پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ دیگر پر حملوں کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ حملے فوری بند ہوں گے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بدھ کو بحرین کی پیش کردہ قرارداد منظور کی گئی جس میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن پر ایران کے حملوں کی مذمت کی گئی۔ پاکستان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اپنے بیان میں کہا کہ ’بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے پر ہمارے مثبت ووٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن جیسے برادر ممالک کے ساتھ مضبوط یکجہتی رکھتا ہے۔
Statement (Explanation of Vote) by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad,
Permanent Representative of Pakistan to the UN,
At the Security Council meeting to consider draft resolutions introduced by Bahrain and the Russian Federation under agenda item “Situation in the Middle East”
(11… pic.twitter.com/H1r85weYi4
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) March 11, 2026
’یہ اس بات کو بھی واضح کرتا ہے کہ ہم ان کے خلاف ہونے والے تمام بلاجواز حملوں کی مذمت کرتے ہیں، خاص طور پر وہ حملے جن میں شہریوں، شہری املاک اور اہم شہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔‘
عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان ان تمام ممالک کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سیاسی آزادی کی مکمل حمایت کرتا ہے، جیسا کہ قرارداد میں کہا گیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے علاقوں پر حملے فوری طور پر بند ہوں گے اور آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے حقوق اور آزادی متاثر نہیں ہوں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ نہایت افسوس ناک بات ہے کہ بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن جیسے برادر ممالک کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، حالاں کہ یہ تمام عرصے کے دوران بات چیت کی حمایت کرتے رہے، سفارتی رابطوں میں سہولت دیتے رہے، اور کشیدگی اور فوجی سرگرمیوں کے بڑھنے کے دوران تصادم سے بچنے کی وکالت کرتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ عمل بالآخر جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مرحلے تک جاری رہا۔ ان ممالک کو جنگ کے بدترین نتائج نہیں بھگتنے چاہییں تھے۔