پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے پچ بنانے والے شعبے نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ جیت کر لائے گی، کیونکہ ٹیم کی پریکٹس سری لنکن پچوں کے معیار پر تیار کی گئی پچز پر کروائی گئی ہے۔
ٹیم کے کھلاڑیوں کو سری لنکا کی پچوں سے مطابقت رکھنے والی سوئنگ اور بولنگ کے لیے موثر پچ پر پریکٹس کروائی گئی ہے اور اسی سبب پاکستان کی ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف حالیہ سیریز میں کامیابی حاصل کی۔
ماہرین کے مطابق پچ نہ صرف کھیل کے انداز کا تعین کرتی ہے بلکہ میچ کی جیت اور ہار کے فیصلے پر بھی اثرانداز ہوتی ہے، اسی لیے پچ تیار کرنے والے شعبے کو ہر ملک کے کرکٹ بورڈ میں خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
پی سی بی کی پچیں تیار کرنے والے شعبے کے ڈپٹی چیف کیوریٹر عثمان ارشد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ ایل سی سی اے گرؤانڈ کی پچ ہے جس پر پاکستانی کرکٹ ٹیم نے پریکٹس کی اور آسٹریلیا کی ٹیم کو سیریز میں شکست دے کر بہترین کارکردگی ثابت کر دی۔ ہم نے یہ پچز سری لنکن پچز کو مد نظر رکھتے ہوئے تیار کی ہیں تاکہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم بہترین کارکردگی دکھا سکے۔‘
عثمان کے بقول: ’ملک میں پچوں کی تیاری آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) کے معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہے۔ اس میں مٹی کا خاص تناسب، پچ کی سختی اور ہمواری، گھاس کی مقدار، باؤنڈری، آؤٹ فیلڈ کی نمی اور موسمی درجہ حرارت کے اثر کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں زیادہ تر پچیں مقامی مٹی سے تیار کی جاتی ہیں۔
خاص طور پر لاہور، کراچی اور راولپنڈی کی پچز اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں۔ بیٹنگ فرینڈلی پچ پر بلے بازوں کو زیادہ مدد ملتی ہے اور بڑے سکور بنتے ہیں۔
اسی طرح بولنگ فرینڈلی پچ اسے کہتے ہیں جہاں فاسٹ بولرز یا سپنرز کو سوئنگ اور ٹرن ملتا ہے۔ بیلنسڈ پچ جو عالمی کرکٹ میں سب سے زیادہ پسند کی جاتی ہے، جہاں بیٹر اور بولر دونوں کو یکساں مواقع ملتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’پچ میچ کے نتائج پر 40 سے 50 فیصد تک اثر ڈال سکتی ہے۔ ٹاس جیتنے والی ٹیم اکثر پچ کو دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے کہ پہلے بیٹنگ کرنی ہے یا بولنگ کیونکہ خشک پچ بعد میں سپنرز کے لیے مددگار بن جاتی ہے، سبز پچ پر فاسٹ بولرز حاوی رہتے ہیں جبکہ فلیٹ پچ پر رنز کا سیلاب آ جاتا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کرکٹ ماہرین کہنا ہے کہ ہر ملک اپنی ٹیم کی بولنگ اور بیٹنگ کے لحاظ سے ہی پچ تیا کرتا ہے۔ بقول عثمان: ’ہم پہلے صرف بیٹنگ پچز ہی تیار کرتے تھے لیکن کچھ عرصے سے پی سی بی حکام نے فیصلہ کیا کہ بولنگ پچز بنائی جائیں تاکہ ہمارا بولنگ پر انحصار زیادہ ہو اور بیٹنگ کے ساتھ بولرز کی کارکردگی میں اضافہ ہوسکے، لہذا اب ہم زیادہ تر غیر ملکی ٹیموں کی آمد پر بولنگ پچیں بناتے ہیں۔ سری لنکا میں بھی پچیں زیادہ تر خشک گھاس والی یعنی بولنگ میں سوئنگ کی مدد کرنے والی پچز ہیں۔‘
ڈپٹی چیف کیوریٹر کہتے ہیں: ’ہم نے جو وکٹیں تیار کی ہیں ان کی تیاری میں پہلے کھدائی کر کے پتھر ڈالا جاتا ہے، پھر اس کو دبایا جاتا ہے۔ اس کی لیر پر سخت مٹی ڈالی جاتی ہے، پھر اسے سکھا کر اس پر رولر پھیرتے رہتے ہیں۔ سب سے اوپر سخت مٹی میں گھاس لگائی جاتی ہے اور پھر گھاس کو سکھا کر دبایا جاتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جتنا زیادہ پچ پر دباؤ ڈالا جائے گا وہ اتنی ہی سخت ہوگی اور بولنگ کو سپورٹ کرے گی۔ ’اگر پچ پر رولر کم پھیرا جائے تو سختی کم ہوگی اور اس کا فائدہ بلے بازوں کو ہوتا ہے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے بتایا: ’کچھ سالوں سے آئی سی سی کی ہدایت پر پچز پر بننے والی کریز کی لائنیں رنگین کی جانے لگی ہیں۔ ہم زیادہ تر نیلی یا سرخ کرتے ہیں تاہم رنگوں کے استعمال میں کیوریٹر کی مرضی کو ترجیح دی جاتی ہے۔‘
ماہرین کے مطابق جدید کرکٹ میں صرف کھلاڑیوں کی مہارت ہی نہیں بلکہ پچ کی تیاری بھی ایک ’خاموش کھلاڑی‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔