بحیرہ روم کے ساحل پر محصور فلسطینی پٹی غزہ کو مصر سے جوڑنے والی واحد سرحدی گزرگاہ رفح کو تقریباً ایک سال بعد پیر کو محدود تعداد میں مسافروں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ یہ کراسنگ مئی 2024 میں اسرائیلی فوج کے قبضے کے بعد بند کر دی گئی تھی۔
رفح کراسنگ کی بحالی ان فلسطینیوں کے لیے امید کی کرن سمجھی جا رہی ہے جو علاج کے لیے غزہ سے باہر جانا چاہتے ہیں یا جنگ کے باعث نقل مکانی کے بعد واپس اپنے گھروں کو لوٹنا چاہتے ہیں۔
تاہم ابتدائی مرحلے میں اس کی بحالی زیادہ تر علامتی نوعیت کی ہے کیونکہ صرف محدود تعداد میں افراد کو پیدل آمدورفت کی اجازت دی جا رہی ہے۔
رفح کراسنگ کی اہمیت
رفح کراسنگ غزہ کی جنوبی سرحد پر مصر کے ساتھ واقع ہے اور اسے جزیرہ نما صحرائے سینا سے جوڑتی ہے۔ یہ غزہ کے 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے لیے دنیا سے جڑنے کا واحد راستہ ہے جو اسرائیل کے براہ راست کنٹرول میں نہیں تھا۔
یہ گزرگاہ رفح شہر کے قریب واقع ہے، جہاں کبھی تقریباً ڈھائی لاکھ افراد آباد تھے، تاہم جنگ کے دوران اسرائیلی کارروائیوں کے باعث شہر مکمل طور پر تباہ اور خالی ہو چکا ہے۔
رفح اور مصر کے درمیان سرحدی علاقے کو ’فلاڈیلفی کوریڈور‘ کہا جاتا ہے جو تقریباً 14.5 کلومیٹر طویل ریتلا علاقہ ہے۔
اس وقت کراسنگ کے غزہ والے حصے پر اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کا کنٹرول ہے جبکہ یورپی یونین اور فلسطینی اتھارٹی کے اہلکار بھی اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جاری کردہ تصاویر میں اونچی باڑیں، خار دار تار اور مضبوط کنکریٹ دیواریں دیکھی جا سکتی ہیں۔
اب اس کراسنگ کے ذریعے کون آ جا سکے گا؟
نئی ہدایات کے تحت صرف پیدل سفر کرنے والے فلسطینیوں کو آمدورفت کی اجازت ہوگی اور وہ بھی اسرائیلی اور مصری سکیورٹی منظوری کے بعد۔
روئٹرز کے مطابق روزانہ تقریباً 50 افراد کو غزہ میں داخل ہونے اور 50 کو باہر جانے کی اجازت دی جائے گی۔ ان میں زیادہ تر مریض اور جنگ کے دوران نقل مکانی کرنے والے افراد شامل ہوں گے۔
اسرائیلی اور مصری حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 50 مریضوں کو علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی جبکہ ان کے ساتھ دو معاون افراد ہوں گے۔ اس کے علاوہ جنگ کے دوران غزہ چھوڑنے والے 50 فلسطینی واپس آ سکیں گے۔
یہ تعداد غزہ کی وزارت صحت کے مطابق بیرون ملک علاج کے منتظر تقریباً 20 ہزار مریضوں اور زخمیوں کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ اسی طرح قاہرہ میں رجسٹرڈ 30 ہزار سے زائد فلسطینیوں میں سے بھی صرف چند افراد کو واپسی کا موقع ملے گا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیل سے توقع ہے کہ وہ داخل ہونے والوں کے مقابلے میں زیادہ افراد کو باہر جانے کی اجازت دے گا۔ وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کی حکومت غزہ سے فلسطینیوں کے مستقل انخلا کی خواہاں سمجھی جاتی ہے۔
صحافیوں پر پابندی برقرار
رفح کی محدود بحالی کے باوجود اسرائیل نے غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔ جنگ کے آغاز سے اب تک بیرونی میڈیا پر پابندی عائد ہے۔
روئٹرز سمیت عالمی اداروں کے لیے رپورٹنگ صرف وہ مقامی صحافی کر رہے ہیں جو غزہ میں مقیم ہیں، جن میں سے سینکڑوں جنگ کے دوران مارے جا چکے ہیں۔
غزہ کی دیگر گزرگاہیں
غزہ کی اسرائیل کے ساتھ مرکزی گزرگاہ ابو سالم ہے، جو جنوبی علاقے میں واقع ہے اور جنگ کے دوران زیادہ تر فعال رہی ہے۔ اس کے ذریعے انسانی امداد اور تجارتی سامان غزہ میں داخل کیا جاتا رہا ہے تاہم عام فلسطینیوں کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
کچھ مریضوں، طلبہ اور خصوصی افراد کو ابو سالم کے ذریعے باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ بعض افراد کو بیرون ملک پروازوں میں سوار ہونے کا موقع بھی ملا ہے۔
جنگ سے قبل غزہ کی شمالی سرحد پر ایریز کراسنگ فعال تھی لیکن سات اکتوبر 2023 کے بعد سے یہ مکمل طور پر بند ہے۔ اس کے علاوہ چند دیگر راستے وقفے وقفے سے انسانی امداد کے لیے کھولے جاتے رہے ہیں۔
غزہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات
اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ کا بڑا حصہ ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے اور یہاں کے 20 لاکھ سے زائد افراد کو فوری طور پر خوراک، ایندھن، ادویات اور خیموں کی شدید ضرورت ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ماہرین کے مطابق یہ بات نہایت اہم ہوگی کہ رفح کراسنگ کتنی جلد سامان کی ترسیل کے قابل بنتی ہے کیونکہ اس کا براہ راست اثر غزہ کی تعمیر نو پر پڑے گا۔
انتظام اور مستقبل پر سوالات
جنگ کے دوران رفح کراسنگ کا غزہ والا حصہ شدید طور پر متاثر ہوا ہے۔ موجودہ فائر بندی معاہدے کے تحت حماس کو غزہ کے انتظام میں کوئی کردار حاصل نہیں ہوگا، جس کے باعث یہ واضح نہیں کہ جنگ کے بعد کراسنگ کو کون چلائے گا۔
اس وقت یورپی یونین کا مشن فلسطینی سکیورٹی اہلکاروں کی مدد سے اسے چلا رہا ہے، جیسا کہ 2025 کے آغاز میں مختصر جنگ بندی کے دوران کیا گیا تھا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کی مکمل سکیورٹی جانچ کرے گا۔
ادھر وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں اسلحہ ختم کیے بغیر تعمیرِ نو ممکن نہیں۔ مبصرین کے مطابق اس مؤقف کے باعث رفح کراسنگ پر اسرائیل کا کنٹرول مستقبل میں ایک اہم دباؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرق وسطیٰ کے مشیر جیرڈ کشنر کے مطابق جنگ کے بعد تعمیرات کا آغاز رفح میں کراسنگ کے قریب مزدوروں کے لیے رہائشی منصوبوں سے کیا جائے گا۔
