آج شاید ہی کوئی واقف ہو کہ 1911 سے 1920 کے درمیان نورا رچرڈز لاہور کی علمی و ثقافتی تاریخ کا ناقابل فراموش کردار تھیں۔
وزیرستان کے دو نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک اردو ڈرامہ تخلیق، لکھا، شوٹ اور ایڈیٹ کیا ہے، جو انٹرنیٹ پر ریلیز ہونے کے بعد غیر معمولی حد تک مقبول ہوا۔