غزہ کی جنوبی کی رفح سرحدی کراسنگ کے جزوی طور پر کھلنے کے بعد بیمار اور زخمی غزہ کے باشندوں نے پیر کو علاج کے لیے مصر جانا شروع کر دیا جبکہ اس موقع پر خاندانوں کے ملاپ کے جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔
اسرائیل نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے اصرار پر تقریباً دو سال بعد اتوار کو تباہ حال غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ جزوی طور پر کھولی تھی اور فی الحال رسائی صرف لوگوں کی آمد و رفت تک محدود ہے۔
یہ راستہ ایسے وقت میں کھولا گیا ہے جب فلسطینی علاقے میں فائر بندی کے باوجود اسرائیلی جارحیت جاری ہے۔
مصر کے ساتھ سرحدی کراسنگ غزہ کا بیرونی دنیا کا واحد گیٹ وے ہے جو اسرائیل کی طرف نہیں جاتا اور لوگوں اور سامان دونوں کے لیے رسائی کا اہم مقام ہے۔
مصری حکام نے پیر کو کہنا کہ 150 کے قریب افراد نے پیر کو رفع کراسنگ کے ذریعے علاقہ چھوڑنا تھا، جبکہ 50 نے غزہ میں داخل ہونا تھا۔
مصری محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اب تک تین ایمبولینسیں پہنچ چکی ہیں جن میں متعدد بیمار اور زخمی ہیں، جنہیں پہنچنے پر فوری طور پر سکریننگ کی گئی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ انہیں کس ہسپتال میں منتقل کیا جائے۔‘
آپریشن کی جزوی بحالی غزہ کے شہری دفاع نے ہفتے کے آخر میں اسرائیلی حملوں کی لہر میں درجنوں افراد کے مارے جانے کی اطلاع کے بعد کی ہے، جس میں فوج نے کہا تھا کہ رفح شہر میں ایک سرنگ سے نکلنے والے فلسطینی جنگجوؤں کا جوابی کارروائی تھی۔
غزہ شہر سے تعلق رکھنے والے لیوکیمیا کے ایک 38 سالہ مریض محمود نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ اپنی بہن کے ہمراہ علاج کے لیے مصر جانے پر خوش قسمت محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’غزہ میں نہ کوئی علاج ہے اور نہ ہی زندگی۔۔۔ یقیناً میں خوش قسمت ہوں، لیکن میں اب بھی اداس ہوں کیونکہ میرے والد اور والدہ ابھی بھی غزہ میں ہیں۔‘
غزہ کی روزمرہ کی حکمرانی کی نگرانی کے لیے قائم کی گئی فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے سربراہ، علی شعت نے کہا کہ رفح کے دوبارہ کھلنے سے علاقے کے لیے ’امید کی کھڑکی‘ ہے۔
امدادی گروپوں کی مہینوں کی اپیلوں کے بعد جزوی بحالی اتوار کو سختی سے محدود پائلٹ مرحلے میں شروع ہوئی جس میں لوگوں کا سفر شامل نہیں تھا۔
شمالی سینا کے گورنر خالد موغاور نے، جس میں رفح کا مصری حصہ بھی شامل ہے، نے مصر کی ریاست سے منسلک القہرہ نیوز پر کہا کہ پیر کو 50 فلسطینی مریض اور ان کے 84 ساتھیوں کے مصر میں داخل ہونے کی توقع ہے۔
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کان نے اطلاع دی ہے کہ کراسنگ روزانہ تقریباً چھ گھنٹے کے لیے کھلی رہے گی، جبکہ القاہرہ نیوز نے کہا کہ مصری فریق ’24 گھنٹے‘ کھلا رہے گا۔
30 سالہ عبدالرحیم محمد نے کہا کہ وہ اپنی والدہ کی غزہ واپسی کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں، جو مارچ 2024 میں کینسر کے علاج کے لیے مصر روانہ ہوئی تھیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، ’دو دن پہلے انہیں اطلاع ملی کہ وہ غزہ واپس آ سکتی ہیں اور مجھے فون پر کہا، ’آؤ اور کراسنگ پر میرا انتظار کرو۔
’میں آج بہت خوش ہوں... میں اپنی ماں کو گلے لگاؤں گا۔‘
رفح ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جو اسرائیلی افواج کے قبضے میں ہے جس کے بعد نام نہاد ’یلو لائن‘ کہلانے والی امریکی ثالثی جنگ بندی کی شرائط کے تحت ان کے انخلا کے بعد 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہے۔
اسرائیلی فوج اب بھی غزہ کے آدھے سے زیادہ حصے پر قابض ہے جبکہ باقی حماس کے کنٹرول میں ہے۔
رفح کراسنگ کو 2025 کے اوائل میں مختصر طور پر کھول دیا گیا تھا، لیکن مئی 2024 میں اسرائیلی افواج کے قبضے کے بعد سے اسے بڑی حد تک بند کر دیا گیا۔
غزہ شہر کے الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے بتایا کہ علاقے میں 20,000 ایسے مریض ہیں جنہیں علاج کی فوری ضرورت ہے، جن میں 4500 بچے بھی شامل ہیں۔
القاہرہ نیوز نے مصر کی وزارت صحت کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ فلسطینی مریضوں کو لینے کے لیے 150 ہسپتال اور 300 ایمبولینسیں تیار کی گئی ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ 12,000 ڈاکٹروں اور 30 تیز رفتار تعیناتی ٹیموں کو منتقل کیے جانے والوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے مختص کیا گیا ہے۔