پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف جنگ روکی: صدر ٹرمپ

اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’ہم نے کل انہیں (ایران کو) سخت نشانہ بنایا اور آج بھی ہم انہیں بھرپور طریقے سے نشانہ بنائیں گے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ انہوں نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف جنگ روکی۔

انہوں نے یہ بات وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہی۔ انہوں نے ایک بار پھر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی اور کہا کہ وہ ان کے بہت دوست بن چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ایران کے بھی قریب ہیں اور وہ اب بھی ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

اس سے قبل ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران پر سخت حملے دوبارہ شروع کرے گا اور تہران کے امن مذاکرات کاروں پر الزام عائد کیا کہ وہ ’ہمیں بے وقوف بنا رہے ہیں۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب دونوں فریقوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کی وجہ سے اپریل میں نافذ ہونے والی جنگ بندی مزید کشیدگی کا شکار ہو گئی۔

یہ جھڑپ ایک امریکی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد ہوئی۔ ’ہم نے کل انہیں سخت نشانہ بنایا اور آج بھی ہم انہیں بھرپور طریقے سے نشانہ بنائیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ہم ان پر حملہ کریں گے  اور بہت سخت حملہ کریں گے۔‘

ٹرمپ کے مطابق ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے حوالے سے معاہدے پر بات چیت میں بہت زیادہ وقت لے لیا ہے اور اب اسے ’قیمت چکانا پڑے گی۔‘

سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ’مشرق وسطیٰ کا غنڈہ ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے ایک ایسا معاہدہ کرنے میں بہت دیر کر دی جو ان کے لیے بہترین ہو سکتا تھا، اب انہیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘

اپنے بیان میں انہوں نے کہا ’ایران کی فوج مکمل طور پر انتشار کا شکار ہے۔ اس کے بیشتر شعبے، جیسے بحریہ اور فضائیہ، اب عملی طور پر موجود ہی نہیں رہے، انہیں مکمل طور پر شکست دے دی گئی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایران صرف دعوؤں تک محدود ہے اور عملی اقدامات میں ناکام رہا ہے۔

 ’ایران صرف باتیں کرتا ہے، عملی طور پر کچھ نہیں کرتا۔ مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ ختم ہو چکا ہے۔‘

ایران نے بدھ کو کہا کہ اس نے امریکی حملے کے بعد بحرین اور اردن میں ’امریکی فوجی اڈوں‘ کو نشانہ بنایا۔ کویت نے بھی حملوں کی اطلاع دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اے ایف پی کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے اردن میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر چار اہداف کو نشانہ بنایا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا ’ایرانی افواج نے اردن کے علاقے الازرق میں واقع ایک فضائی اڈے پر ایف-35 جنگی طیاروں کے ٹھکانوں سمیت چار اہم اہداف اور امریکی فوج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔‘

اس سے قبل امریکی فوج نے بدھ کو کہا تھا کہ اس نے ایران پر فضائی حملے کیے، جس کے دوران تہران کے ’فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول سٹیشنز اور نگرانی کے ریڈار مقامات‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایران نے بندر عباس اور جزیرہ قشم کے اطراف حملوں کی تصدیق کی، تاہم نقصان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران کے خلاف یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد کی گئی، جس کا الزام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر عائد کیا تھا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا