گلگت بلتستان کے الیکشن اور اسلام آباد میں صف بندیاں

گلگت بلتستان کے الیکشن قریب ہیں، لیکن سیاست دان اصل مسائل کو پسِ پشت ڈال کر اسلام آباد میں اتحاد اور اقتدار کے لیے سرگرم ہیں۔

گلگت میں نو نومبر 2020 کو انتخابی مہم کے دوران ایک گاڑی سیاسی جماعتوں کے جھنڈوں کے پاس سے گزرتی ہوئی (روئٹرز)

جب سے شہر اقتدار کراچی سے منتقل ہو کر اسلام آباد آیا ہے، یہاں کی غلام گردشوں میں چاروں صوبوں، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے سیاست دانوں کی سرگرمیاں معمول کی بات بن چکی ہے۔

اب تو اس خوبصورت شہر کے جنگلات کو بھی کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ درخت کٹ رہے ہیں اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہر طرف سے سبزہ و گل کو بے دردی سے نگل رہی ہیں، حتیٰ کہ تاریخی آثار بھی اس بے رحمی کی زد میں آ چکے ہیں۔ حال ہی میں کری روڈ کے قریب عہدِ برطانیہ کی وہ یادگار بھی گرا دی گئی ہے جو اس خطے کے سپاہیوں کی عالمی جنگ میں خدمات کے اعتراف میں 1914 میں تعمیر کی گئی تھی۔

خیر، یہ ایک الگ قصہ ہے کہ ماحول اور ثقافت کی کس کو فکر اور قدر ہے، تاہم گلگت بلتستان کے حوالے سے شہرِ اقتدار سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر آنے والی دراڑ کو وقتی طور پر پاٹ دیا گیا ہے۔

گلگت بلتستان میں اس جماعت کے دو واضح دھڑے بن چکے تھے اور پچھلے دو تین برسوں سے ایک دوسرے پر خار کھائے تقریباً دست و گریبان تھے۔ آج دونوں دھڑے اسلام آباد میں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینیئر امیر مقام کے دائیں بائیں بیٹھے ازلی محبت کا عہد و پیمان کر رہے ہیں اور سابقہ تفریق کو سازش قرار دے رہے ہیں۔

یہ اس ملک کی ایک نفسیاتی الجھن رہی ہے کہ ہر اختلاف یا ذرا سا مختلف نقطۂ نظر بھی ہو تو اسے فوراً سازش سے جوڑ دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی مرکزی قیادت اور جیالے بھی اسلام آباد کے مختلف ہوٹلوں کی رونقیں دوبالا کر رہے ہیں۔ روز سوشل میڈیا پر تصاویر آ رہی ہیں کہ فلاں نے فلاں وفاقی سطح کی پارٹی قیادت سے ملاقات کی اور الیکشن کے حوالے سے گفتگو ہوئی، یعنی رابطے بڑھانے اور تعلقات سنوارنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ الیکشن کے لیے اس پارٹی کے متوقع امیدوار اسلام آباد میں قائم پارٹی دفتر میں مسلسل درخواستیں جمع کروا رہے ہیں اور ہر کوئی پارٹی ٹکٹ کے لیے کوشاں ہے۔

ادھر سابقہ حکومت کے کرتا دھرتا ایک فارورڈ بلاک کی صورت میں مجتمع ہو چکے ہیں اور ان کا ڈیرہ بھی اسلام آباد میں قائم ہو گیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ کی سرپرستی میں کچھ سابق وزرا اور ایک سابق گورنر اس بلاک کے دائرے میں سر جوڑے حکمتِ عملی بنانے میں مصروف ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ سابقہ کارکردگی اور اچھی تعداد میں الیکٹیبلز کی حمایت کے باعث وہ آنے والے الیکشن میں گیم چینجر کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یوں یہ دھڑا مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ اقتدار کے چھوارے ان کی مرضی اور شرکت کے بغیر بانٹنا آسان نہیں۔

تحریک انصاف کا حال کچھ زیادہ خوش نما نہیں۔ اس پارٹی کے سابق وزیراعلیٰ اور صوبائی صدر اپنی نااہلی کے بعد سے گلگت بلتستان میں قدم نہیں رکھ سکے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ ان کے اکثریتی اسمبلی ممبران بھی ادھر ادھر ہو چکے ہیں۔

اسی وجہ سے اس پارٹی کے کچھ مقامی قائدین انفرادی طور پر اسلام آباد میں تگ و دو کر رہے ہیں، تاہم اب تک الیکشن کے حوالے سے کوئی واضح حکمتِ عملی سامنے نہیں آ سکی۔

سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مذہبی جماعتوں کے کل پرزے بھی اسلام آباد کو اپنا مرکز بنائے ہوئے ہیں۔ تحریک اسلامی ایک طرف اور وحدت اسلامی دوسری طرف، الگ الگ اپنا پلاؤ پکانے میں مصروف ہیں۔ ان کے انتخابی پلاؤ کی خوشبو پھیل رہی ہے، اسی لیے سیاسی جماعتیں ان سے تعلقات بڑھانے میں مصروف ہیں، جبکہ کچھ اہم سیاسی شخصیات ان دونوں مذہبی جماعتوں کے قائدین کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کے لیے بےتاب نظر آتی ہیں۔

گلگت بلتستان کی سطح پر کوئی ایسی مضبوط مقامی سیاسی جماعت موجود نہیں جس کی جڑیں ہر ضلعے میں ہوں یا اکثریتی حمایت حاصل ہو، لہذا علاقے کی اجتماعی آواز تادمِ تحریر صدا بہ صحرا بنی ہوئی ہے۔

غرض، فروری کے اس مہینے میں جب گلگت بلتستان کے عوام لوڈشیڈنگ، مالی اور موسمی سختیوں سے نبرد آزما ہیں، ادھر اسلام آباد کی ہلکی خنکی میں ہمارے رہنما لذتِ کام و دہن کے ساتھ ساتھ سیاسی بیٹھکیں جمانے میں مصروف ہیں۔ ان کی پیروی میں نگران حکومت کے وزرا بھی اسلام آباد میں چہل قدمی فرما رہے ہیں۔ سب کا مطمع نظر یہی ہے کہ اگر اسلام آباد خوش نہ ہو تو دو قدم چلنا بھی دشوار ہو جاتا ہے، لہٰذا شہرِ اقتدار کی غلام گردشوں کی جاروب کشی ہی سب کے لیے فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔

گلگت بلتستان میں الیکشن کے لیے مئی کا مہینہ منتخب کیا گیا ہے، اس لحاظ سے اب تین سے ساڑھے تین ماہ کی مدت باقی ہے۔ 2009 کے گڈ گورننس آرڈر کے بعد سے یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ وفاق میں جس جماعت کی حکومت ہوتی ہے، وہی گلگت بلتستان میں بھی اپنی حکومت قائم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الیکٹیبلز اسی تاک میں رہتے ہیں اور الیکشن سے چند ماہ قبل وفاقی جماعت کا مفلر اپنے گلے کا ہار بنا لیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس بار وفاق میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت ہے، لہٰذا گلگت بلتستان کے مقامی سیاست دان انہی دونوں جماعتوں کی چھتری تلے سایۂ عافیت تلاش کر رہے ہیں۔

یہ تو سیاست دانوں کے شب و روز کی باتیں تھیں، اب عوام اور علاقے کی صورتِ حال پر نظر ڈالتے ہیں۔

گلگت بلتستان کا ایک بڑا مسئلہ بجلی کا ہے۔ سردیوں میں یہاں 20، 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ بجلی کی کمی کے باعث عام کاروبار کے ساتھ ساتھ سیاحت کا شعبہ بھی شدید متاثر ہے کیونکہ ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز اور ملحقہ کاروبار انرجی کی قلت سے دوچار ہیں۔ بھاشا دیامر ڈیم سے بجلی ملنے تک علاقائی سطح پر کوئی بڑا ہائیڈرو یونٹ نصب نہیں ہو سکا۔ کچھ منصوبے سامنے آئے مگر شاید سیاست کی نذر ہو گئے، کیونکہ ان کے ٹینڈر بار بار ملتوی ہوتے رہے۔

نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے یا معدنیات، سیاحت اور پاکستان چین سرحدی تجارت کے تحت کاروبار کے لیے نہ کوئی واضح فریم ورک موجود ہے اور نہ ہی کوئی طویل المدتی پالیسی۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے غربت کے خاتمے اور معاشی ترقی کے لیے بھی کوئی مؤثر منصوبہ بندی نظر نہیں آتی بلکہ عوامی سطح پر یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ قدرتی وسائل، خصوصاً سیاحت اور قیمتی معدنیات کی بندر بانٹ کی جا رہی ہے۔

سی پیک کا بہت چرچا ہوا اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ بھی گلگت بلتستان سے گزرتا ہے، مگر اب تک یہاں کوئی بڑا منصوبہ نہیں لگایا گیا۔ سپیشل اکنامک زونز کا ذکر تو بہت ہوا، مگر سرمایہ کاری زیادہ تر دوسرے صوبوں میں کی جا رہی ہے۔

گلگت بلتستان کی مخصوص جغرافیائی حیثیت اور پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی جماعت نے علاقائی ترقی کے واضح اہداف مقرر نہیں کیے۔ نہ ہی مقامی سطح پر کسی پارٹی کا ایسا منشور سامنے آیا ہے، جس میں علاقے کی ضروریات کے مطابق کوئی ٹھوس لائحۂ عمل پیش کیا گیا ہو۔

بلدیاتی اور ضلعی سطح کے انتخابات گذشتہ 20 برس سے ملتوی ہیں، جس کے باعث نوجوان اور نچلی سطح کی قیادت کے ابھرنے کا راستہ مسدود ہو چکا ہے۔ ان بنیادی جمہوری اداروں کے غیر فعال ہونے کے باعث ترقیاتی فنڈز کے اختیارات بیوروکریسی کے پاس چلے گئے ہیں اور اب یہ ان کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وسائل کا رخ جدھر چاہیں موڑ دیں۔

ان حالات میں اسلام آباد میں ہونے والی صف بندیاں واقعی کوئی مثبت تبدیلی لائیں گی یا صرف غلام گردشوں میں روایتی آبلہ پائی تک محدود رہیں گی، یہ ملین ڈالر کا سوال ہے۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ