رواں مالی سال میں معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی: اقتصادی سروے

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 12 جون کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پیش کریں گے۔

11 جون 2026 کو وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کی ایک کاپی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو پیش کی۔  (تصویر: وزیراعظم ہاؤس)

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 26-2025 کا قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ سال کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی۔

اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں وزیر خزانہ نے کہا کہ 3.7 کی جی ڈی پی شرح گذشتہ تین چار سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ ’ہم نے یہ سفر منفی 0.2 سے شروع کیا تھا۔ مشرق وسطیٰ تنازع کی وجہ سے پاکستان کی شرح نمو متاثر ہوئی۔‘

وفاقی وزیر نے کہا کہ  جولائی تا مئی اوسطاً مہنگائی کی شرح 6.7 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ  29 مئی 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 17.2 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے آغاز پر حکومت غیر یقینی کی صورت حال کا سامنا تھا تاہم ان کے بقول معیشت سے جڑے بہت سے بحرانوں پر قابو پا لیا گیا ہے۔

قومی اقتصادی سروے وفاقی بجٹ سے قبل ایک اہم دستاویز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس میں گزرنے والے مالی سال کے دوران ملک کی سماجی و اقتصادی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ شامل ہوتا ہے۔سروے میں زراعت، صنعت، مینوفیکچرنگ، خدمات، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن، سرمایہ کاری و کیپٹل مارکیٹس، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور مواصلات سمیت مختلف شعبوں کی کارکردگی، کامیابیوں اور درپیش چیلنجز کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

حکومت مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ جمعہ 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔ بجٹ کی تیاری ملکی اور بین الاقوامی سطح پر درپیش معاشی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔

بجٹ میں مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافہ، معاشی استحکام اور ترقی کے اقدامات، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے ملک کی سماجی و اقتصادی خوشحالی کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

اقتصادی سروے میں بتایا گیا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں سالانہ بنیادوں پر 49 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور  پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نمایاں کمی کے بعد محض 252 ملین ڈالر رہ گیا۔

سروے میں بتایا گیا کہ جولائی تا مئی اوورسیز پاکستانیوں نے 33.9 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر بھجوائیں اور صرف اپریل 2026 میں ایک ماہ کے دوران 4.3 ارب ڈالر کی تاریخی ترسیلات موصول ہوئیں۔

رواں سال اب تک ریکارڈ 11 نئی کمپنیوں کی سٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ  ہوئی جبکہ ملک میں 39,000 سے زیادہ نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے اوپر ہے۔

مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کے اعلان کی تیاریاں مقررہ ٹائم لائن کے مطابق تیزی سے جاری ہیں۔ بجٹ کی تیاری میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور مشاورت کو یقینی بنایا گیا ہے جبکہ پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرنے اور اقتصادی سروے کے اجرا سے متعلق انتظامات بھی مکمل کئے جا رہے ہیں۔

 

اس کے علاوہ سماجی تحفظ کے پروگراموں، ماحولیاتی پائیداری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق پیش رفت بھی سروے کا حصہ ہوگی۔دستاویز میں مہنگائی، تجارت، ادائیگیوں کے توازن، سرکاری قرضوں، آبادی میں اضافے، روزگار کی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سمیت اہم معاشی اشاریوں کے تازہ ترین اعداد و شمار بھی پیش کیے جائیں گے۔

اقتصادی سروے کا مقصد قومی معیشت کی مجموعی تصویر پیش کرتے ہوئے عوامی مباحثے اور پالیسی سازی کے عمل میں معاونت فراہم کرنا ہے تاکہ نئے مالی سال کے لیے موثر منصوبہ بندی کی جا سکے۔

توقع ہے کہ یہ سروے آئندہ وفاقی بجٹ کی بنیاد فراہم کرے گا اور مالیاتی استحکام، معاشی استحکام اور جامع ترقی کے حکومتی اہداف کے حصول میں رہنمائی کا کردار ادا کرے گا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت