علاوہ دیگر خلائی اداروں اور سائنسی مشنز سے دستیاب ڈیٹا بھی استعمال کرتا ہے اور اسے پاکستان کی ضروریات کے مطابق تجزیاتی معلومات میں تبدیل کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کی سرحدوں سے باہر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے کیونکہ ’موسمیاتی تبدیلی سرحدوں کو فالو نہیں کرتی۔‘

سیٹلائٹ ڈیٹا پالیسی سازی میں کیسے مدد دے سکتا ہے؟

سپارکو کے ممبر اسپیس ایپلی کیشنز اینڈ ریسرچ ظفر اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’سپیس فار کلائمیٹ‘ ایک ڈیجیٹل اقدام ہے، جس کا مقصد پالیسی سازوں، فیصلہ سازوں، ماہرین تعلیم اور عام لوگوں کو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کی نگرانی کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں سیمینارز منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مسائل، ضروریات اور ڈیٹا میں موجود خلا کو سمجھا جا سکے۔

ظفر اقبال کے مطابق سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات پالیسی سازوں اور فیصلہ سازوں کو زیادہ بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اگر آپ کے پاس بہتر معلومات ہوں گی تو آپ بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں اور اس کا اثر بالآخر عام آبادی پر پڑتا ہے، چاہے وہ کسی صوبے، ضلع یا ملک کے کسی بھی حصے میں رہتی ہو۔‘

سندھ میں موسمیاتی خطرات

کراچی میں منعقدہ سمپوزیم میں سندھ اور پاکستان کو درپیش مختلف موسمیاتی خطرات پر بھی گفتگو ہوئی، جن میں سیلاب، ہیٹ ویو، فضائی آلودگی، آبی وسائل میں تبدیلی، ساحلی علاقوں کو درپیش خطرات اور ماحولیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔

سپارکو کے مطابق سمپوزیم کا مقصد سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی موسمیاتی معلومات کو صوبائی اور قومی سطح پر فیصلہ سازی، آفات سے نمٹنے، زراعت، آبی وسائل کے انتظام، شہری منصوبہ بندی اور ماحولیاتی تحفظ میں استعمال کرنے کے امکانات کو اجاگر کرنا تھا۔

تقریب میں ’سپیس فار کلائمیٹ جیو اسپیشل پورٹلز‘ کا لائیو مظاہرہ بھی کیا گیا، جس کے ذریعے سیٹلائٹ پر مبنی معلومات کو مختلف ماحولیاتی اشاریوں کی نگرانی کے لیے استعمال کرنے کا طریقہ دکھایا گیا۔

سپارکو کے مطابق ان پورٹلز میں پاکستان کے سیٹلائٹ اثاثوں، جن میں PRSS-1، SAR-1، EO سیریز اور ہائپر اسپیکٹرل صلاحیتیں شامل ہیں، سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو یکجا کیا جاتا ہے۔

اس ڈیٹا کے ذریعے گرین ہاؤس گیسز، ہوا کے معیار، گلیشیئرز، برف، آبی گزرگاہوں، زمینی احاطے اور ساحلی ماحولیاتی نظام سمیت مختلف ماحولیاتی اشاریوں کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔

سمپوزیم کے تکنیکی سیشنز میں آبی گزرگاہوں اور زمینی احاطے کی حرکیات، فصلوں کی نگرانی، فضائی معیار، ماحولیاتی تشخیص اور ہیٹ ویو کے خطرات کا جائزہ لینے کے موضوعات زیرِ بحث آئے۔

اس موقع پر ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے سیٹلائٹ ڈیٹا اور جیو اسپیشل ٹیکنالوجی کو سرکاری منصوبہ بندی اور آفات سے نمٹنے کے نظام کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔

کراچی میں ہونے والا یہ سمپوزیم ’سپیس فار کلائمیٹ‘ کے تحت ملک کے سات شہروں میں ہونے والے قومی و صوبائی سمپوزیمز کے سلسلے کی چوتھی کڑی تھی۔ اس سے قبل پشاور میں 23 جولائی، گلگت میں 5 اگست اور لاہور میں 27 اگست کو سمپوزیم منعقد کیے گئے تھے، جبکہ اسلام آباد، کوئٹہ اور مظفرآباد میں بھی ایسے اجتماعات منعقد کیے جانے ہیں۔

سمپوزیم کے اختتام پر سرکاری اداروں میں ’سپیس فار کلائمیٹ‘ خدمات کو ادارہ جاتی سطح پر اپنانے، سائنسی اور سرکاری اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے، جیو اسپیشل ٹیکنالوجی میں صلاحیت سازی اور موسمیاتی معلومات کی عملی خدمات کی ترقی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات