بڑے ادیب اور شاعر اب کانفرنسوں میں خاموش کیوں ہوتے ہیں؟

شاعر کا کام، ادیب کا کام، تاریخی طور پہ کاروبار کرنا نہیں تھا، ان کی بس یہی سیدھی سادی نوکری ہوا کرتی تھی کہ اپنا کانٹینٹ کری ایٹ کریں اور جس کی کھائیں اس کے گن گائیں اور جو نہ گائے تو اس کے ساتھ وہ ہو جو عبرت کی ایک آدھی مثال بادشاہ لوگ قائم کرتے تھے۔

سوال یہ تھا کہ اب بڑے شاعر اور ادیب کیوں نہیں پیدا ہوتے؟ دانشور خاموش کیوں رہتا ہے، کانفرنسوں میں ادیب دائیں بائیں کی باتیں کیوں کر کے واپس آ جاتے ہیں؟

جواب یہ ہے کہ فردوسی، انوری، طوسی، ان سب کا نام آپ نے سنا ہو گا، ان کا نہیں سنا تو غالب کو جانتے ہوں گے، وہ نہیں تو اقبال تو سب کے ہیں۔ ان کے لیے حکومتوں نے وظیفے لگائے ہوتے تھے۔ جتنے بھی بڑے نام ہمیں نظر آتے ہیں، موسٹ آف دیم، ان کو حکومتیں، نواب، ریاستیں، راجے مہاراجے سپانسر کرتے تھے۔

شاعر کا کام، ادیب کا کام، تاریخی طور پہ کاروبار کرنا نہیں تھا، ان کی بس یہی سیدھی سادی نوکری ہوا کرتی تھی کہ اپنا کانٹینٹ کری ایٹ کریں اور جس کی کھائیں اس کے گن گائیں اور جو نہ گائے تو اس کے ساتھ وہ ہو جو تاریخی طور پہ باادب باملاحظہ ہوشیار ٹائپ کے ڈرامے ہمیں بچپن سے دکھاتے آئے ہیں۔

 اس وقت کے لوگ یہ بات سمجھتے تھے کہ جو آدمی سوچ بچار کر رہا ہے، جو آدمی لایعنی الجھنیں سلجھا رہا ہے، جو آدمی معاشرے پہ نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے مستقل خیالات کا اظہار کر رہا ہے، جو آدمی ایک ہی مضمون سو طرح سے باندھ رہا ہے، اس کا دماغ کُل وقتی وہیں کھپا ہو گا، وہ ظاہری بات ہے، کچھ اور نہیں کر سکتا۔

اب ایسا نہیں ہے۔ اب زمانے کی سائنس یہ ہے کہ جو کمائے گا وہ کھائے گا، باقی کسی بھی قسم کی امداد یا سرپرستی باقاعدہ بری سمجھی جاتی ہے۔ جو غریب شاعر ادیب کسی حکومت کے قریب ہوتا ہے اس کی الگ سے کھال اتاری جاتی ہے، کیوں بھئی؟

تو خیر، اب جب آپ لوگ کہتے ہیں کہ شاعر کیوں نہیں بولتا حالاتِ حاضرہ پر، ادیب کیوں بات نہیں کرتا ظلم کے خلاف، اور دانشور جو ہے وہ کسی سٹیج پہ بیٹھ کے گول مول لہجوں میں بات کیوں کرتا ہے، تو بھائی اس لیے کہ شاعر، ادیب، دانشور ایک تو ویسے ہی سفید پوش لوگ ہوتے ہیں، ہم آپ جیسے، اور اگر وہ کوئی کاروبار یا نوکری ساتھ کر رہے ہوتے ہیں تو ان کو ظاہری بات ہے اسے بچانا ہوتا ہے، کیونکہ روزگار بہرحال اب ہر عقل مند کی پہلی ترجیح ہے۔

جو پہلے کے لوگ تھے، جیسے ابھی میں نے فردوسی کا نام لیا، تو اس نے پورا شاہنامہ لکھ مارا تھا، ایران کی مکمل تاریخ، تمام بادشاہوں کا ذکر، ہر مشہور حکایت، ہر اہم واقعہ، اور وہ آج تک اپنی جگہ مستند ہے لیکن اس غریب کا معاملہ یہ ہوا کہ سلطان محمود غزنوی اس سے بدظن ہو گیا کچھ عقائد کا مسئلہ تھا۔ طے ہوا تھا کہ سونے کے دنیار دیے جائیں گے اور بادشاہ کے بندے چاندی کے سکے لے کر پہنچ گئے۔ فردوسی نے سب کچھ واپس بھجوایا اور ملک چھوڑ گیا۔

اب شعر العجم میں شبلی نعمانی روایت کرتے ہیں کہ جب تک بادشاہ کو احساس ہوا کہ یار فردوسی کے ساتھ زیادتی کی میں نے، اور اس نے حسب وعدہ کئی ہزار سونے کے دینار بھجوائے تو شہر کے جس دروازے سے ہرکارے وہ سب کچھ لا رہے تھے اسی سے فردوسی کا جنازہ نکل رہا تھا۔

اس کی بیٹی کو بادشاہ نے وہ رقم بھیجی، اس نے بھی انکار کر دیا کہ میرے باپ کو اس کی زندگی میں نہ مل سکا تو میں کیوں لوں یہ سب کچھ؟

لیکن کیا سب کچھ؟ ایک جاب تھی، اس پر حکومتی انعام تھا، وظیفہ تھا، توقع پوری نہ ہونے پہ ناراضگی تھی ۔۔۔ فردوسی کی صاحبزادی کا غیور کردار اپنی جگہ اہم لیکن جو بات میں سمجھانا چاہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ بابا ۔۔۔ شعر و ادب میں بڑے لوگ اسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب انہیں گھر میں دانے پورے پونے کی ٹینشن نہ ہو۔

ٹھیک ہے، یہ لوگ قصیدے کہتے تھے اور حکومتوں کے لیے تاریخیں بھی لکھتے تھے، لیکن اپنی جگہ پہ ان کا ایک مزاج تھا، تخلیقی قوت تھی، یہ سب نہ ہوتے تو آپ کے پاس لٹریچر کے نام پہ کیا ہوتا؟ مصور، گویے، سب ہی لوگ درباروں سے وابستہ تھے ۔۔۔ یہ سلسلہ ایسا نہ ہوتا تو انسان کے پاس پچھلے چار ہزار سال میں اور بچت کیا تھی؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تو اگر آپ اب یہ کہتے ہیں کہ دانشور کمرشل ہو گیا ہے، یا شاعر جو ہے وہ مشاعروں میں جانے کی فیس لے رہا ہے، یا میں جو ہوں، میں کسی اجلاس کو اٹینڈ کرنے کے پیسے مانگ رہا ہوں، تو یار اس کی وجہ یہ ہے کہ اب کوئی ریاست ہمیں سپورٹ نہیں کرتی۔ ہم نے جو کرنا ہے خود کرنا ہے، اور بڑا ہاتھ پیر بچا کے کرنا ہے۔

ہاں، جو دانشور بالکل کھلے، بے لگام بول رہے ہیں، ظاہری بات ہے، ان کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی سپانسر تو ہے۔ تو طریقہ یہ ہے کہ بھائی، اگر تو سپانسر ہے تو اُس کی رعایت سے بولو، اور اگر نہیں ہے تو پھر پیدا کرو۔ اور اگر پیدا بھی نہیں ہوتا، پھر جو کچھ مرضی کرو، بلکہ پھر اس کا مطلب یہ سمجھو کہ تمہاری اہمیت اتنی نہیں ہے کہ تمہیں خریدا جائے، یا کوئی قیمت لگانے کے قابل تمہیں نہیں سمجھتا۔

ہزاروں میں سے ایک دو کوئی جینوئن سرپھرے نکلتے ہیں لیکن وہ بھی خود اپنے آپ میں مہاتما ہوتے ہیں، یہ الگ موضوع ہے۔

تو دانشور طبقہ جو ہے، اس سے پیار محبت سے پیش آئیں، اور یہ چیز ریلائز کریں کہ وہ آپ کے جیسے انسان ہے۔ اور اگر انہوں نے خاموش رہنا ہے تو وہ صرف اس لیے ہے کیونکہ انہوں نے اپنی بچی کھچی عزت بچانی ہے۔

اب وہ دور نہیں ہے کہ قدردان کوئی آ کے موتیوں سے منہ بھر دے گا، یا وزن کے برابر سونے میں تلوا دے گا، اب تو بھائی ایک پتلون قمیض جو پہنی ہے اسے بھی بچا کے چلنا پڑتا ہے، کون اپنی زندگی مفت کے خطرے میں ڈالے اور کس کے لیے؟

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ