ڈراموں میں ماں کے کردار کے لیے کیا اداکارائیں کم پڑ گئی ہیں؟

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی ڈراموں کی مائیں بھی اب زیادہ بااختیار ہوچکی ہیں۔

صبا حمید کا ڈرامے ’دار نجات‘ میں  فرحان کی والدہ کا کردار ادا کر رہی ہیں (ڈراما سکرین گریب)

ان دنوں یہ بحث جاری ہے کہ آخر صبا حمید نے ایک ڈرامے میں فرحان طاہر کی والدہ کا تو دوسرے میں فرحان کی ہی شریک سفر کا کردار کیسے کر لیا؟ یہاں پروڈکشن ٹیموں پر بھی اعتراض کیا جا رہا ہے کہ کیا انہیں صبا حمید کے علاوہ کوئی دوسری اداکارہ نہیں ملی جو ماں یا پھر اہلیہ کا کردار ادا کر پاتی؟

ناقدین کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ پاکستانی ڈراموں میں اب والدہ کے کردار کے لیے گھوم پھر کر دو ہی اداکارہ رہ گئی ہیں جن کا انتخاب تواتر کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ایک صبا حمید ہیں تو دوسری صبا فیصل، ہر دوسرے ڈرامے میں پروڈکشن ہاؤسز ان ہی دو سینیئر فنکاراؤں کو ماں کے روپ میں چن لیتے ہیں۔

یہاں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا پاکستانی ڈراموں میں اب ماں کے اہم کردار کے لیے اداکارائیں کم پڑ گئی ہیں؟

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پاکستانی ڈراموں میں والدہ کا کردار ہمیشہ خاص رہا ہے بلکہ کئی ڈراموں میں یہ ہی سکرپٹ کا بنیادی جُز ہوتا ہے۔ ماضی میں اس اہم کردار کے لیے بیگم خورشید مرزا، بیگم خورشد شاہد، ذہین طاہرہ، قیصر نقوی، عذرا شیروانی، عشرت ہاشمی، عرش منیر، نگہت بٹ اور طلعت صدیقی جیسی فنکارائیں بھرپور انداز میں اپنا دیرپا اثر چھوڑ جاتیں۔

 

یہ وہ مائیں ہوتیں جو خاندان کو جوڑنے اور اولاد کی بہتر تربیت کے لیے سر توڑ جدوجہد کرتیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کردار ڈرامے کی کہانی بڑھانے کے لیے بلکہ اپنے اندر سماجی اور جذباتی پیغام کی بھی کشش رکھتے گویا مائیں صرف کردار نہیں بلکہ پورا گھر ہوتیں۔   

بھلا کیسے بھول سکتے ہیں بیگم خورشید مرزا کے ڈراموں انکل عرفی، شمع، افشاں اور انا کو، جن میں انہوں نے ماں کے شفیق اور حلیم روپ کی عکاسی کی۔ اسی طرح بیگم خورشید شاہ جب سمندر، تیسرا کنارہ، ساحل یا پھر من چلے کا سودا میں نظر آئیں تو اپنے کرداروں سے ناظرین کے دل جیت لیے۔ بالخصوص ’فہمیدہ کی کہانی استانی رحمت کی کہانی‘ میں وہ اپنی فنکاری کے عروج پر نظر آئیں، اس کردار کو دیکھ کر لگا جیسے واقعی وہ کوئی استانی ہوں۔

ذہین طاہرہ نے ڈراما سیریل ’خدا کی بستی‘ میں کمال کر دکھایا تو عشرت ہاشمی اپنے سخت گیر، تیز و طرار اور کاٹ دار لب و لہجے کی وجہ سے مشہور ہوئیں۔ عرش منیر کا انداز ہلکا پھلا ایسا رہا جس نے سب کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کا کام دیا۔ نگہت بٹ اور طلعت صدیقی نے نرم اور ملائم لب و لہجے والی لیکن فکرمند والدہ کے روپ میں دلوں پر حکمرانی کی۔  

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی ڈراموں کی مائیں بھی اب زیادہ بااختیار ہوچکی ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو صرف باورچی خانے یا گھر گرہستی تک محدود نہیں رکھا بلکہ وہ زندگی کی گاڑی کھینچنے کے لیے ملازمت بھی کرتی ہیں اور کہیں اولاد کے فیصلوں پر خود کو حاوی ہونے کی جستجو میں بھی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جیسا 2024 میں نشر ہونے والے ڈراما سیریل ’نور جہاں‘ میں دکھایا گیا۔ اسی طرح ڈراما سیریل ’ تیرے بن‘ کی ماں کے روپ میں بشریٰ انصاری نے ایک ایسی طاقتور، سخت مزاج اور بااصول ماں کا کردار ادا کیا جس کا اثر صرف گھر تک محدود نہیں بلکہ پورے خاندان کے فیصلوں پر نظر آیا۔

اسی طرح سکینہ سموں ڈراما سیریل ’قرض جاں‘ اور ’لوگ کیا کہیں گے‘ میں سخت گیر ماں کے طور پر پیش ہوئیں جن میں ان کے مکالمات تو کم تھے لیکن اپنے رویے اور چہرے کے تاثرات سے انہوں نے خود اور زیادہ ممتاز بنایا۔ ڈراما سیریل ’زندگی گلزار ہے‘ میں ثمینہ پیرزادہ کا کردار بھی موضوع بحث رہا۔ انہوں نے  ایسی والدہ کا کردار نبھایا جو بیٹیوں کی تعلیم کے لیے سماج کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہوئیں۔

حالیہ برسوں میں اس خوش گوار تبدیلی یہ آئی ہے کہ ماضی کی شہرت یافتہ اداکارائیں اب والدہ کے کردار کو ادا کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کر رہیں۔ جبھی تو ’پری زاد‘ میں ہما نواب نے یمنیٰ زیدی کی والدہ کا کردار ادا کیا۔ حنا خواجہ بیات ڈراما سیریل ’ایک اور پاکیزہ‘ میں چرب زبان والدہ کا روپ نبھایا۔ ارجمند رحیم ڈراما سیریل ’شیر‘ میں تنہائی اور ماضی کے ناکام پیار  کے ساتھ زندگی گزارنے والی خاتون کا کردار نبھاتی ہیں۔

ڈراما سیریل ’تن من نیلو نیل‘ میں نادیہ افگن ایک ایسی دل شکستہ خاتون بنیں جو شوہر کی پراسرار  خاموشی کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سمیہ ممتاز ان دنوں ڈراما سیریل ’زنجیریں‘ میں اپنے ماں کے طاقت ور کردار کی وجہ سے پسند کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح شگفتہ اعجاز’میری بہوئیں‘ میں نمایاں رہیں جبکہ فضیلہ قاضی، مرینہ خان، عتیقہ اوڈھو، ثانیہ سعید، عروسہ غزل، نازلی نصر، جویریہ سعود، ماریہ واسطی اور جویریہ عباسی یہ وہ اداکارائیں ہیں جو ہنسی خوشی ماں کے کردار مختلف ڈراموں میں ادا کر رہی ہیں۔

بہرحال سوال یہ نہیں کہ صبا حمید نے ایک ڈرامے میں ماں اور دوسرے میں شریکِ سفر کا کردار کیوں ادا کیا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ  سینیئر فنکاراؤں کی ایک بڑی تعداد ہونے کے باوجود کیا پاکستانی ڈراما ڈائریکٹرز اب بھی کرداروں کے انتخاب میں کچھ مخصوص چہروں سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں یا یہ محض اتفاق ہے کہ دونوں ڈرامے ایک ہی وقت نشر ہو رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن