پاکستان کی بن غازی میں قونصل خانہ کھولنے کے لیے بات چیت: روئٹرز

اس معاملے کی خبر رکھنے والے تین ذرائع نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ خلیفہ حفتر نے پاکستان کے دورے کے دوران حکام کے ساتھ اس اقدام پر تبادلہ خیال کیا۔

لیبین نیشنل آرمی کے سربراہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی 2 فروری 2026 کو جی ایچ کیو میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات ہوئی (آئی ایس پی آر)

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے منگل کو رپورٹ کیا کہ پاکستان کی مشرقی لیبیا کے شہر بن غازی میں قونصل خانہ کھولنے کے لیے بات چیت جاری ہیں۔

لیبیا 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت کے بعد انتشار کا شکار ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور 2014 کی خانہ جنگی کے بعد سے ملک مشرقی اور مغربی حکام میں منقسم ہے۔

طرابلس میں قائم اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت مغربی حصے کو کنٹرول کرتی ہے، جبکہ بن غازی میں قائم لیبین نیشنل آرمی کے سربراہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی افواج مشرق اور جنوب کو کنٹرول کرتی ہیں، جن میں بڑے تیل کے ذخائر بھی شامل ہیں۔

روئٹرز کے مطابق قونصل خانہ کھولنے سے پاکستان بن غازی میں سفارتی موجودگی رکھنے والے ممالک کے ایک چھوٹے گروپ میں شامل ہو جائے گا۔

اس معاملے کی خبر رکھنے والے تین ذرائع نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ خلیفہ حفتر نے پاکستان کے دورے کے دوران حکام کے ساتھ اس اقدام پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستانی فوج کے مطابق، خلیفہ حفتر نے پیر کو پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی جس میں ’پیشہ ورانہ تعاون‘ پر بات چیت کی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ذرائع کے مطابق وہ منگل کو وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کرنے والے تھے تاہم اس حوالے سے پاکستان کے وزیر اعظم کے دفتر اور وزارتِ خارجہ نے تبصرے کی درخواستوں پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

ایل این اے کے سرکاری میڈیا پیج کے مطابق، حفتر اور ان کے بیٹے صدام نے سینیئر پاکستانی فوجی حکام سے ملاقات کی، جو ’دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں ہم آہنگی کے وسیع امکانات کھولنے کے فریم ورک‘ کے تحت ہوئی۔

روئٹرز کو اس معاملے پر فوری طور پر مشرقی لیبیائی حکام سے کوئی ردعمل موصول نہیں ہوا ہے۔

پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دسمبر میں بن غازی کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے ایل این اے کے ساتھ اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

تینوں ذرائع کے مطابق بن غازی میں قونصل خانہ کھولنے کا فیصلہ 4 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے سے منسلک ہے، جو پاکستان کی تاریخ میں اسلحہ کی سب سے بڑی فروخت میں سے ایک ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا