امریکہ سے مذاکرات کے ’اچھے آغاز‘ کے بعد بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق: ایران

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری پروگرام پر معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے بارہا طاقت کے استعمال کی دھمکی دی ہے جبکہ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ کسی حملے سے پورے خطے میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔

چھ فروری 2026 کو ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری تصویر میں عباس عراقچی کو مسقط، عمان میں ایک اجلاس کے لیے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جہاں وہ جوہری مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں (اے ایف پی)

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا ہے کہ عمان میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے جوہری مذاکرات کا آغاز اچھا رہا اور یہ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عراقچی نے صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات بنیادی طور پر آگے بڑھنے کے لیے فریم ورک تیار کرنے پر مرکوز تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدم اعتماد مذاکرات کے لیے ایک اہم چیلنج ہے اور اسے پہلے حل کرنا ضروری ہے۔

ایرانی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ’ یہ مذاکرات پرامن ماحول میں اور بغیر دھمکی یا دباؤ کے ہونے چاہئیں۔‘

مذاکرات کے اس دور میں پہلی بار امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اعلیٰ فوجی کمانڈر، ایڈمرل بریڈ کوپر کو بھی بات چیت میں شامل کیا۔

کوپر امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ہیں اور اپنی ڈریس یونیفارم میں مسقط میں موجود تھے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان مذاکرات کے دوران امریکی ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن اور دیگر جنگی جہاز خلیج عرب میں ایران کے ساحل کے قریب تعینات تھے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری پروگرام پر معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے بارہا طاقت کے استعمال کی دھمکی دی ہے جبکہ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ کسی حملے سے پورے خطے میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔

مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی مشرق وسطیٰ میں خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر نے کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عراقچی کے مطابق سفارت کار اپنے دارالحکومتوں میں واپس جائیں گے جس سے اس مذاکراتی دور کے اختتام کا عندیہ ملتا ہے۔

عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی نے مذاکرات کو ’ایرانی اور امریکی نقطۂ نظر کو واضح کرنے اور ممکنہ پیش رفت کے شعبوں کی نشاندہی کے لیے مفید‘ قرار دیا، تاہم عمان نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات جوہری معاہدے تک پہنچنے یا کشیدگی کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ سفارتی اور تکنیکی مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے بنیادی بنیادیں تلاش کرنے کے لیے تھے۔

ابتدائی طور پر یہ مذاکرات ترکی میں ہونے تھے اور ان میں علاقائی ممالک بھی شامل ہونے والے تھے جبکہ موضوعات میں تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی بات چیت متوقع تھی، جسے ایران نے خارج کر دیا۔ ایران نے کہا کہ مذاکرات صرف اس کے جوہری پروگرام تک محدود ہوں گے۔

مذاکرات کے دوران ایران نے کہا کہ وہ کسی بھی اضافی پابندی یا یورینیم برآمد کرنے کے اقدامات پر آمادہ نہیں جبکہ مصر، ترکی اور قطر نے ایران کو تین سال کے لیے یورینیم کی افزودگی روکنے، انتہائی افزودہ یورینیم ملک سے باہر بھیجنے اور بیلسٹک میزائل استعمال نہ کرنے کی تجویز دی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ مذاکرات میں یہ تمام امور شامل ہونا ضروری ہیں، اور امریکی حکومت معاہدے کے حصول کے امکانات کو پرکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا