پاسداران انقلاب ریاستی خطرہ، معاونت یا حمایت پر 14 سال تک قید ہو سکتی ہے: برطانیہ

کیئر سٹارمر نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب ماضی میں بھی برطانیہ کے اندر، خصوصاً یہودیوں کو نشانہ بنانے کے لیے پراکسی گروہوں اور مجرمانہ نیٹ ورکس کا استعمال کرتی رہی ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر 13 جولائی 2026 کو لندن میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں استقبالیہ تقریب سے خطاب کر رہے ہیں (سوزین پلنکٹ / اے ایف پی)

برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے پیر کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور اس سے منسلک ایک گروہ کو برطانیہ کے ’نئے ریاستی خطرات سے متعلق قوانین‘ کے تحت باضابطہ ریاستی خطرہ نامزد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تنظیموں کی معاونت، حمایت یا ان کے لیے کام کرنے والے افراد کو 14 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ برطانیہ میں یہودیوں اور اسرائیلی شہریوں سے وابستہ مقامات پر ہونے والے متعدد حملوں کے پیچھے ایرانی حمایت یافتہ عناصر ملوث ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا ہے کہ ’اسلامک موومنٹ آف کمپینینز آف دی رائٹ‘ نامی گروہ نے برطانیہ میں ایسے سات حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جبکہ اس گروہ کے پسِ پشت ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے ارکان موجود تھے۔

کیئر سٹارمر نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب ماضی میں بھی برطانیہ کے اندر، خصوصاً یہودیوں کو نشانہ بنانے کے لیے پراکسی گروہوں اور مجرمانہ نیٹ ورکس کا استعمال کرتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام برطانیہ کی قومی سلامتی کے تحفظ اور بیرونی ریاستوں کی مبینہ مداخلت کے خلاف سخت پیغام ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ