وفاقی بجٹ میں سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی مجوزہ خبروں کے بعد کراچی کی سولر مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
سولر ڈیلرز کے مطابق جینکو 585 واٹ کا سولر پینل جو کچھ روز قبل تک 21 سے 22 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا تھا، اب 27 سے 28 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔
اسی طرح دیگر بڑے سائز کے پینلز کی قیمتوں میں بھی پانچ ہزار سے آٹھ ہزار روپے تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
کراچی کے شہری فواد مصطفیٰ ریگل چوک میں گھر کے لیے سولر پینلز خریدنے پہنچے تھے، تاہم قیمتوں میں اچانک اضافے نے انہیں بھی پریشانی میں مبتلا کر دیا۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’بجٹ سے پہلے تک سولر مارکیٹ بالکل نارمل تھی، قیمتیں مستحکم تھیں اور خرید و فروخت معمول کے مطابق جاری تھی، لیکن اب قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، حالانکہ بجٹ ابھی مکمل طور پر نافذ بھی نہیں ہوا۔‘
ان کے مطابق فی کلو واٹ لاگت میں اضافے کے باعث عام صارف کے لیے سولر سسٹم لگوانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
’لوگ صرف معلومات لینے آتے ہیں لیکن بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث واپس چلے جاتے ہیں کیونکہ سسٹم اب ان کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔‘
فواد مصطفیٰ کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو سولر انرجی، جو ایک سستا متبادل سمجھا جاتا تھا، وہ بھی عام اور متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہو سکتا ہے۔
طلب میں اضافہ اور مارکیٹ میں بے یقینی
سولر سیلر محمد عاصم کے مطابق بجٹ سے متعلق خبروں کے بعد مارکیٹ میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہوئی ہے، جس کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’جب بھی بجٹ سے قبل ایسی خبریں آتی ہیں تو مارکیٹ میں طلب بڑھ جاتی ہے۔ کچھ خریدار یہ سوچ کر جلدی خریداری کرتے ہیں کہ بعد میں قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی، جس سے خود بخود قیمتوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔‘
بڑے آرڈرز رک گئے
کراچی الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان عرفان کے مطابق سولر پینلز پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز کے بعد مارکیٹ میں بے یقینی پیدا ہوگئی ہے، جس کا اثر کاروباری سرگرمیوں پر بھی پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا: ’ٹیکس میں اضافے کی خبروں کے بعد کئی بڑے کمرشل سودے رک گئے ہیں۔ چھوٹے پیمانے پر خرید و فروخت جاری ہے، لیکن بڑے آرڈرز مؤخر ہو رہے ہیں کیونکہ خریدار اور ڈیلرز نئی قیمتوں کا انتظار کر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بالآخر صارفین پر ہی پڑے گا۔
بقول محمد رضوان: ’درآمد کنندگان اور ڈیلرز اضافی لاگت کو لازمی طور پر صارفین تک منتقل کریں گے، جس سے سولر سسٹمز مزید مہنگے ہو جائیں گے۔‘
ماہرین کے مطابق مقامی ٹیکس پالیسی کے ساتھ ساتھ چین میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے نے بھی مجموعی لاگت کو متاثر کیا ہے، جس کے اثرات پاکستان کی مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں۔