مرد الاسٹک کیوں نہیں پہنتے؟

تصور کریں سہولت کا عالم، آپ نہا دھو کر نکلے، ریڈی ٹو وئیر شلوار قمیض اٹھائی، پہنی اور چل پڑے سیدھے باہر، پورا دن آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہو رہا۔ کمر سنبھالنے کا، نہ پائنچے بچانے کا، نہ اس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا۔

مجھے بہت پہلے یہ بات پتا لگ گئی تھی کہ مرد الاسٹک نہیں پہنتے۔

چھوٹا تھا تو اماں جو ریڈی میڈ پتلون میرے لیے لیتی تھیں، ان میں سائیڈ پر الاسٹک ہوتی تھی، جیسے بچوں کی پینٹس میں ہوتی ہے، اور اب تو بعض اوقات بڑوں کے ٹراؤزرز میں بھی ہوتی ہے۔ لیکن اس وقت مجھے وہ بہت بری لگتی تھی۔ میں کہتا تھا، بھئی میں الاسٹک والی پتلون نہیں پہنوں گا، میں بیلٹ لگاؤں گا۔

’بیلٹ مرد پہنتے ہیں۔‘

اب یہ بات دوسری تیسری کلاس کا بچہ کر رہا ہے، کیسا لگتا ہو گا؟

بچپن میں ہمارے ہاں شلوار قمیض کا اتنا زیادہ ٹرینڈ نہیں تھا۔ ہم دونوں بھائیوں کو پتلون قمیض، نیکر بوشرٹ، ساتھ میں گیلس (سسپینڈرز)  یہی چیزیں اماں پہناتی تھیں۔

جب بڑا ہوا اور میٹرک، کالج کے زمانے میں شلوار قمیض پہننا شروع کی تو ساتھ ہی ازار بند بھی فرض ہو گیا۔ ظاہری بات ہے، مرد یہی پہنتے ہیں۔

اب ازار بند ایک ایسی چیز ہے کہ آپ اس کے لوازمات سے بچ نہیں سکتے۔ سب سے پہلی مشقت یہ ہوتی تھی کہ جوڑا دھلا دھلایا استری ہو کر پڑا ہوا ہے، آپ نے جمعے کی نماز پڑھنے جانا ہے، اور اس سے پہلے خواہ مخواہ کی پریکٹس یہ ہے کہ آپ نے کھڑے ہو کر شلوار میں ازار بند ڈالنا ہے۔

بھئی، یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اتنی مصروف زندگی میں آپ کو دس منٹ صرف کلی ڈھونڈنے میں لگ جائیں؟ وہ نہ ملے تو کوئی ون پیس پین ڈھونڈ کر ازار بند ڈالیں، تاکہ آدھے راستے میں جا کر محنت ضائع نہ ہو، پھر شلوار قمیص پہنیں اور خیر سے باہر نکلیں۔

اور اس کے بعد بھی قصہ ختم نہیں ہوتا۔ اب وہ ازار بند آپ کے پیروں کے بیچ میں جھول رہا ہے، کہیں اُٹھ بیٹھ رہے ہیں تو اپنی جھلک دکھا رہا ہے، فراغت کو جاتے ہیں تو اس کی فکر سے فارغ نہیں ہوتے، اور اگر تھوڑا وزن زیادہ ہے آپ کا، تو جتنا مرضی کس کے باندھ لیں، پائنچے تھوڑی دیر بعد پھر پیروں کے نیچے آ رہے ہوں گے، مطلب کیا تماشا ہے بابا؟

ٹھیک ہے، ایک زمانے میں فیشن ہوتا ہو گا، رنگ برنگے ازار بند، اور ان کے پُھندنے لٹکا کر گھومنا، لیکن اس مصروف ترین دنیا میں اور تھوڑے غم ہیں کہ ایک یہ بھی پال لیا جائے؟

ایک مرتبہ ریڈی میڈ کرتا پائجامہ لیا تو اس میں پائجامے کی فٹنگ پینٹ جیسی تھی ۔۔۔ کوئی ازار بند نہیں، دور تک، بلکہ بہت دور تک، اور اس میں دنیا بھر کے سارے کام کرنا بہت آسان لگے۔

تب بھائی نے فیصلہ کیا کہ اب جب بھی شلوار قمیض ہوگی، الاسٹک والی ہو گی ورنہ نہیں ہو گی۔

اب تصور کریں سہولت کا عالم، آپ نہا دھو کر نکلے، ریڈی ٹو وئیر شلوار قمیض اٹھائی، پہنی اور چل پڑے سیدھے باہر، پورا دن آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہو رہا۔ کمر سنبھالنے کا، نہ پائنچے بچانے کا، نہ اس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا۔ واپس آئے، گھر کے کپڑے پہنے اور شلوار قمیض کو اسی طرح لٹکا دیا۔

کبھی کمر تھوڑی سی کم ہو گئی تو اسی شلوار پہ ایک بیلٹ باندھ لی پینٹ والی، ورنہ درزی کو سمجھا دیا کہ ٹراوزر کی طرح ایک ڈوری کا آپشن رکھ دینا الاسٹک کے ساتھ، اللہ اللہ خیر صلا۔

اب اتنی بڑی سہولت کے عوض اگر میں ایک مردانہ کام نہیں کر پا رہا تو بھئی معذرت ہے۔

ہاں، کچھ شلواریں ایسی ہوتی ہیں، جیسے بلوچستان میں پہنتے ہیں، تو ان کے ساتھ یہ کام نہیں کیا جا سکتا، اُس کیس میں شاعر کہتا ہے کہ جو مرضی کریں۔

پھر ایک اور مردانہ فیشن ہوا کرتا تھا کہ نروزی چپل پہننی ہے اور ایڑھی آدھی باہر ہو۔ اسے بھی نبھایا، عمر زیادہ ہوئی تو نارمل پشاوری چپل پہ آ گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے بعد 2022 میں سعودی عرب جانا ہوا تو دیکھا کہ وہاں لوگ بڑے آرام سے اپنے روایتی لباس، وہ جو قمیض نما ثوب ہوتی ہے، اس کے نیچے جوگرز پہنے ہوئے ہیں اور گھوم پھر رہے ہیں، وہ چیز بھی بڑی زبردست لگی۔

یہاں ہم کسی کو شلوار قمیض کے نیچے جوگر پہنے دیکھیں تو مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں، لیکن میرے خیال میں اگر شلوار قمیض کو ہم نے قومی لباس رکھنا ہے تو شاید ہمیں جوگرز کی طرف شفٹ ہونا پڑے گا۔

روایتی چپلیں ہماری، بڑی سخت ہوتی ہیں یار، فنکشنوں وغیرہ تک ٹھیک ہے، میں بھی پہنتا ہوں، لیکن حل اس کا بھی فائنلی وہ نرم جوتے ہیں جو مردانہ لگنے سے زیادہ پیروں کے لیے آرام دہ ہوں۔

دیکھیں، زندگی میں بہت چھوٹی چھوٹی سہولتیں ہوتی ہیں جو اکٹھی مل کر ہمیں اس ماحول تک لے کے جاتی ہیں جہاں ہم اطمینان سے اپنا کام کر سکتے ہیں۔ ادھر ہم لوگ بنیادی چیزوں ہی میں پھنسے رہتے ہیں، اور جو کام واقعی کرنے کے ہوتے ہیں، ان تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔

تو سہولت ڈھونڈیں روزمرہ زندگی میں، اور الاسٹک یا جوگرز نما کوئی کام کی بات سمجھ آ جائے تو اسے بغیر ڈرے دوسروں تک ضرور پہنچائیں، دس بندے مذاق اڑائیں گے تو ایک دو کی زندگی آرام دہ بھی ہو سکتی ہے آپ کی وجہ سے، اتنا کافی ہے بس!

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ