جس وقت میں بڑا ہو رہا تھا ایشیا کی سرخی ڈھلک کر میرے استادوں کے چہرے پہ آ چکی تھی، حقیقی برابری سے ہٹ کے بات بس یہاں پہ ٹھہری ہوئی تھی کہ سب انسانوں کو برابر سمجھا جائے۔
ناممکن ہے کہ دو برتن ٹوٹیں اور بالکل ایک ہی جیسے طریقے سے ان میں دراڑیں نمودار ہوں۔ جیسے فنگر پرنٹس ہوتے ہیں ہمارے، بس ویسے ہی سونے کی گوند سے جڑے وہ جاپانی برتن اپنی ذات میں بالکل الگ شناخت رکھنے والی چیز ہوتے ہیں۔