حکومت نے خیبرپختونخوا کی وادی تیراہ کو مبینہ طور پر فوج کے احکامات پر ’خالی‘ کرنے کے دعوؤں کو اتوار کو ’بے بنیاد‘ اور ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے وادی تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔
تیراہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف مجوزہ فوجی آپریشن کی وجہ سے مقامی افراد نقل مکانی کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت کے محکمہ ریلیف، بحالی اور آبادکاری کی جانب سے 26 دسمبر 2025 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق وادی تیراہ کے بعض علاقوں سے ممکنہ عارضی اور رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی نقل و حمل، خوراک کی فراہمی، نقد امداد، عارضی قیام اور رجسٹریشن مراکز کے قیام و انتظام سمیت دیگر تیاری اور امدادی اقدامات کے لیے تقریباً چار ارب روپے کی رقم جاری کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ انخلا عارضی اور رضاکارانہ ہے، تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ انخلا مبینہ طور پر فوج کے حکم پر کیا جا رہا ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے اتوار کو ایکس پر جاری بیان میں کہا: ’حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہے۔‘
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) January 24, 2026
بیان کے مطابق: ’یہ دعوے بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص مقاصد کے تحت کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔ وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے وادی تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مزید کہا گیا کہ ’قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں اور اس دوران پرامن شہریوں کی زندگی کے متاثر نہ ہونے کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔ ان کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی آبادی کی منتقلی یا ہجرت کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کچھ کیا جا رہا ہے۔‘
بیان میں وادی تیراہ میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ مقامی آبادی ’تیراہ میں امن و استحکام چاہتی ہے۔‘
مزید کہا گیا کہ ’ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق مجوزہ رضاکارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے، جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئیں۔ اس میں موسمی حالات، انتظامی سہولیات اور دیگر مقامی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے اور عمل کیمپوں کے بغیر مکمل کیا جائے گا۔‘
جمعے کو وادی میں مجوزہ آپریشن کی تیاری کے سلسلے میں تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے بڑی تعداد میں خاندان ضلع خیبر میں برفانی طوفان کے باعث پھنس گئے تھے، جن میں سے 1,500 سے زائد افراد کو ریسکیو 1122 کے مطابق محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے.
وزارت اطلاعات و نشریات نے واضح کیا کہ ’صوبائی حکومت یا اس کے کسی عہدیدار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا کوئی بھی ایسا بیان، جس میں اس نقل مکانی کو مسلح افواج سے جوڑا جائے، سراسر غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ ایسے بیانات سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں اور سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں، جو انتہائی افسوس ناک ہے۔‘