لاہور:بسنت سے قبل لاہور کی مارکیٹ میں ڈوریں اور پتنگ نایاب

موچی گیٹ مارکیٹ کے ایک دکاندار کے مطابق: ’وقت کم ہونے کی وجہ سے نہ پتنگیں تیار ہوئیں، نہ ہی ڈور ڈیمانڈ کے مطابق بن سکی۔‘

شہریوں کا شکوہ ہے کہ لاہور کی سب سے بڑی مارکیٹ موچی گیٹ میں اکثر دکانوں پر پتنگ اور ڈوریں نایاب ہو گئیں ہیں جبکہ ریٹ بھی کئی گنا بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومت پنجاب نے لاہور میں چھ سے آٹھ فروری کو بسنت کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے لیے یکم فروری سے پتنگ اور ڈوروں کی خریدوفروخت کی اجازت دی گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خصوصاً موچی گیٹ میں یکم فروری سے شدید رش دیکھنے میں آیا، دکانیں بھی دن رات کھلی ہیں اور پتنگ بازی کے شوقین بڑی تعداد میں مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں۔ مگر چند دنوں میں ڈیمانڈ کے مطابق سپلائی نہ ہونے پر پتنگ بازی کے بیشتر شوقین کو ڈوریں اور پتنگیں دستیاب نہیں ہوسکیں۔

موچی گیٹ مارکیٹ میں کئی دہائیوں سے پتنگوں کا کاروبار کرنے والے خواجہ فرخ عباس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہم تین پشتوں سے یہ کام کر رہے ہیں لیکن وقت کم ہونے کی وجہ سے نہ پتنگیں تیار ہوئیں، نہ ہی ڈور ڈیمانڈ کے مطابق بن سکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرے پاس منگل کی شام کو پتنگیں اور ڈوریں ختم ہوگئیں۔ اب مارکیٹ میں جو دستیاب ہیں وہ مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’پشاور یا دوسرے شہروں سے پتنگیں اور ڈور منگوانے کی اجازت بھی دو دن پہلے دی گئی ہے، وہاں بھی پتنگ کی قیمت دو سے پانچ سو روپے جبکہ ڈور کا پنا آٹھ سے دس ہزار روپے کا بتا رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات الگ ہیں۔ اگر وہاں سے منگوائیں تو ہمیں کیا بچے گا۔‘

خواجہ فرخ عباس نے شکوہ کیا کہ ’حکومت کی جلد بازی کی وجہ سے پتنگ کا شوق عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگیا ہے۔ یہاں ہر ایک اپنے بچوں کے لیے خریداری کے لیے آرہا ہے لیکن قیمتیں زیادہ ہونے اور پتنگیں دستیاب نہ پر پریشان ہیں۔‘

خریداروں نے بھی شکوہ کیا کہ کہیں پتنگ نہیں مل رہی تو کہیں ڈور دستیاب نہیں۔ اگر کسی دکاندار کے پاس ہے تو وہ منہ مانگی قیمتیں مانگ رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت پر پتنگ بازی کی اجازت انتہائی سخت شرائط کے ساتھ دی ہے اور اس حوالے سے شہر بھر میں انتظامات بھی کیے جارہے ہیں خصوصاً حفاظتی اقدامات انتہائی سخت کیے گئے ہیں اور خلاف ورزی پر کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں، جن میں سرفہرست کیمکل اور پلاسٹک والی ڈور کے استعمال پر پابندی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان