امریکہ نے ایرانی ڈرون ’مار گرایا‘، کشیدگی کے باوجود رواں ہفتے مذاکرات متوقع

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایک ایرانی شاہد-139 ڈرون ’جارحانہ انداز‘ میں امریکی طیارہ بردار جہاز کی طرف بڑھ رہا تھا، جسے ایف-35 سی فائٹر جیٹ نے مار گرایا۔

امریکی محکمۂ دفاع سے حاصل ہونے والی اس تصویر میں امریکی بحریہ کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور (سی وی این 69) (آئی کے ای) 26 نومبر 2023 کو آبنائے ہرمز سے گزرتا ہوا دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)

امریکی افواج نے کہا ہے کہ اس کی بحریہ کے ایک فائٹر جیٹ نے منگل کی صبح ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا، جو ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب پہنچ گیا تھا۔

امریکی بحریہ کے مطابق ایرانی نیم فوجی پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار کشتیوں نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز کو روکنے کی بھی کوشش کی۔ ایران کی جانب سے فوری طور پر ان دونوں واقعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایک ایرانی شاہد-139 ڈرون ’جارحانہ انداز‘ میں امریکی طیارہ بردار جہاز کی طرف بڑھ رہا تھا، جسے ایف-35 سی فائٹر جیٹ نے مار گرایا۔

یہ واقعہ ایران کے جنوبی ساحل سے تقریباً 805 کلومیٹر دور پیش آیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک اور واقعے میں پاسدارانِ انقلاب کی کشتیوں اور ایک ایرانی ڈرون نے امریکی پرچم بردار آئل ٹینکر اسٹینا امپیریٹو کو روکنے اور قبضے کی دھمکی دی۔ بعد ازاں امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس میک فال نے حفاظتی فضائی مدد کے ساتھ ٹینکر کو محفوظ راستہ فراہم کیا۔

اس پیش رفت کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی امیدیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ امریکا کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اس ہفتے ترکی میں ایرانی حکام سے بات چیت کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم اس کے لیے دونوں فریقوں کی آمادگی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک سنجیدہ شراکت دار کی تلاش میں ہے۔

اس سے قبل ایران کے صدر نے منگل کو کہا تھا کہ انہوں نے ملک کے وزیر خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ’منصفانہ اور مساوی مذاکرات‘ کو آگے بڑھائیں۔

صدر مسعود پزشکیان کا یہ بیان ایران کی جانب سے پہلا واضح اشارہ ہے کہ وہ ترکی کی میزبانی میں منعقد ہونے والے مذاکرات میں حصہ لے سکتا ہے۔

مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا تھا: ’میں نے اپنے وزیرِ خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ اگر موزوں ماحول میسر ہو، ایسا ماحول جو دھمکیوں اور غیر معقول توقعات سے پاک ہو ، تو عزت، تدبر اور مصلحت کے اصولوں کی روشنی میں منصفانہ اور مساوی مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے۔‘

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی تصدیق کی ہے جبکہ دونوں ملکوں کے عہدیداروں کے درمیان چھ فروری کو استنبول میں بات چیت کا دور متوقع ہے۔

ترکی کی ثالثی کی کوششیں

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ترکی پس پردہ کوششیں کر رہا ہے کہ مذاکرات اسی ہفتے وہاں منعقد ہو سکیں، تاہم ترک حکام کے مطابق مقام ابھی حتمی نہیں۔

اطلاعات کے مطابق عمان، پاکستان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو بھی ممکنہ مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے منگل کو تصدیق کی تھی کہ پاکستان کو ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ’دعوت نامہ موصول‘ ہو گیا ہے، تاہم ان مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کون کرے گا، اس بارے میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

دفتر خارجہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’مذاکرات کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کرنا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا