وادی تیراہ کے معاملے پر پی ٹی آئی سیاست کر رہی ہے: وزیر مملکت طلال چوہدری

وادی تیراہ سے مقامی آبادی کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے تاہم وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ وادی میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری 28 جنوری 2026 کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  (سکرین گریب/ پی ٹی وی یوٹیوب)

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وادی تیراہ کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر ’سیاست‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بدھ کو کہا ہے کہ وادی میں کسی قسم کو کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا۔

انہوں نے بدھ کو ایک ویڈیو پیغام میں خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنی نالائقی چھپانے کے لیے، وادی تیراہ میں خصوصی طور پر رکھے گئے چار ارب روپے میں ہونے والی کرپشن کو چھپانے کے لیے فوج کا نام لیا جا رہا ہے۔‘

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے بدھ کو کہا ہے کہ افغانستان کی سرحد سے متصل پاکستان کے شمال مغربی علاقے تیراہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے خدشات کے باعث لگ بھگ 70 ہزار، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، نقل مکانی کر چکے ہیں۔

پاکستان کے وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں نہ تو کوئی فوجی آپریشن جاری ہے اور نہ ہی اس کی کوئی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ لوگوں کی نقل مکانی کی وجہ فوجی کارروائی نہیں بلکہ سخت موسمی حالات ہیں۔

طلال چوہدری کے اس تازہ بیان پر خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

وزیر مملکت برائے امور داخلہ طلال چوہدری نے اپنے پیغام میں وادی تیراہ سے متعلق سامنے آنے والے نوٹیفکیشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’پورے عمل میں کسی کاغذ، کسی نوٹیفکیشن پر نہ وفاقی حکومت، نہ فوج کا ذکر ہے۔ جیسے ہی وادی تیراہ سے لوگ دوسری جگہ منتقل ہوئے اور انہیں چار ارب روپے کی پیمنٹ کی گئی، جس کی وجہ سے وہاں شور ہوا اور یہ پتہ چلا کہ آدھے سے زائد پیسے ان ہی کے لوگوں نے کسی اور مقصد کے لیے رکھ لیے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے حقائق چھپانے کے لیے ’ایک بے بنیاد اور حقائق سے ہٹ کر بیانیہ‘ بنانا شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا: ’جب بھی آپریشن کوئی کرنا ہو گا، اعلانیہ کریں گے، سب کو بتا کر کریں گے، سب کو آن بورڈ لے کر کریں گے، کسی قسم کا نیا آپریشن یا وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔‘

وزیر مملکت نے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ملک میں کہیں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں ہو رہی ہیں تو وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہیں اور یہ نیشنل ایکشن پلان پی ٹی آئی کے دور حکومت میں، ان کے بانی کی وزارت عظمیٰ کے دور میں بنا اور اس میں خیبرپختونخوا کی حکومت پوری حصے دار ہے۔‘

بقول طلال چوہدری: ’کوئی آئی بی آپریشن ہو یا خیبرپختونخوا میں ہونے والی کوئی کارروائی، نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونے والا کوئی بھی عمل، اس میں خیبرپختونخوا حکومت مکمل طور پر حصہ دار اور آن بورڈ ہوتی ہے۔‘

وادی تیراہ سے یہ نقل مکانی اس اعلان کے تقریباً ایک ماہ بعد شروع ہوئی جب مقامی عمائدین نے ایک معاہدے کے بعد رہائشیوں کو 23 جنوری تک علاقہ چھوڑنے کے لیے کہا تھا تاکہ وہ وہ ممکنہ کارروائی سے متاثر نہ ہوں۔

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بے گھر افراد کی مشکلات کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو قرار دیا اور کہا کہ اسلام آباد میں حکام فوجی آپریشن سے متعلق اپنے سابقہ مؤقف سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی تیراہ میں ممکنہ فوجی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ علاقے میں کسی بڑے پیمانے کے فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دے گی۔

پاکستان کی فوج اور دیگر سکیورٹی ادارے ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان