وزیراعظم سے ’دہشت گردی‘ پر تبادلہ خیال، عمران پر بات نہیں ہوئی: سہیل آفریدی

وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی حکومت ’انسداد دہشت گردی کے لیے صوبائی اداروں کو مضبوط کرے۔‘

وزیر اعظم شہباز شریف سے دو فروری 2026 کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ملاقات کر رہے ہیں (وزیر اعظم آفس)

وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو وزیراعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں ’انسداد دہشت گردی‘ اور دیگر صوبائی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

البتہ سہیل آفریدی نے میڈیا کو بتایا کہ اس ملاقات میں سیاسی امور اور عمران خان سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے وفاقی و صوبائی حکومت کے مابین تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

’امن وامان کے قیام کے لیے صوبائی حکومت کی کوششیں مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت انسداد دہشت گردی کے لیے صوبائی اداروں کو مضبوط کرے۔‘

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی۔ ’خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام اور عوامی فلاح کیلئے صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔‘

وزیراعلٰی سہیل آفریدی نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس ملاقات کی دعوت دی تھی جس میں صوبے کے مسائل پر بات ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے صوبائی مسائل حل کرنے سے متعلق وفاقی وزیر احسن اقبال کو ہدایات جاری کیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ’عمران خان کے ساتھ ملاقات یا مذاکرات پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ کسی سیاسی معاملے پر بھی کوئی بات نہیں ہوئی۔ تمام باتیں حکومت کے سامنے رکھ دی ہیں۔‘

وزیراعلٰی خیبر پختونخوا نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ مسائل حل کیے جائیں گے’ مزید اجلاس ہوں گے تو فیصلے سامنے آ جائیں گے۔ آج کی ملاقات عہدے کا تقاضہ تھی۔‘

عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں اور اقدامات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ  ’دہشت گردی کا کوئی مذہب، ملک یا صوبہ نہیں ہوتا۔‘

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت با اختیار ہے، صحت و تعلیم کے لیے خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے، صوبے کی عوام کی خوشحالی کے لیے وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے مطابق بھرپور کاوشیں جاری رکھے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ قومی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی روابط اور مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی دائرہ کار کے مطابق تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

’وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے اور یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے۔

’ باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل کے ذریعے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کے اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان