اسلام آباد مسجد حملے میں 31 اموات، حملہ آور کی شناخت کر لی: طلال چوہدری

اسلام آباد پولیس کے مطابق دھماکہ اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں ایک امام بارگاہ سے متصل مسجد میں ہوا ہے جس میں کم از کم 31 اموات ہوئی ہیں جبکہ 169 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق دارالحکومت کے نواحی علاقے ترلائی میں جمعے کی نماز کے دوران ایک امام بارگاہ سے متصل مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والے بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 31 ہو گئی ہے۔

ڈی سی اسلام آباد نے ایکس پر ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’دھماکے کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 31 ہوگئی ہے جبکہ 169 افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘

ترجمان اسلام آباد پولیس تقی جواد نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی ہے کہ اس دھماکے میں مرنے والوں میں آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کے ایک کزن بھی شامل ہیں جبکہ ان کے چچا زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ برائے مملکت طلال چوہدری نے جمعے کو ترلائی میں امام بارگاہ و جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ واقعہ انتظامیہ کے علم میں ایک بج کر 42 منٹ پر آیا۔‘

طلال چوہدری نے بتایا کہ اس واقعے میں 31 افراد کو موت ہوئی جبکہ 100 سے زائد زخمی ہیں۔

’یہ ایک خودکش دھماکہ تھا۔ حملہ آور افغان شہری تو نہیں تھا لیکن اس کا افغانستان کتنی مرتبہ جانا ہوا، وہ تفصیلات آ چکی ہیں۔‘

طلال چوہدری نے آئی جی اسلام آباد کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’اس حملے میں آئی جی اسلام آباد کے فرسٹ کزن بھائی بھی شہید ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ سافٹ ٹارگٹ ڈھونڈتے ہیں۔ اسلام، لسانیت کا نام لے کر مسلمانوں کو مارا نہیں جاتا۔ ہم نے دیگر ممالک کو ثبوت دیا ہے کہ یہ انڈیا سپانسرڈ ہے۔ بی ایل اے کا ہو یا ٹی ٹی پی کا، انہیں ڈالرز میں پیسے دیے جاتے ہیں۔

’اس واقعے کی تفصیلی رپورٹ 72 گھنٹے میں دی جائے گی۔ کچھ متعلقہ افراد بھی پکڑے گئے ہیں۔‘

ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق پمز، پولی کلینک اور سی ڈی اے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور اسسٹنٹ کمشنرز کو زخمیوں کے علاج و معالجے کی نگرانی کے لیے مختلف ہسپتالوں میں تعینات کیا گیا ہے، جبکہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔

پیمز ہسپتال کی ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جمعے کو مجموعی طور پر 149 افراد ہسپتال لائے گئے جن میں 28 جان سے جا چکے تھے اور 121 زخمی تھے۔

ترجمان نے کہا کہ اب تک 20 بڑے آپریشن مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ چار سے چھ آپریشنز جاری ہیں۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ سرجیکل آئی سی یو اور ہائی ڈیپنڈنسی یونٹ کو فوری طور پر فعال کر دیا گیا اور 60 سے زائد یونٹس خون منتقل کیا گیا۔

پمز ہسپتال میں موجود انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار فہد منظر نے بتایا ہے کہ زخمی یا جان سے جانے والوں کے رشتہ داروں کی بھی ایک بڑی تعداد ہسپتال میں موجود ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں امام بارگاہ سے متصل مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے باہر موجود نامہ نگار قرۃ العین شیرازی نے ایک عینی شاہد سے بات کی جنہوں نے بتایا ہے کہ ’حملہ آوروں کی تعداد تین تھی جن میں سے ایک احاطے سے باہر جبکہ دو اندر موجود تھے‘۔

تاہم تاحال حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

صدر آصف زرداری اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ترلائی میں مسجد میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ایوانِ وزیرِ اعظم کے ایک بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات ہوئی جس میں  واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی گئی۔ 

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’دھماکے کے ذمہ داران کو تعین کر کے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے‘ اور ’ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہر گز کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔‘

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جان سے جانے والے افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’بےگناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان