اسلام آباد: ترلائی کی مسجد میں دھماکے سے اموات کی تعداد 31 ہو گئی، 169 زخمی

اسلام آباد پولیس کے مطابق دھماکہ اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں ایک امام بارگاہ سے متصل مسجد میں ہوا ہے جس میں کم از کم 31 اموات ہوئی ہیں جبکہ 169 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق دارالحکومت کے نواحی علاقے ترلائی میں جمعے کی نماز کے دوران ایک امام بارگاہ سے متصل مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والے بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 31 ہو گئی ہے۔

ڈی سی اسلام آباد نے ایکس پر ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’دھماکے کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 31 ہوگئی ہے جبکہ 169 افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘

ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق پمز، پولی کلینک اور سی ڈی اے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور اسسٹنٹ کمشنرز کو زخمیوں کے علاج و معالجے کی نگرانی کے لیے مختلف ہسپتالوں میں تعینات کیا گیا ہے، جبکہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔

پمز ہسپتال میں موجود انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار فہد منظر نے بتایا ہے کہ ایمبولینسز کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جس میں زخمیوں کو لایا جا رہا ہے جبکہ زخمی یا جان سے جانے والوں کے رشتہ داروں کی بھی ایک بڑی تعداد ہسپتال میں موجود ہے۔

اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں امام بارگاہ سے متصل مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے باہر موجود نامہ نگار قرۃ العین شیرازی نے ایک عینی شاہد سے بات کی جنہوں نے بتایا ہے کہ ’حملہ آوروں کی تعداد تین تھی جن میں سے ایک احاطے سے باہر جبکہ دو اندر موجود تھے‘۔

تاہم تاحال حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدر آصف زرداری اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ترلائی میں مسجد میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ایوانِ وزیرِ اعظم کے ایک بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات ہوئی جس میں  واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی گئی۔ 

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’دھماکے کے ذمہ داران کو تعین کر کے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے‘ اور ’ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہر گز کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔‘

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جان سے جانے والے افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’بےگناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان