امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کو کہا ہے کہ اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کے مفادات میں بہت سی مشترکات ہیں، لیکن ایران کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسی اس بات سے طے ہوگی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے لیے کیا بہتر سمجھتے ہیں۔
فاکس نیوز کے مطابق جے ڈی وینس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میڈیا رپورٹس میں بنیامین نتن یاہو اور امریکی انتظامیہ کے درمیان ایران پر میزائل حملوں کے معاملے پر اختلافات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو ایران کے خلاف زیادہ سخت مؤقف کے حامی ہیں۔
امریکی نائب صدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بہت سے مشترکہ مفادات ہیں۔‘
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ’کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جہاں ہمارے مفادات مختلف ہو سکتے ہیں، اور صدر نے اس معاملے میں بالکل واضح کیا ہے کہ اگرچہ اسرائیل کے اپنے مقاصد ہیں، لیکن ایران کے حوالے سے امریکہ کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘
وینس نے کہا کہ گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ایسے حالات پیدا کیے گئے ہیں جن کی بدولت صدر ٹرمپ کو یقین ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کا ایک دیرپا حل نکالا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’صدر کا ماننا ہے، اور میرے خیال میں وہ درست ہیں، کہ اب ہمارے پاس ایران کے جوہری مسئلے کا طویل المدتی تصفیہ حاصل کرنے کا موقع موجود ہے۔‘
وینس کے مطابق ’اسرائیل کو یہ پسند آئے یا نہ آئے، لیکن بنیادی طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اسی مقصد کے حصول کی کوشش جاری رکھے گا کیونکہ ’امریکہ کے صدر کو اسی کام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔‘
آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ
امریکی فوج کا ایک اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر پیر کو آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ ہو گیا، تاہم اس میں سوار دونوں عملے کے ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق واقعے سے آگاہ دو ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیلی کاپٹر ایرانی فائرنگ کا نشانہ بنا، کسی فنی خرابی کا شکار ہوا، یا کسی اور وجہ سے حادثے کا شکار ہوا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس واقعے پر وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ خارجہ اور امریکی سینٹرل کمانڈ نے فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔