پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کو استنبول میں ترکی کے وزیر دفاع یاشار گولر سے ملاقات کی، جہاں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج ہو رہا ہے۔
مکہ معاہدہ کمیٹی کے افتتاحی اجلاس میں تینوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندے شرکت کرے رہے ہیں جہاں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے علاوہ وزیر دفاع خواجہ آصف اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کر رہے ہیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ و دفاع کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے چیفس آف جنرل سٹاف بھی اجلاس میں شریک ہیں۔
ترکی کی وزارت قومی دفاع نے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں بتایا کہ یاشار گولر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں ترکی کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل سلچوک بائراکتار اوغلو بھی شریک تھے۔
وزارت کی جانب سے جاری ویڈیو میں دونوں وزرائے دفاع کو ملاقات سے قبل ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یاشار گولر نے اس کے علاوہ اپنے پاکستانی ہم منصب خواجہ آصف سے بھی ملاقات کی۔
دفاعی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی پر غور
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے رواں ماہ کے اوائل میں مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کی تین اہم طاقتوں کو ایک دفاعی فریم ورک میں لاتا ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد مسلم جوہری ملک ہے، ترکی نیٹو کا اہم رکن ہے جبکہ سعودی عرب خطے کی بڑی معاشی طاقت اور خلیج میں نمایاں اثر و رسوخ رکھنے والا ملک ہے۔
ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’انادولو‘ کے مطابق سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا مقصد تین ملکی معاہدے کے تحت ہونے والی سرگرمیوں کے لیے سٹریٹجک سمت متعین کرنا ہے۔
اجلاس میں بین الاقوامی سلامتی کی صورت حال، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی بڑھانے کے امور پر غور متوقع ہے۔
تینوں ممالک دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے، مشترکہ پیداوار اور تحقیق و ترقی کے منصوبوں کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی کی مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بات چیت کریں گے۔
پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔ پاکستان کے مطابق دیگر ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں، تاہم انہیں اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرنا ہوگی۔