’ٹیکسی ڈرائیور‘ سے ’جوکر‘ تک: سکرین کا سب سے پریشان کن اینٹی ہیرو

مارٹن سکورسیزی کی شاہکار فلم ’ٹیکسی ڈرائیور‘ کو 50 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ یہ فلم 1970 کی دہائی کے نیویارک کی گندگی اور بیگانگی کی کہانی تھی، مگر آج یہ ڈیجیٹل دور کی تشویش ناک عکاسی کرتی دکھائی دیتی ہے۔

ٹیکسی ڈرائیور ٹریوس بکل کی ہولناک تنہائی کا نوحہ ہے (کولمبیا پکچرز)

آٹھ فروری کو مارٹن سکورسیزی کی فلم ’ٹیکسی ڈرائیور‘ کے 50 برس ہو گئے۔ 1976 میں چار آسکرز کے لیے نامزد اور پام ڈی اور جیتنے والی، شہری بیگانگی پر مبنی سکورسیزی کی یہ اعصاب شکن اور اضطرابی فلم بڑے پیمانے پر اب تک کی اہم ترین امریکی فلموں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔

یہ بلاشبہ سب سے زیادہ پریشان کن فلموں میں سے ایک بھی ہے۔

’ٹیکسی ڈرائیور‘ ایک ایسی امریکی دہائی کے غصے، خوف اور بیگانگی کا اظہار کرتی ہے جو معاشی زوال، سامراجی تشدد اور سیاسی سکینڈل سے تشکیل پائی تھی۔ تیزی سے ڈی انڈسٹریلائزیشن کے شکار نیویارک کی خستہ حال گندگی میں فلمائی گئی یہ فلم معاشرے کے بکھرنے کا ایک مایوس کن خاکہ پیش کرتی ہے۔

اس کے مرکز میں مردانگی کا ایک انتہائی بےچین کن تصور ہے، جو نسل پرستی اور عورت بیزاری میں جڑا ہے۔

وہ سماجی اور نفسیاتی قوتیں جنہیں ’ٹیکسی ڈرائیور‘ نے اجاگر کیا تھا، ختم نہیں ہوئی ہیں۔ اگر کچھ ہوا ہے تو یہ کہ وہ محض منتقل ہو گئی ہیں، اور اب انہیں ڈیجیٹل کلچرز میں اظہار کی نئی صورت مل گئی ہے جو شکایات کے پرچار، جمالیاتی نفرت اور مردانہ غصے کی تجارت سے تشکیل پاتے ہیں۔

امریکی وجودیت

ٹریوس بکل (جسے رابرٹ ڈی نیرو نے اعصاب شکن شدت کے ساتھ نبھایا) سکرین رائٹر پال شریڈر کی تخلیق تھا، جنہوں نے تنہائی اور جذباتی بحران کے اپنے تجربات سے بہت کچھ اخذ کیا۔ شریڈر نے الہام کے لیے ادب کا بھی رخ کیا اور فیودور دوستوفسکی کے انسان بیزار ناول ’انڈر گراؤنڈ مین‘ سے اثر قبول کیا۔

یورپی وجودی ہیرو کو امریکی سیاق و سباق میں رکھنے پر شریڈر نے کہا، ’آپ دیکھتے ہیں کہ وہ زیادہ جاہل اور اپنے مسئلے کی نوعیت سے بےخبر ہو جاتا ہے۔ ٹریوس کا مسئلہ وہی ہے جو وجودی ہیرو کا ہے، یعنی کیا مجھے وجود رکھنا چاہیے؟ لیکن ٹریوس یہ نہیں سمجھتا کہ یہ اس کا مسئلہ ہے، اس لیے وہ اسے کہیں اور مرکوز کر دیتا ہے، اور میرا خیال ہے کہ یہ ہمارے ملک کے ناپختہ اور کم عمر ہونے کی نشانی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شریڈر نے اس وقت کے واقعات سے بھی استفادہ کیا، جن میں آرتھر بریمر کی جانب سے دائیں بازو کے سیاست دان جارج ویلس پر قاتلانہ حملہ بھی شامل تھا۔ نتیجہ ایک ایسے کردار کی شکل میں نکلا جس نے اس دور کی پرتشدد الجھنوں کو یکجا کر دیا۔

بریمر کی طرح ٹریوس بھی ایک ڈائری رکھتا ہے۔ ہم اسے فلم میں مختلف مقامات پر اس میں لکھتے ہوئے دیکھتے ہیں اور وائس اوور میں اس کے اقتباسات سنتے ہیں، ’رات کو تمام جانور باہر نکل آتے ہیں۔ طوائفیں، بدکار، بھکاری، ہیجڑے، نشئی، بیمار، لالچی۔ ایک دن اصلی بارش ہو گی اور سڑکوں سے اس تمام گندگی کو دھو ڈالے گی۔‘

ٹریوس، جو یقینی طور پر ایک غیر معتبر راوی ہے اور ویت نام میں خدمات انجام دینے کا دعویٰ کرتا ہے، ٹیکسی ڈرائیور کی نوکری کر لیتا ہے کیونکہ اسے سونے میں مشکل پیش آتی ہے۔ تقریباً صرف رات کے وقت کام کرتے ہوئے اور انتہائی ذہنی دباو کا شکار، وہ شدید بےچینی کی حالت میں شہر کا چکر کاٹتا رہتا ہے۔

ایک صبح، ایک لمبی شفٹ ختم کرنے کے بعد، وہ مڈ ٹاؤن مین ہٹن کے ایک دفتر کی کھڑکی سے ایک نوجوان خاتون کو دیکھتا ہے۔ یہ بیٹسی (سیبل شیپرڈ) ہے، جو صدارتی امیدوار چارلس ویلنٹائن (لیونارڈ ہیرس) کے لیے کام کرنے والی ایک پرجوش انتخابی ورکر ہے۔

بیٹسی جلد ہی ٹریوس کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ وہ اپنی ٹیکسی میں اس کے دفتر کے باہر آوارہ گردی کرنے لگتا ہے اور اسے دور سے دیکھتا رہتا ہے۔ آخرکار، وہ کسی طرح اسے اپنے ساتھ ڈیٹ پر جانے کے لیے راضی کر لیتا ہے۔ یہ ملاقات اچھی نہیں رہتی۔

سماجی طور پر اناڑی، ٹریوس کے نزدیک تفریح کا مطلب ٹائمز سکوائر کے پورنو تھیئٹر میں جانا ہے۔ اس وقت وہ ہکابکا رہ جاتا ہے جب بیٹسی فیصلہ کرتی ہے کہ اب بہت ہو چکا اور غصے میں باہر نکل جاتی ہے، اور اس کے ساتھ تمام رابطے ختم کر دیتی ہے۔ اس سے ٹریوس کے غصے میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور بات بیٹسی کے دفتر میں ایک ہنگامے پر ختم ہوتی ہے، جہاں وہ اس کے ساتھیوں کے سامنے اسے برا بھلا کہتا ہے۔

ٹریوس کی ذہنی حالت بگڑنے لگتی ہے، وہ ایک ساتھی ٹیکسی ڈرائیور سے اعتراف کرتا ہے کہ اس کے دماغ میں ’کچھ فاسد خیالات‘ بھرے ہیں۔ وہ عمل کے ایک منصوبے پر جم جاتا ہے۔ اس کی ڈائری کے اندراجات مزید خوفناک ہو جاتے ہیں۔

وہ جنونی انداز میں ورزش شروع کر دیتا ہے، پستولوں کے ڈھیر لگا لیتا ہے اور بیٹسی کے باس کے سرعام قتل کا منصوبہ بناتا ہے۔ سیاسی تشدد اس کی بےچینی کو شکل دینے کا ایک طریقہ بن جاتا ہے، جو اس کے غصے کو تاریخی اہمیت کے ایک خام خیال میں بدل دیتا ہے۔ وہ اپنے خستہ حال اپارٹمنٹ میں آئینے کے سامنے شوٹنگ کی مشق کرتا ہے۔

ڈی نیرو کا فی البدیہہ جملہ، ’تم مجھ سے بات کر رہے ہو؟‘ (You talkin’ to me)، فلمی سکالر ایمی ٹوبن کے الفاظ میں ’شاید فلمی تاریخ کا سب سے زیادہ دہرایا جانے والا منظر‘ بن گیا۔

جب ویلنٹائن کو قتل کرنے کا اس کا منصوبہ ناکام ہو جاتا ہے، تو ٹریوس اپنی توجہ کا رخ 12 سالہ سیکس ورکر آئرس کی طرف موڑ دیتا ہے جس کا کردار جوڈی فوسٹر نے ادا کیا ہے۔ وہ فیصلہ کرتا ہے کہ اسے اس کے دلال سے دور ہونے میں اس کی ’مدد‘ کرنی چاہیے، اور خود کو اخلاقی طور پر درست سمجھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں قتل و غارت گری ہوتی ہے، جو اتنی شدید تھی کہ ابتدائی طور پر فلم کو کمرشل ریٹنگ دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔

اس کا اختتام ایک تاریک طنزیہ اور مبہم نوٹ پر ہوتا ہے۔

تاریک بعد از حیات

’ٹیکسی ڈرائیور‘ نے ناقدین کو تقسیم کر دیا لیکن ناظرین میں یہ فوراً ہٹ ثابت ہوئی۔

فلم کی بےچین کر دینے والی طاقت وقت کے ساتھ کم نہیں ہوئی، اگر کچھ ہوا تو یہ کہ فلم کا بعد کے برسوں میں ہونے والا اثر خود اس کام جتنا ہی پریشان کن رہا ہے۔

سال 1981 میں اس فلم کا جنون کی حد تک دیوانے جان ہنکلے جونیئر نے اداکارہ جوڈی فوسٹر کو متاثر کرنے کی کوشش میں رونالڈ ریگن پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اس واقعے نے سکورسیزی کو ہلا کر رکھ دیا، جنہوں نے مختصر مدت کے لیے فلم سازی چھوڑنے پر غور کیا۔

ٹریوس بکل کو بار بار اینٹی ہیرو کہا جاتا ہے۔ اس کردار نے ایک طویل ثقافتی سایہ ڈالا ہے، جو سب سے زیادہ واضح طور پر ٹوڈ فلپس کی ’جوکر‘ (2019) میں نظر آتا ہے۔

سکورسیزی کے کیریئر پر غور کرنے والی 2025 کی دستاویزی سیریز اس میراث کے سوال پر واپس آتی ہے۔ ڈائریکٹر ربیکا ولیمز، شریڈر سے کہتی ہیں کہ انہیں یہ تاثر ملتا ہے کہ ’بہت سے ٹریوس بکل موجود ہیں، خاص طور پر ابھی۔‘ شریڈر کا جواب دو ٹوک ہے، ’وہ سب انٹرنیٹ پر ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔ جب میں نے پہلی بار اس کے بارے میں لکھا تھا، وہ کسی سے بات نہیں کر رہا تھا۔ وہ واقعی اس وقت، انڈر گراؤنڈ مین تھا۔ اب وہ انٹرنیٹ مین ہے۔‘

یہ ایک سنجیدہ اور فکر انگیز خیال ہے۔

نوٹ: یہ تحریر دی کنورسیشن سے لی گئی ہے جس کا ترجمہ کری ایٹو کامنز کے تحت پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے مصنف یونیورسٹی آف سڈنی کے شعبہ انگریزی میں سینیئر لیکچرر ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ