تنازعات سے بھرپور ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا خاموشی سے آغاز

افتتاحی تقریب سے عاری ورلڈکپ کا کپتانوں کا روایتی دن بھی متنازع رہا اور دو ممالک میں ہونے کے باعث ٹیمیں تقسیم ہو گئیں۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو اگر اس صدی کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز کھیل کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔

گذشتہ جتنے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ہوئے ان کے شور شرابے اور ہنگامے سے ایسا لگتا تھا کہ سوائے کرکٹ کے اس وقت کچھ بھی نہیں ہے۔

پہلا ورلڈکپ جنوبی افریقہ میں جب منعقد ہوا تو پہلا سال تھا اور جوش و ولولہ کم تھا لیکن اس نے بہت جلد ہر ایک کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔

جب 2022 کا ورلڈ کپ کا میچ میلبرن میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہو رہا تھا تو ایک لاکھ لوگ اسے سٹیڈیم میں دیکھ رہے تھے جبکہ کروڑوں لوگ ٹی وی پر دیکھ رہے تھے۔ فسوں کا یہ عالم تھا کہ اس میچ کے اختتام تک ہر ایک کی نظر کھیل پر تھی۔

اسی طرح جتنے بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ہوئے، ان کا آغاز شاندار اور گرم جوشی سے بھرپور تھا، لیکن موجودہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اپنے آغاز سے قبل ہی تنازعات کا شکار ہو گیا ہے، جس سے اس کی مقبولیت اور دلچسپی میں بھی کمی ہو گئی۔

بنگلہ دیش کا انخلا اس ایونٹ کا سب سے تاریک پہلو ہے۔ ایک ملک جو باقاعدہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلتا ہے اور متعدد آئی سی سی ایونٹس کرواچکا ہے، اس ورلڈکپ میں غیر متعلق ہو گیا ہے۔

انڈیا میں سکیورٹی مسائل کے باعث اس کا انکار آئی سی سی کو پسند نہیں آیا اور اسے خوش اسلوبی سے حل کرنے کے بجائے آئی سی سی نے سردمہری سے کام لے کر ایک ایسی ٹیم کو باہر کر دیا، جس کے ناظرین اور مداحوں کی تعداد 30 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

حالانکہ بنگلہ دیش کا مطالبہ پاکستان اور انڈیا کے مطابق ہے، جو پہلے ہی ایک دوسرے کے ملکوں میں کھیلنے سے انکار کرچکے ہیں اور آئی سی سی نے تسلیم بھی کیا ہے، لیکن ٹائیگرز کے لیے آئی سی سی نے متضاد رویہ اختیار کیا۔

سات فروری سے شروع ہونے والا ٹورنامنٹ عجیب کشکمش کا شکار ہے۔ اس افتتاحی تقریب سے عاری ورلڈکپ کا کپتانوں کا روایتی دن بھی متنازع رہا۔ دو ممالک میں ہونے کے باعث ٹیمیں تقسیم ہوگئیں اور ایک بنیادی تقریب جو کپتانوں کے اتحاد اور یکجہتی کی علامت ہوتی ہے، اب نفاق کا دروازہ بن گئی ہے۔

اس سارے قضیئے میں سب سے کمزور کردار آئی سی سی کا ہے جبکہ دوسرے ممالک کی خاموشی نے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے دبانے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، لیکن آئی سی سی کے ذمہ داران اس صورت حال کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہیں، جس نے عین وقت پر بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے اور وقت کم ہونے کے باعث آئی سی سی کے پاس متبادل انتظامات کی کوئی صورت نہیں ہے۔ 

پاکستان کی خاموشی یا نیم رضامندی

پاکستان نے واشگاف الفاظ میں انڈیا کے ساتھ میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، جو حکومت پاکستان کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے کیا گیا، تاہم آئی سی سی کے مطابق پی سی بی نے ابھی تک باقاعدہ طور پر آئی سی سی کو مطلع نہیں کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میزبان سری لنکا بورڈ بھی پریشان ہے کہ کیا یہ میچ ہوگا یا نہیں کیونکہ اس میچ کے لیے دس ہزار انڈین شہریوں نے ہوٹلوں کی بکنگ کروائی ہے جبکہ اس میچ کے تمام ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں۔ ٹکٹ خریدنے والے افراد ایک کشمکش میں گرفتار ہیں کہ سفر کریں یا نہیں !

دوسری طرف غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ آئی سی سی غیر روایتی طریقوں سے پاکستان کو بائیکاٹ سے باز رکھنے کی کوشش کر رہا ہے جن میں دو آئی سی سی ایونٹس پاکستان کو دینے اور میچ شیئر بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔

ابھی تک پی سی بی خاموش ہے لیکن ایک سرکاری مراسلہ ابھی تک آئی سی سی کو نہیں گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پی سی بی اس موقعے پر اپنے سارے مطالبات منوالینا چاہتا ہے لیکن کیا اپنے فوائد حاصل کرنے سے بنگلہ دیش کی اصولی حمایت کو داغ نہیں لگ جائے گا؟

انڈیا کو اس وقت دوہری پریشانی ہے، ایک پہلے میچ کا نقصان اور پھر سپر ایٹ اور ناک آؤٹ مرحلے میں مزید نقصان۔  

سب سے بڑی پریشانی فائنل کی ہے۔ اگر پاکستان فائنل میں پہنچ گیا تو انڈیا کے سو کروڑ لوگ صرف ٹی وی پر میچ دیکھ سکیں گے، اربوں ڈالر کے ایک ایونٹ کا یہ بدترین حال کہ کچھ بھی یقینی نہیں۔

پاکستان کا آغاز

پاکستان ٹیم اس وقت جتنی خبروں میں ہے، اتنی کوئی اور ٹیم نہیں۔ ہر ایک کا ایک ہی سوال ہے کہ کیا پاکستان کھیلے گا؟  سلمان علی آغا کو سختی سے زبان بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 

پاکستان ٹیم بہرحال اپنے تمام سازوسامان کے ساتھ کولمبو پہنچ چکی ہے، ٹیم مکمل تیار اور آمادہ ہے کہ سارے میچ کھیلے گی۔

پاکستان سات فروری کو کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلے گا۔ پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے دس بجے ہونے والا یہ میچ ایونٹ کا افتتاحی میچ ہے، اس کے فوری بعد سکاٹ لینڈ اور ویسٹ انڈیز کولکتہ میں جبکہ انڈیا امریکہ کے ساتھ ممبئی میں میچ کھیلے گا ۔

پاکستان ٹیم کے لیے اگرچہ یہ ایک آسان میچ ہے لیکن کپتان سلمان علی آغا کا کہنا ہے کہ وہ اس میچ کو بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں کیونکہ نیدرلینڈز دو سال قبل جنوبی افریقہ کو ہراچکی ہے ۔

پاکستان ٹیم پہلے میچ میں کوئی تجربہ نہیں کرے گی اور اپنی مضبوط ترین ٹیم کھلائے گا۔

صائم ایوب اور فرحان اوپنرز ہوں گے، سلمان علی آغا تیسرے اور بابر اعظم چوتھے نمبر پر بیٹنگ کریں گے۔ عثمان خان، شاداب خان اور محمد نواز مڈل آرڈر میں ہوں گے۔ فہیم اشرف، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور سپنر ابرار احمد ہوں گے جبکہ  فخر زمان کو نواز کی جگہ کھلایا جا سکتا ہے۔

نیدرلینڈز کی ٹیم میں ان کے کپتان آسٹریلین نژاد سکاٹ ایڈورڈز سب سے اچھے بلے باز ہیں۔ ان کے علاوہ ایکرمین اور بس دی لیڈے بھی اچھے بلے باز ہیں۔ بولنگ میں سب سے خطرناک ساؤتھ افریقن نژاد دان میروے ہیں، وہ اس ایونٹ کے معمر ترین کھلاڑی ہیں اور ان کی سپن بولنگ مشکلات پیدا کرے گی۔

بظاہر یہ ایک یکطرفہ اور غیر دلچسپ میچ ہوگا جس میں ایک انتہائی طاقتور حریف کا طفل مکتب ٹیم سے مقابلہ ہوگا، لیکن پاکستان کی گذشتہ ورلڈکپ میں امریکہ کے ہاتھوں شکست نے ہر ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے۔

پاکستان کے گروپ میں اس کے علاوہ امریکہ اور نمیبیا بھی ہیں، اس لیے اگر پاکستان انڈیا کے ساتھ میچ کا بائیکاٹ کرتا ہے تو اسے باقی تمام میچ بھاری مارجن سے جیتنا ہوں گے، تاکہ سپر ایٹ مرحلے میں مشکل پیش نہ آئے۔ 

ورلڈکپ کے تمام میچ ایک طرف اور 15 فروری کو انڈیا سے میچ ایک طرف، جس نے ہر نظر اس میچ پر لگا دی ہے اور ہر ایک کو اس کا شدت سے انتظار ہے۔ اگر یہ میچ ہو جاتا ہے یا نہیں تو دونوں میں سے ایک حریف کو سخت ہزیمت اٹھانا پڑے گی کیونکہ دونوں ممالک اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ہر روز اس غبارے میں ہوا بھر رہی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ سے زیادہ حکومت اس معاملے میں مداخلت کر رہی ہے، جس سے ایک طرف غیر جانبدار بورڈ کی حیثیت ختم ہوگئی ہے تو دوسری طرف حکومت کے ارادے غیر متزلزل نظر آتے ہیں۔

یہ بھی سچ ہے کہ انڈیا ہو یا پاکستان دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز اپنی حکومتوں کی ہدایات کے بغیر کچھ نہیں کرتے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ