نیپال: سیلاب سے متاثرہ علاقے کے طلبہ کو اساتذہ نے کیسے بچایا؟

شمالی نیپال اور ضلع دھادھنگ کے علاقے گالچھی میں سکولوں کے سینکڑوں طلبہ سیلابی ریلے کی زد میں آنے سے بچ گئے۔

نیپال کے علاقے گالچھی کے ایک سکول کی طالبہ سیلابی ریلوں کے ساتھ آنے والی کیچڑ سے نکالے گئے بستوں کے ڈھیر میں اپنا بستہ تلاش کر رہی ہے (اے پی)

نیپال میں بدھ کے تباہ کن سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک میں سکول کے بچوں کا ایک گروپ اس لیے محفوظ رہا کیوں کہ بچے دوپہر کے کھانے کے وقفے کے لیے اپنی کلاس سے باہر چلے گئے تھے۔

ضلع دھادنگ کے علاقے گالچھی میں واقع شری باگیشوری مادھیامک سکول کی دیگر کلاسوں میں موجود طلبہ بھی سیلابی ریلے کے عمارت سے ٹکرانے سے محض چند لمحے قبل اساتذہ کی جانب سے تیزی سے باہر نکلنے کی ہدایت کے بعد بچ نکلے۔

سکول کے ایک طالب علم کی والدہ لکشمی شریستھا نے بتایا کہ ’اساتذہ نے کہا، سیلاب آ گیا ہے اور آپ بستے اور ٹفن چھوڑ دیں۔ اس طرح وہ بچنے میں کامیاب رہے۔‘

شریستھا ان ماؤں اور طلبہ میں شامل تھیں جو اتوار کو اپنا ذاتی سامان تلاش کرنے اور یہ دیکھنے کے لیے اپنے سکول واپس آئے تھے کہ کیا کچھ بچایا جا سکتا ہے؟

خاندانوں کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ سکول کے زیادہ تر بچے اس سیلاب سے بچنے میں کامیاب رہے ہیں۔

سکول کے بینچوں، دیواروں اور کاپیوں پر موٹی بھوری اور سرمئی کیچڑ جمی ہوئی تھی، جب کہ سکول کا صحن گارے سے بھرا ہوا تھا۔

دیواروں پر موجود لکیریں بتا رہی تھیں کہ پانی کتنی تیزی سے کتنا اوپر آیا تھا۔ کیچڑ میں لتھڑے چھوٹے بستوں کا ایک ڈھیر، جن میں سے کچھ پر رنگ برنگی چینز لگی ہوئی تھیں، بینچوں اور فرش پر پڑا تھا۔ ان بستوں کو مالکان کا انتظار تھا۔

ایک طالب علم کی کوپیلا میزار نامی والدہ کو اپنے بیٹے کا بستہ تو نہ مل سکا، لیکن وہ پرامید رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرا بیٹا زندہ ہے۔ یہ میری سب سے بڑی خوشی ہے۔‘

غیر منافع بخش تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق، نیپال کے سیلاب سے تباہ حال اضلاع میں کم از کم 69 سکول تباہ یا متاثر ہوئے ہیں، جس سے تقریباً 19 ہزار بچوں کی تعلیم خطرے میں پڑ گئی ہے۔

سیو دی چلڈرن نے مزید کہا کہ جیسے جیسے امدادی ٹیمیں مزید علاقوں تک پہنچیں گی، ان اعداد و شمار میں اضافے کا امکان ہے۔

اسی دوران، دی ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ عملے کی حاضر دماغی کی بدولت وسطی نیپال کے شمال میں واقع ترشولی وادی کے تریبھون ترشولی سیکنڈری سکول کے 1600 کے قریب طلبہ کیسے محفوظ رہے۔

اخبار نے رپورٹ کیا کہ سکول کے پرنسپل راجندر دادابی کو پانچ میل اوپر کی جانب واقع قریبی علاقے بیتراوتی سے ایک دوست نے فون کر کے اس فوری خطرے سے آگاہ کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہیں سکول کی ان تمام بسوں کو فون کرنا بھی یاد رہا جن میں سے ہر ایک میں 80 بچے سوار تھے، اور انہوں نے ان بسوں کا رخ سکول سے دور کسی اور طرف موڑ دیا۔

ملک کے مختلف حصوں میں موسلا دھار بارشوں کے باعث آنے والے شدید سیلابی ریلوں اور پہاڑی تودے گرنے کے بعد حکومت نے سکول اور یونیورسٹیاں تین دن کے لیے بند کرنے کا حکم دے دیا۔ یونیورسٹی کے امتحانات بھی روک دیے گئے۔

مقامی آبادیوں کو اب بھی سیلاب کی مسلسل وارننگ مل رہی ہے جس میں انہیں اونچے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ اس لیے یہ واضح نہیں ہے کہ کلاسیں کب دوبارہ شروع ہو سکیں گی؟

نیپال کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نے اتوار کو بتایا کہ اموات کی تعداد بڑھ کر 788 ہو گئی ہے جب کہ 2502 افراد لاپتہ ہیں۔ دوسری جانب چینی حکام نے سرحد کے چینی حصے میں 16 افراد کی موت اور 546 کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ دی ہے۔

لاپتہ افراد میں ایک درجن سے زائد ممالک کے وہ سینکڑوں لوگ شامل ہیں جو اس خطے میں کام کرنے، پہاڑوں کی سیر کرنے یا کسی مقدس چوٹی کی زیارت کے لیے آئے تھے۔

چینی سرکاری میڈیا نے اتوار کو بتایا کہ تبت میں 261 غیر ملکی لاپتہ ہیں، جن میں سو سے زائد نیپالی اور دنیا بھر کے دیگر افراد شامل ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا