پاکستان، قزاقستان کا تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

وزیراعظم شہباز شریف نے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کو دونوں برادر ممالک کے تعلقات میں ایک ’تاریخی لمحہ‘ قرار دیا۔

پاکستان اور قزاقستان نے بدھ کو سٹریٹجک شراکت داری کے قیام کے لیے مشترکہ اعلامیے کے علاوہ 37 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

قزاقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف پاکستان کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات اور مذاکرات کیے، جس کے بعد ان دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق جن 37 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے ان میں پیٹرولیم، کان کنی و ارضیاتی علوم، بحری امور، کسٹمز، ریلوے، زراعت، مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ترقی، صحت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، نیوز ایکسچینج و نشریات، اطلاعاتی تبادلہ و پیشہ ورانہ ترقی، موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی تحفظ، معیشت، ثقافت، انسانی تعاون، جرائم کی روک تھام اور کھیلوں کے شعبے شامل ہیں۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کو دونوں برادر ممالک کے تعلقات میں ایک ’تاریخی لمحہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ قدم امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کی جانب اہم پیش رفت ہے۔‘

وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اور قزاقستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 250 ملین ڈالر ہے، جسے آئندہ دو سالوں میں ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اپنی بزنس کمیونٹیز کو مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے آگے آنے کی ترغیب دیں گے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بیلاروس، روس، قزاقستان، ازبکستان، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل ٹرانسپورٹ کوریڈور پر بھی اتفاق ہوا ہے تاکہ علاقائی رابطوں کو فروغ دیا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے قزاقستان کو اپنے ٹرانزٹ انفراسٹرکچر اور بندرگاہی سہولیات تک مکمل رسائی کی پیشکش کی ہے۔

توانائی کے شعبے میں تعاون کو دونوں ممالک کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’پاکستان قزاقستان کو وسطی ایشیا میں ایک اہم سٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔‘

اس موقعے پر قزاقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا اور اس سے آگے ایک قابلِ اعتماد اور اہم شراکت دار ہے۔ انہوں نے پاکستان کو برادر ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی شاندار تاریخ، متحرک ثقافت اور عالمی سطح پر مضبوط شناخت ہے۔

مشترکہ اعلامیہ کو ’تاریخی‘ قرار دیتے ہوئے صدر توکایوف نے کہا کہ اس سے دوطرفہ اور کثیرالجہتی ایجنڈے کے تمام پہلوؤں میں تعاون کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور تعلقات ایک نئی سطح پر پہنچیں گے۔

انہوں نے پاکستان کی دفاعی صنعت کی تیز رفتار ترقی کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قزاقستان برادر پاکستانی عوام کی کامیابیوں پر فخر کرتا ہے۔ انہوں نے دفاعی صنعت اور سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کا اعلان کیا۔

دونوں قائدین نے پاکستان اور قزاقستان کے درمیان براہِ راست فضائی روابط کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لیا جبکہ توانائی کے شعبے میں منصوبوں اور تاپی گیس پائپ لائن کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔

صدر توکایوف منگل کو دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔ خشکی میں گھرے قزاقستان کی خواہش ہے کہ وہ بحیرۂ عرب میں پاکستان کی جنوبی بندرگاہوں کے ذریعے سمندری تجارتی راستوں تک رسائی حاصل کرے، جبکہ پاکستان خود کو ایک علاقائی ٹرانزٹ حب کے طور پر پیش کر رہا ہے اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ زمینی و تجارتی رابطوں کو بہتر بنانے پر زور دے رہا ہے۔

بعدازاں وزیراعظم شہباز شریف اور قزاقستان کے صدر جومارت توکایووف نے قزاقستان پاکستان سپورٹس سینٹر دوستیک اور یونیورسٹیوں کے مابین تین سینٹرز کے قیام کی یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان