وفاقی حکومت مالی سال 27-2026 کا بجٹ آج بروز جمعہ قومی اسمبلی میں پیش کرے گی، جس کا مجموعی حجم تقریباً 18 ہزار ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
بجٹ پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس سہ پہر تین بجے شروع ہوگا۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق بجٹ کی تیاری ملکی اور بین الاقوامی سطح پر درپیش معاشی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے اور عوامی ریلیف، زرعی شعبے کی جدید خطوط پر ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کو بجٹ کی اہم ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔
مزید برآں بجٹ میں مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافہ، معاشی استحکام اور ترقی کے لیے اقدامات، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے سماجی و معاشی خوشحالی کے اہداف کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے۔
مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے اعلان کی تیاری مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کی گئی۔ بجٹ کی تیاری میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور مشاورت جاری رہا، جن میں پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرنے اور اقتصادی سروے کے اجرا سے متعلق امور بھی شامل رہے۔
حکومت نے جمعرات کو اقتصادی سروے برائے مالی سال 26-2025 جاری کیا تھا، جس میں رواں مالی سال کے دوران قومی معیشت کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا گیا۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے اس موقعے پر کہا تھا کہ گذشتہ سال میں مون سون بارشوں، اندرونی اور بیرونی چیلینجز اور مشرق وسطیٰ بحران کے باوجود پاکستانی معیشت نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
اقتصادی سروے ملک کی معاشی صورت حال کی حقیقی تصویر پیش کرنے کے ساتھ آئندہ منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان کی حکومت جمعے کو ایک ایسا بجٹ پیش کرے گی جو متوسط طبقے اور رجسٹرڈ کاروباروں کو متاثر کرے گا کیوں کہ وہ ملک کے غریب ترین افراد کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے آمدنی بڑھانے اور اخراجات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ملکی میڈیا کی وسیع پیمانے پر سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے کفایت شعاری کی شرائط پوری کرنے کے دباؤ کے تحت، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اگلے ماہ سے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے اخراجاتی منصوبہ پیش کریں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں ایندھن اور بجلی کی زیادہ قیمتوں اور ٹیکسوں کا بوجھ بڑی حد تک باقاعدہ رجسٹرڈ کاروباروں اور تنخواہ دار طبقے پر پڑے گا، کیونکہ زراعت، ریٹیل اور رئیل سٹیٹ جیسے سیاسی طور پر طاقتور شعبوں پر ٹیکس لگانا مشکل ہے۔
ایران جنگ کے معاشی نقصانات
لیکسن انویسٹمنٹس کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر مصطفیٰ پاشا کے مطابق: ’حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں کیوں کہ وہ ایک بار پھر معاشی ترقی پر مالیاتی استحکام کو ترجیح دے گی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا تھا کہ ’اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے حکومت کو نان فائلرز، زراعت اور تاجروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا پڑے گا، لیکن ٹیکس نیٹ کو گہرا کرنے کے بجائے مادی طور پر وسعت دینے کے لیے سیاسی عزم کا فقدان ہے۔‘
وزارت خزانہ نے بجٹ کے اعداد و شمار یا اپنی مالیاتی ترجیحات پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
پالیسی سازوں کو نہ صرف آئی ایم ایف کے تازہ ترین بیل آؤٹ پیکج کی شرائط کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی جنگ کے غیر معمولی اثرات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ ایک ایسا تنازع ہے جس میں اسلام آباد نے ثالثی کی کوشش کی ہے۔ جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے پاکستان کی مہنگائی کو واپس دوہرے ہندسوں میں دھکیل دیا ہے، عین اس وقت جب معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔
ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس کے پرنسپل اکانومسٹ احمد مبین کا کہنا ہے کہ ’خلیجی توانائی کی درآمدات، ترسیلات زر اور خطے سے ملنے والی مالی امداد پر انحصار کو دیکھتے ہوئے، مشرق وسطی کے طویل تنازعے کے لحاظ سے پاکستان، ایشیا بحرالکاہل کی سب سے کمزور بڑی معیشت ہے۔‘
ایف بی آر پر دباؤ
پاکستان کی حکومت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اگلے سال کی ٹیکس وصولیوں کو اس سال کے ہدف سے 37 فیصد زیادہ کرے، ایک ایسا ہدف جسے یہ ادارہ پورا کرنے میں ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
معیشت کا بڑا حصہ ٹیکس حکام کی پہنچ سے دور
وسیع غیر رسمی معیشت پاکستان کی زیادہ تر نقدی کو ایف بی آر کی پہنچ سے دور رکھتی ہے۔ گذشتہ سال صرف 1.3 فیصد پاکستانیوں نے قابل ٹیکس آمدنی ظاہر کرنے والے ریٹرن فائل کیے اور صرف 7.7 فیصد بالغ افراد کے پاس ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ ہے۔
ٹیکس فائلرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن آمدنی میں اس رفتار سے اضافہ نہیں ہوا۔
لندن سکول آف اکنامکس میں پبلک اکنامکس کے محقق مظہر وسیم نے کہتے ہیں کہ ’باقی رقم نئے ٹیکس اقدامات یا سخت نفاذ سے آنی چاہیے۔ یہ عام طور پر وہ شعبے ہیں جہاں ایف بی آر ناکام ہو جاتا ہے۔‘
سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عابد سلہری کہتے ہیں کہ ’زراعت، رئیل سٹیٹ اور ریٹیل پر ٹیکس لگائے بغیر، مالیاتی خسارہ تو کم ہو سکتا ہے، لیکن شہریوں اور ریاست کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھ جائے گا۔‘