اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے پیر کو یمن کی فضائی حدود اور ہوائی اڈوں کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال وسیع تر کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔
انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی کم کریں اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں مذاکرات کے ذریعے تنازعے کا حل تلاش کریں تاکہ 2022 سے قائم نسبتاً پُرامن ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز نے حوثیوں کے زیر کنٹرول صنعا ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا تاکہ ایک ایرانی طیارے کو وہاں لینڈ کرنے سے روکا جا سکے۔
یمن کے وزیر دفاع جنرل طاہر العقیلی نے ایکس پر بیان میں بتایا کہ پیر کو صنعا ہوائی اڈے کے رن وے کو نشانہ بنایا گیا تاکہ تہران سے حوثی وفد کو واپس لانے والا ایرانی طیارہ وہاں نہ اتر سکے۔
اس سے قبل جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ایرانی طیاروں کو یمن کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں مناسب جواب دیا جائے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حوثیوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ ایرانی طیارے کا رخ موڑ کر حدیدہ ہوائی اڈے پر اتارا گیا۔
حوثیوں کے زیر انتظام ذرائع ابلاغ نے ایسی ویڈیو بھی نشر کی جس میں ایک میزائل کو صنعا ہوائی اڈے کے رن وے سے ٹکراتے اور اس کے بعد زور دار دھماکہ ہوتے دکھایا گیا۔
دوسری جانب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے تمام ہوائی اڈے تاحکم ثانی بند رہیں گے جبکہ وزارت دفاع نے صنعا ہوائی اڈے اور اس کے اطراف کے علاقوں کو خالی کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
یمن کی صدارتی قیادت کے سربراہ رشاد العلیمی کے مطابق ایران نے ایرانی فضائی کمپنی کے ذریعے تہران سے صنعا تک پرواز چلانے کی درخواست کی تھی تاکہ حوثی وفد کو واپس لایا جا سکے۔
تاہم حکومت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔
ان کے مطابق حوثیوں نے قانونی اور خودمختار فضائی ضابطوں سے ہٹ کر ایرانی طیارے کو اتارنے پر اصرار کیا تھا۔