بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کی سزا ایران کو دیں گے: ٹرمپ

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’اگر انہوں نے دوبارہ ایسا کیا تو امریکہ ایران کو ذمہ دار ٹھہرائے گا، کیونکہ حوثی ایران کے مدد یافتہ اور اس کے نمائندہ گروہ ہیں۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 22 جولائی 2026 کو میری لینڈ میں واقع جوائنٹ بیس اینڈریوز پر فوجی حکام کے ہمراہ دیکھے جا سکتے ہیں۔(اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے حوثی اتحادیوں کے خلاف ’بڑی فوجی سزا‘ کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر میں کم از کم ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے بعد مشرق وسطیٰ کی جنگ ایک اور اہم بحری تجارتی گزرگاہ تک پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔

اس خدشے کہ سمندری تجارت میں رکاوٹ ایک کے بعد دوسرے سمندر تک بھی پھیل سکتی ہے، عالمی تیل کی قیمتوں میں جنگ کے دوران ہونے والے تیز ترین اضافوں میں سے ایک کا سبب بنا۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 6 فیصد سے زائد بڑھ گئی اور مئی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی عارضی جنگ بندی کے عملی طور پر ختم ہونے کے دو ہفتے بعد، امریکی فوج نے ایران کے خلاف ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا کہا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے آئل ٹینکر اینسیلیا (Encelia) میں آگ لگ گئی، تاہم عملے کے تمام ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک دوسرے آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ حوثیوں کی جانب سے ہونے والے مزید کسی بھی حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرائیں گے۔

یمن کے شمالی اور مغربی علاقوں پر کنٹرول رکھنے والے حوثیوں نے اس ہفتے اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’اگر انہوں نے دوبارہ ایسا کیا تو امریکہ ایران کو ذمہ دار ٹھہرائے گا، کیونکہ حوثی ایران کے مدد یافتہ اور اس کے نمائندہ گروہ ہیں، اور ایران کے ساتھ ساتھ خود حوثیوں کو بھی سخت فوجی سزا دی جائے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جنوب مشرقی ایشیا میں ایک سفارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی ادا کی جانے والی قیمت ’ہر رات بڑھتی جائے گی‘ جب تک تہران کسی ایسے امن معاہدے پر آمادہ نہیں ہو جاتا جس کی وہ پاسداری کرے۔

انہوں نے کہا: ’ایران ہر روز کسی معاہدے کی بھیک مانگ رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایران جب بھی کوئی معاہدہ کرتا ہے تو یا تو اسے توڑ دیتا ہے یا پھر اس میں تبدیلی چاہتا ہے۔ شاید آئندہ چند دنوں میں، مسلسل نقصانات اٹھانے کے بعد، وہ اپنا فیصلہ بدل لے۔‘

حوثیوں کے حملے باب المندب نامی آبنائے کو بند کرنے کا سبب بن سکتے ہیں، جسے ’آنسوؤں کا دروازہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

یہ بحیرہ احمر کو بحر ہند سے ملانے والی اہم گزرگاہ ہے اور توانائی کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کے بعد دنیا کا دوسرا اہم ترین بحری راستہ سمجھی جاتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا