ڈرونز، غزہ، ایشیا اور خفیہ روابط: ترکی میں موساد کے لیے کام کرنے والے دو افراد گرفتار

ترکی کی نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی نےمحمد بوداک دریا اور فیصل کریم اوغلو کو استبول میں گرفتار کیا، جو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے کام کرنے میں ملوث تھے۔

ترکی میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہونے والے دو افراد محمد بوداک دریا اور فیصل کریم اوغلو (انادولو ایکس اکاؤنٹ)

ترک خبر رساں ادارے انادولو نے جمعے کو خبر دی ہے کہ ملک کے خفیہ ادارے نے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ترکی کی نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی (ایم آئی ٹی) نے دو افراد کو استبول میں گرفتار کیا جو موساد کے لیے کام کرنے میں ملوث تھے۔ گرفتار ہونے والوں میں محمد بوداک دریا اور فیصل کریم اوغلو شامل ہیں جنہیں طویل عرصے جاری رہنے والی خفیہ نگرانی کے بعد حراست میں لیا گیا۔

تفتیش کاروں نے ان کی جانب سے موساد کو معلومات براہ راست منتقل کرنے کی تصدیق کی ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ محمد بوداک دریا 2013 سے کان کنی اور سنگ مرمر کے شعبے میں اپنی کاروباری آڑ کو اسرائیلی انٹیلی جنس عناصر سے رابطے کے لیے استعمال کر رہا تھے۔

فیصل کریم اوغلو کو موساد کی براہ راست ہدایات پر بھرتی کیا گیا۔ ان کی تنخواہ کا انتظام کیا گیا اور مشرق وسطیٰ میں کارروائیوں کو وسعت دینے میں انہیں شامل کیا گیا۔

موساد نے محمد بوداک دریا کا پولی گراف ٹیسٹ کیا۔ انہیں محفوظ مواصلاتی نظام فراہم کیا اور جدید تکنیکی کام سونپے۔

دریا اور کریم نے اسرائیل مخالف فلسطینیوں کے بارے میں معلومات منتقل کیں اور غزہ اور رسد کے سلسلوں سے متعلق تصاویر اور حساس ڈیٹا بھیجا۔

الجزیرہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دریا، کان کنی کے انجینئر کے طور پر کام کرتے ہیں اور انہوں نے 2005 میں اپنی ذاتی کمپنی قائم کی۔ وہ پہلی بار اس وقت موساد کی توجہ کا مرکز بنے جب انہوں نے جنوبی ساحلی شہر مرسین کے قریب سنگ مرمر کی کان پر کام شروع کیا اور بیرون ملک کاروبار شروع کی۔ ذرائع کے مطابق ان سے پہلی بار 2012 میں علی احمد یاسین نامی شخص نے رابطہ کیا۔

تفتیش کاروں نے بتایا کہ یاسین، جو اسرائیل کے لیےدکھاوے کی کمپنی چلا رہے تھے، نے 2013 میں دریا کو یورپ میں ایک کاروباری اجلاس میں مدعو کیا، جہاں ان کی ملاقات تاجروں کے روپ میں موساد کے ایجنٹوں سے ہوئی، جنہوں نے شراکت داری کی تجویز دی اور ان سے کہا کہ وہ فلسطینی نژاد ترک شہری فیصل کریم اوغلو کو ملازمت پر رکھیں۔

ذرائع نے بتایا کہ دریا نے اسے ایک کاروباری موقع سمجھا اور موساد کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے کریم اوغلو کو ملازمت دے دی، جن کی تنخواہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنٹ ادا کرتے تھے اور پھر ان کے درمیان تعلق دوستی میں بدل گیا۔

ڈرونز اور غزہ

اطلاعات کے مطابق کریم اوغلو کے ذریعے دریا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی سرگرمیاں بڑھائیں، فلسطینیوں کے ساتھ سماجی اور تجارتی تعلقات قائم کیے اور موساد کے ساتھ ان کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا۔

رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کریم اوغلو نے 2016 کے اوائل میں دریا کو تجویز دی کہ وہ ڈرونز کے پرزے فراہم کرنا شروع کریں اور جب دریا نے موساد کو اس بارے میں آگاہ کیا تو وہ فوراً اس تجویز پر راضی ہو گئی اور انہیں پہلے نمونے فراہم کیے۔

تحقیقات کے مطابق جن لوگوں کو دریا نے ڈرون کے پرزے فروخت کرنے کی کوشش کی ان میں محمد الزواری بھی شامل تھے، جنہیں 2016 میں تیونس میں اسرائیلی انٹیلی جنس نے قتل کر دیا تھا۔

تیونسی نژاد محمد الزواری، جو اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کی صفوں میں ڈرون بنانے کے ماہر انجینئر تھے، انہیں دسمبر 2016 میں مشرقی تیونس کے شہر صفاقس میں ان کی گاڑی میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ گذشتہ سال کے آخر میں تیونس کی ایک عدالت نے ان کے قتل کے سلسلے میں 18 افراد کو ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ دریا، جو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی قبضے کی پالیسیوں کے تحت قائم اپنے کاروباری تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت کا خواہشمند تھے، انہوں نے وہاں موجود ان گوداموں کی تصاویر اسرائیلی انٹیلی جنس کو بھیجیں جن کی اسے تلاش تھی۔

جھوٹ پکڑنے کا ٹیسٹ

ذرائع نے وضاحت کی کہ موساد نے رازداری کو انتہائی اہمیت دی تاکہ وہ آپریشن خطرے میں نہ پڑ جائے جو وہ کئی سال سے کر رہی تھی۔ اس نے دریا کو ایک خفیہ مواصلاتی نظام فراہم کیا اور 2016 میں ایک ایشیائی ملک میں ان کا جھوٹ پکڑنے کا ٹیسٹ لیا، جسے انہوں نے کامیابی سے پاس کر لیا۔

انہوں نے 2024 میں ایک یورپی ملک کے ہوٹل میں اسی طرح کا دوسرا ٹیسٹ دیا اور وہ اسے بھی پاس کرنے میں کامیاب رہے جس کی وجہ سے موساد کو اپنے آپریشن کو اعلیٰ سطح پر منتقل کرنے کا موقع ملا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

موساد کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے دریا نے ترکی اور دیگر ممالک سے سم کارڈز، موڈیم اور انٹرنیٹ راؤٹرز خریدے اور ان کی تکنیکی معلومات بشمول سیریل نمبرز کی تصاویر بھیجیں۔

انادولو کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ جنوری میں دریا نے ترکی سے باہر موساد کے ایجنٹوں کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی، جس کے دوران ایک فرضی کمپنی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی جسے آپریشنل مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

دریا کو وہ کمپنی قائم کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا جو تین ایشیائی فرضی کمپنیوں کی نگرانی کرتی ہے، ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا مقصد ان مختلف مصنوعات کے ذرائع کو چھپانا تھا جو موساد کے مطلوبہ خریداروں کو فراہم کی جانی تھیں۔

تاہم پولیس کے مطابق دریا اور کریم اوغلو جن کی کچھ عرصے سے ترک انٹیلی جنس نگرانی کر رہی تھی، انہیں مشن مکمل ہونے سے پہلے استنبول میں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ آپریشن انٹیلی جنس سروس، پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر اور استنبول سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے باہمی تعاون سے کیا گیا اور فی الحال ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا