پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے منگل کو صحافی ارشد شریف قتل کیس کی ازخود نوٹس کی کارروائی نمٹاتے ہوئے فیصلہ جاری کیا ہے کہ چونکہ پاکستان اور کینیا کی حکومتیں اس کیس کے سلسلے میں مناسب اقدامات اٹھا رہی ہیں لہذا ’عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔‘
جسٹس عامر فاروق کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ ’پاکستان اور کینیا کے درمیان باہمی قانونی معاہدہ (ایم ایل اے) پر دستخط ہو چکا ہے، لہذا اس وقت عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ سوموٹو کیس اور تمام متعلقہ درخواستیں نمٹائی جاتی ہیں۔‘
فیصلے کے مطابق اس معاہدے کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو ممکن بنانا ہے، جس میں شواہد کا حصول، جائے وقوعہ کے دورے اور واقعے سے منسلک افراد سے تفتیش شامل ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ’ہم اپنے شہری کی وفات پر پوری قوم اور صحافتی برادری کے ساتھ پائے جانے والے غم میں شریک ہیں اور اس کا اعتراف کرتے ہیں۔‘
سال 2023 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے صحافی ارشد شریف کے کینیا میں ہونے والے قتل کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ جس کے بعد کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تھا۔
پارلیمان کی جانب سے قانون سازی کے ذریعے وفاقی آئینی کے قیام کے بعد یہ کیس وفاقی آئینی عدالت منتقل ہو گیا تھا۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روضی بریچ پر مشتمل عدالت کا دو رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’ججز ہمیں سننے سے کتراتے رہے اور مجھے چار سال اجازت مانگنے کے باوجود کبھی بولنے نہیں دیا گیا اور حکومت کے وکلا ایسے محسوس ہوتے تھے جیسے وہ کینیا کے وکیل ہیں۔ انہیں اپنے شہری ارشد شریف کے قتل کی کوئی پرواہ نہیں تھی وہ سب کینیا کے ساتھ سفارتی تعلقات کو ترجیح دیتے رہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ کیس سپریم کورٹ سے وفاقی آئینی عدالت گیا اور انہوں نے یہ کیس ختم کر دیا۔ ’مجھے اس سے شدید رنج پہنچا ہے۔‘
جویریہ صدیق نے مطالبہ کیا ہے کہ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور ’ایف آئی آر ہم اہل خانہ کی مدعیت میں درج کی جائے۔‘
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ’ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا ہے کہ کینیا جانے کے لیے وہاں کے متعلقہ حکام کو باضابطہ درخواست دے دی گئی ہے اور پاکستان اس وقت ان کے جواب کا منتظر ہے۔
’ریکارڈ کے جائزے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نے 20 فروری 2023 کو کینیا کے صدر سے رابطہ کیا تاکہ تحقیقات شفاف انداز میں اور بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کی جا سکیں اور اس سلسلے میں کینیا کے حکام سے تعاون کی درخواست کی گئی۔‘
14 صفحات پر مشتمل فیصلے کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو مزید آگاہ کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے ان کے خلاف بلیک وارنٹس جاری کیے جا چکے ہیں تاکہ انہیں قانون کے مطابق پاکستان میں مقدمے کا سامنا کروایا جا سکے۔
اپنی انفرادی حیثیت میں، مرحوم ارشد شریف کے اہل خانہ نے کینیا میں بھی قانونی چارہ جوئی اختیار کی، جہاں انہوں نے ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے کینیا کی ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی، یہ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ آف کینیا میں زیر اپیل ہے۔
عدالت نے وزارت خارجہ کے کردار سے متعلق فیصلے میں کہا کہ اس نے دونوں ریاستوں کے سربراہان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ممکن بنایا، جبکہ کینیا کے ہائی کمشنر کو پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے طلب کر کے ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات میں کینیائی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
اس فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے بھی کینیا کے کابینہ سیکریٹری برائے خارجہ امور سے رابطہ کیا اور کینیا کے حکام کی جانب سے سہولت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
فیصلے کے مطابق صحافی ارشد شریف کی پہلی اہلیہ صومیہ ارشد کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل سعد بٹر نے یہ موقف اختیار کیا کہ موجودہ ازخود نوٹس کی کارروائی کو زیر التوا رکھنے کی استدعا کی، تاہم یہ واضح نہیں کیا جا سکا کہ یہ کارروائی کس مدت تک زیر التوا رہے، آیا تحقیقات کی تکمیل تک، ملزمان کے ٹرائل کے اختتام تک، یا غیر معینہ مدت کے لیے۔
ایسی صورت میں اس کا عملی نتیجہ یہ ہوگا کہ عدالت کو مسلسل متعلقہ حکام، بشمول وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تحقیقات کی پیش رفت اور اس کے طریقۂ کار کے بارے میں معلومات طلب کرنا پڑیں گی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’ورثا کسی بھی معاملے پر متعلقہ عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔‘