سو سال پرانا باغ، کم ہوتا پانی اور بدلتا موسم

بظاہر یہ ایک عام باغ لگتا ہے، لیکن یہ باغ کوئٹہ کے اس دور کی نشانی ہے جب شہر کے گرد سینکڑوں باغات ہوا کرتے تھے لیکن آج ان باغات میں سے صرف چند ہی باقی رہ گئے ہیں۔

کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر واقع اس باغ میں داخل ہوں تو انگور کی بیلوں سے لٹکتے خوشے فوراً توجہ کھینچ لیتے ہیں۔

بظاہر یہ ایک عام باغ لگتا ہے، لیکن یہ باغ کوئٹہ کے اس دور کی نشانی ہے جب شہر کے گرد سینکڑوں باغات ہوا کرتے تھے لیکن آج ان باغات میں سے صرف چند ہی باقی رہ گئے ہیں۔

یہ باغ ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے۔ اس کے مالک 70 سالہ محمد یونس شاہوانی کے مطابق اسے ان کے دادا نے لگایا تھا۔ ان کے بعد ان کے والد نے اس کی دیکھ بھال کی اور اب تیسری نسل اس باغ کو سنبھال رہی ہے۔

شاہوانی کے مطابق ان کے اندازے میں یہ باغ کم از کم 125 سے 135 سال پرانا ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ عمر کا ہو سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب یہاں دور دور تک انگور کے باغات نظر آتے تھے۔ صرف ان کے خاندان کے پاس 20 سے 25 ایکڑ پر انگور کے باغات تھے جبکہ مجموعی رقبہ 35 سے 40 ایکڑ تک پھیلا ہوا تھا، جہاں انگور کے ساتھ خوبانی کے درخت بھی موجود تھے۔

شاہوانی کے مطابق خشک سالی اور پانی کی کمی نے نہ صرف ان کے باغ کو متاثر کیا بلکہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں باغات تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

’ماضی میں ان کے باغ کی پیداوار بلوچستان سے نکل کر پنجاب اور سندھ کے مختلف شہروں تک پہنچتی تھی۔ رحیم یار خان، صادق آباد، ملتان، گھوٹکی، خیرپور اور لاڑکانہ تک انگور بھیجے جاتے تھے۔‘

شاہوانی کے مطابق آج باغ کو زندہ رکھنا ہی سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

محمد یونس شاہوانی کو اپنا بچپن آج بھی یاد ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے تو اگست کے آخر میں بھی صبح کے وقت باغ میں اتنی سردی ہوتی تھی کہ انگور توڑنے سے پہلے آگ تاپنی پڑتی تھی۔

’گھاس اور شالی جلا کر آگ بنائی جاتی، لوگ کچھ دیر اس کے گرد بیٹھتے اور پھر انگور توڑنے کا کام شروع کرتے۔‘

شاہوانی کہتے ہیں کہ شام کے وقت بھی موسم ٹھنڈا ہوتا تھا اور کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا جیسے زیارت کا موسم ہو۔

’اگست میں گرمی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ باغ میں کام کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق یہ تبدیلی صرف موسم میں نہیں بلکہ باغات اور پانی کے پورے نظام میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

کبھی ان باغات کی زندگی کاریزوں سے جڑی ہوئی تھی۔

یونس شاہوانی کے مطابق پہلے پہل پہاڑوں سے آنے والا پانی کاریزوں کے ذریعے ان باغات تک پہنچتا اور مسلسل بہتا رہتا تھا۔ نہ بجلی کی ضرورت تھی اور نہ بھاری مشینری کی۔ ’پہلے پانی 24 گھنٹے آتا تھا، کاریز کا پانی ایک نعمت تھا۔‘

لیکن وقت کے ساتھ کاریزیں خشک ہونے لگیں۔ پھر کنویں کھودے گئے، اس کے بعد بورنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔

ان کے مطابق ایک وقت تھا جب 400 سے 500 فٹ کی گہرائی میں پانی مل جاتا تھا۔ پھر سبمرسیبل پمپ آئے اور کچھ عرصے کے لیے مسئلہ حل ہوتا نظر آیا، مگر پانی کی سطح مسلسل نیچے جاتی رہی، اب بعض جگہوں پر 1200، 1300 بلکہ 1400 فٹ تک گہرائی سے پانی نکالنا پڑتا ہے۔

پانی جتنا نیچے گیا، اسے حاصل کرنے کی قیمت بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔

شاہوانی کے مطابق آج اگر ٹیوب ویل یا اس کی مشینری خراب ہو جائے تو مرمت پر ایک لاکھ روپے سے زیادہ خرچ آ سکتا ہے۔ اگر مشین ایک سال میں کئی بار خراب ہو جائے تو باغ سے حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ اسی خرچ میں چلا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’پہلے پانی بہت تھا، سہولت بہت تھی، سکون بہت تھا۔ آج کل خرچے بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔‘

پانی کی کمی کے باوجود اس قدیم باغ میں آج بھی انگور کی تقریباً 20 اقسام موجود ہیں، ان میں ایٹم رائل، میٹرو بین، بیروئی، کالا کشمش، تھور، ریڈ گلوب، مختلف اقسام کی کشمش، لال انگور، خوشبودار انگور، کھلمک، کھڈک اور شوخلی سمیت کئی اقسام شامل ہیں۔

بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر اور محقق ڈاکٹر نجیب اللہ کہتے ہیں کہ شہر میں زیرِ زمین پانی کی سطح کئی دہائیوں سے مسلسل کم ہو رہی ہے اور نگرانی کے لیے قائم کیے گئے 177 کنوؤں میں سے 140 خشک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

کوئٹہ شہر کے لیے یہ مسئلہ اس لیے بھی سنگین ہے کہ یہاں کوئی بڑا باقاعدہ دریا یا ایسا سطحی آبی نظام موجود نہیں جس پر شہر مکمل طور پر انحصار کر سکے۔ نتیجتاً آبادی، زراعت اور دیگر ضروریات کے لیے زیرِ زمین پانی پر انحصار بڑھتا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پانی زیادہ نکالا گیا، مگر زمین کے اندر اس کی جگہ لینے والا پانی اتنی تیزی سے واپس نہیں پہنچ سکا۔‘

یہ صورتحال اب صرف کوئٹہ تک محدود نہیں۔ پشین، قلعہ عبداللہ، مستونگ اور قلات سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی زیرِ زمین پانی کی کمی ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

اگر زیرِ زمین پانی اسی طرح نیچے جاتا رہا تو کیا یہ سو سال پرانا باغ اگلی نسل تک پہنچ پائے گا؟

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات