فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بدھ کو کوئٹہ کا دورہ کیا، انہوں نے اس موقعے پر کہا کہ’کسی بھی دہشت گرد اور اس کے سہولت کار کو نہیں بخشا جائے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’دہشت گردوں سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا، اور یہ کہ کسی بھی جواز کے تحت تشدد اور دہشت گردی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دورہ کوئٹہ میں انہیں موجودہ سکیورٹی صورتحال اور اندرونی سکیورٹی آپریشنز سے متعلق جامع آپریشنل بریفنگ دی گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بریفنگ میں حالیہ ’دہشت گرد حملوں کا احاطہ کیا گیا جو انڈین حمایت یافتہ، عالمی سطح پر نامزد دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان کے عناصر نے منظم کیے تھے، جبکہ سکیورٹی فورسز کے بروقت اور جارحانہ ردِعمل پر بھی روشنی ڈالی گئی، جس کے نتیجے میں امن، استحکام اور بلوچستان کی ترقی کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔‘
ریاست کی عمل داری کو مزید مضبوط بنانے اور عوام و اہم تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
انہوں نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جرأت اور قربانیوں کو سراہا جنہوں نے پاکستان مخالف مذموم عزائم کو ناکام بنانے اور امن و امان برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
بعد ازاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستان فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے زخمی اہلکاروں سے ملاقات کی۔
یکم فروری کو بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے پچھلے 40 گھنٹوں میں 145 عسکریت پسندوں کو مارا، جو ’دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کے دوران اتنے کم عرصے میں اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔‘
31 جنوری 2026 کو بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کے تحت ’مربوط حملوں‘ کیے، جنہیں سکیورٹی فورسز کے مطابق ناکام بنا دیا گیا۔