سعودی عرب کی خطے میں ایرانی حملوں کی مذمت

سعودی وزارت خارجہ نے بحرین، کویت اور اردن پر ایرانی حملوں کو ان ممالک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔

ایران نے اردن کے ایک امریکی اڈے اور خلیج میں 21 اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا، میزائل داغنے کی یہ ویڈیو 10 جون 2026 کو پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری کی گئی (روئٹرز)

سعودی عرب نے بدھ کو ایران کی جانب سے بحرین، کویت اور اردن پر حملوں کو برادر خلیجی و عرب ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران کے اقدامات بحرین، کویت اور اردن کی خودمختاری اور فضائی حدود کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جو ان ممالک کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’مملکت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان حملوں کا تسلسل علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے اور کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔‘

’سعودی عرب بحرین، کویت اور اردن کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور وہ ان برادر ممالک کی جانب سے اپنی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ اور اپنے شہریوں اور مقیم افراد کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔‘

سعودی عرب کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں تاخیر کی صورت میں ’اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے ایران میں کچھ اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران نے بھی خطے کے کئی ممالک پر حملے کیے۔

ایران نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے امریکی حملے کے بعد بحرین اور اردن میں ’امریکی فوجی اڈوں‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ کویت نے بھی حملوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

ایران کے پاسداران انقلاب نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے اردن میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر چار اہداف کو نشانہ بنایا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ حملے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے کیے گئے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی کے بعد پاکستان نے بھی فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کو موقع دیں، کیونکہ نئی فوجی کشیدگی سے بین الاقوامی سطح پر مہینوں سے جاری اس کوشش کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا