’روم فار ریور‘ کیا گلگت بلتستان کو بچا سکتا ہے؟

اس منصوبے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ دریا کو مصنوعی طور پر محدود کرنے کی بجائے اسے قدرتی طور پر پھیلنے اور سیلابی پانی کے لیے اضافی گزرگاہ اور جگہ فراہم کی جائے۔

گلگت بلتستان کے علاقے غذر میں گذشتہ دنوں گلیشیئر پھٹنے سے زیر آب آنے والے دیہات کے رہائشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے (ریسکیو 1122)

نیپال میں تباہ کن سیلاب نے نہ صرف گھروں کو ملیامیٹ کیا بلکہ بڑی تعداد میں جانی نقصان بھی ہوا۔ اس قدرتی آفت کے اثرات اور اس سے پیدا ہونے والے خدشات گلگت بلتستان کے لیے بھی ایک تشویش ناک صورتِ حال کی نشاندہی کرتے ہیں کیونکہ گلگت بلتستان وہ واحد خطہ ہے جہاں گلیشیئرز کی بڑی تعداد موجود ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے باعث یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ گ۔شتہ چند برسوں کے دوران بھی خطے کے مختلف علاقوں میں اچانک آنے والے سیلابی ریلوں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات نے آبادیوں، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ تمام حقائق اپنی جگہ لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ مستقبل میں اس طرح کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس کیا لائحہ عمل ہے؟ یہ ہی وہ بنیادی سوال ہے جس کے بارے میں ہم سب کو سوچنے کی ضرورت ہے۔

نیدرلینڈز میں 1993 اور 1995 کے تباہ کن سیلابوں نے حکام کو روایتی سیلابی بندوبست کے طریقہ کار پر ازسرِنو غور پر مجبور کیا۔ ان سیلابوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خطرہ پیدا ہوا اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ چنانچہ نیدرلینڈز نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے ایک منفرد اور پائیدار حکمتِ عملی اختیار کی جسے ’Room for the River‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس منصوبے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ دریا کو مصنوعی طور پر محدود کرنے کی بجائے اسے قدرتی طور پر پھیلنے اور سیلابی پانی کے لیے اضافی گزرگاہ اور جگہ فراہم کی جائے۔ اس مقصد کے لیے بعض مقامات پر دریا کے سیلابی میدان بحال کیے جاتے ہیں، دریائی راستوں کو کشادہ کیا جاتا ہے اور ایسی آبادیوں و تنصیبات کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے جہاں سیلاب کا خطرہ زیادہ ہو۔ یوں ایک طرف سیلاب کے خطرات میں کمی آتی ہے تو دوسری طرف دریائی ماحولیاتی نظام اور قدرتی ماحول بھی بہتر ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گلگت بلتستان کی جغرافیائی صورتِ حال کو دیکھا جائے تو یہاں بھی اس تصور سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ خطے کے متعدد علاقے دریاؤں، ندی نالوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں کے قریب آباد ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئرز کے پگھلاؤ، اچانک آنے والے سیلابوں اور دریاؤں میں پانی کے غیر معمولی بہاؤ کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ چند دہائیوں کے دوران ایسے واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ محض ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ مستقل اور دوراندیش منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

اس تناظر میں گلگت بلتستان میں ’Room for the River‘ جیسے منصوبے پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ دریاؤں اور ندی نالوں کے قدرتی راستوں پر قائم آبادیوں کا سروے کیا جائے خطرناک علاقوں کی نشاندہی کی جائے اور جہاں ضروری ہو وہاں آبادیوں کو بتدریج محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔ ساتھ ہی قدرتی آبی گزرگاہوں کو تجاوزات سے پاک کرکے ان کے لیے مناسب گنجائش برقرار رکھی جائے۔ اس طرح ہم نہ صرف انسانی جانوں اور املاک کو ممکنہ تباہی سے محفوظ بنا سکتے ہیں بلکہ گلگت بلتستان کے قدرتی دریائی ماحول کو بھی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم سیلاب کو صرف ایک ہنگامی آفت سمجھنے کے بجائے قدرتی نظام کا حصہ تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ رہنے اور اس کے اثرات کو دانش مندانہ منصوبہ بندی کے ذریعے کم کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کریں۔

ہمارے ہاں ایک بڑی خامی یہ ہے کہ ہم آفات سے پہلے موثر حکمتِ عملی اختیار کرنے کے بجائے پانی سر سے گزرنے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ مالی امداد اگرچہ ضروری ہے مگر یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قدرتی آفات کے ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی کرکے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے اور اس پر بروقت عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات