ایران نے معاہدے پر بات چیت میں بہت دیر کر دی، اب قیمت چکانا ہوگی: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے حوالے سے معاہدے پر بات چیت میں بہت زیادہ وقت لے لیا ہے اور اب اسے ’قیمت چکانا پڑے گی۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نو جون 2026 کو نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانگی سے قبل ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے حوالے سے معاہدے پر بات چیت میں بہت زیادہ وقت لے لیا ہے اور اب اسے ’قیمت چکانا پڑے گی۔‘

سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا: ’مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے ایک ایسا معاہدہ کرنے میں بہت دیر کر دی جو ان کے لیے بہترین ہو سکتا تھا، اب انہیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘

اپنے بیان میں انہوں نے کہا: ’ایران کی فوج مکمل طور پر انتشار کا شکار ہے۔ اس کے بیشتر شعبے، جیسے بحریہ اور فضائیہ، اب عملی طور پر موجود ہی نہیں رہے، انہیں مکمل طور پر شکست دے دی گئی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایران صرف دعووں تک محدود ہے اور عملی اقدامات میں ناکام رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایران صرف باتیں کرتا ہے، عملی طور پر کچھ نہیں کرتا۔ مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ ختم ہو چکا ہے۔‘

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے ایک ایسے معاہدے پر بات چیت میں بہت دیر کر دی جو اس کے حق میں بہتر ہو سکتا تھا، اور اب اسے اس تاخیر کی قیمت چکانا پڑے گی۔

ادھر ایران نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے امریکی حملے کے بعد بحرین اور اردن میں ’امریکی فوجی اڈوں‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ کویت نے بھی حملوں کی اطلاع دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے اردن میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر چار اہداف کو نشانہ بنایا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ ’ایرانی افواج نے اردن کے علاقے الازرق میں واقع ایک فضائی اڈے پر ایف-35 جنگی طیاروں کے ٹھکانوں سمیت چار اہم اہداف اور امریکی فوج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔‘

اس سے قبل امریکی فوج نے بدھ کو کہا تھا کہ اس نے ایران پر فضائی حملے کیے، جس کے دوران تہران کے ’فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول سٹیشنز اور نگرانی کے ریڈار مقامات‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایران نے بندر عباس اور جزیرہ قشم کے اطراف حملوں کی تصدیق کی، تاہم نقصان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران کے خلاف یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد کی گئی، جس کا الزام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر عائد کیا تھا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا