لندن میں ایک صحافی پر چاقو سے ’ہدف بنا کر‘ حملہ کرنے پر دو افراد کو مجموعی طور پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس حملے کے بارے میں ایک جج نے قرار دیا کہ یہ ’ایرانی ریاست کے ایما پر کیا گیا۔‘
29 مارچ 2024 کو ایران انٹرنیشنل کے صحافی پوریا زراعتی کو ومبلڈن میں ان کے گھر کے باہر چاقو کے تین وار کر کے سڑک پر خون میں لت پت چھوڑ دیا گیا تھا۔
الزامات سے انکار کے باوجود، رومانیہ کے شہریوں 21 سالہ نندیٹو باڈیا اور 25 سالہ جارج سٹانا کو شدید جسمانی نقصان پہنچانے کی نیت سے زخمی کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔
جمعے کو اولڈ بیلی میں جسٹس چیما گرب نے جارج سٹانا کو 12 سال قید کی سزا سنائی اور کہا کہ انہیں ’معلوم ہونا چاہیے تھا‘ کہ یہ 'ٹارگٹڈ اور سنگین‘ حملہ ایران کے ایما پر تھا۔ سازش میں کم عرصے تک شامل رہنے والے نندیٹو باڈیا کو آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی۔
جج نے کہا: ’مجھے یقین ہے کہ یہ حملہ ایک غیر ملکی طاقت کے لیے اور اس کے مفاد میں کیا گیا تھا۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ پوریا زراعتی ’حکومت کے معروف ناقد تھے اور ان کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ کو بھی پہلے دھمکیاں مل چکی تھیں۔‘
سرکاری وکلا نے اس واقعے کو ’منصوبہ بند حملہ قرار دیا جس سے پہلے ریکی کی گئی اور جس کا حکم ایرانی ریاست کی جانب سے کام کرنے والے ایک تیسرے فریق نے دیا تھا۔‘
عدالت کو بتایا گیا کہ نندیٹو باڈیا اور ایک اور شخص ڈیوڈ آندرے نے، جو تاحال رومانیہ میں موجود ہیں، پوریا زراعتی کو ’گھیر لیا‘ جس کے بعد ان میں سے ایک نے ان کی ران پر چاقو کے کئی وار کیے۔ جارج سٹانا فرار ہونے کے لیے نیلے رنگ کی مزدا 3 گاڑی میں انتظار کر رہا تھے، جسے حملے سے قبل ’دشمنی پر مبنی ریکی‘ کے دوران سی سی ٹی وی کیمرے میں دیکھا گیا تھا۔
پوریا زراعتی نے متاثرہ شخص کی حیثیت سے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ اس واقعے نے انہیں ’خوف زدہ اور پریشان‘ کر دیا ہے اور وہ ’انتقامی کارروائی کے خوف‘ سے بیرون ملک منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
استغاثہ نے انکشاف کیا کہ نندیٹو باڈیا اور ڈیوڈ آندرے نے پانچ مختلف تاریخوں پر آٹھ مرتبہ اس گھر کا دورہ کیا تھا، اور وہ ’خاص طور پر‘ اس حملے کے لیے برطانیہ آئے تھے جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس کی منصوبہ بندی ایک سال سے زیادہ عرصے سے کی جا رہی تھی۔
سرکاری وکیل روپرٹ کینٹ نے دعویٰ کیا کہ ’یہ ملزم جانتے تھے، یا کم از کم انہیں معقول حد تک معلوم ہونا چاہیے تھا کہ پوریا زراعتی پر حملہ ایک غیر ملکی طاقت کے اکسانے پر کیا گیا۔ ہمارا مؤقف ہے کہ وہ طاقت ایرانی حکومت ہے جس کے ساتھ ملزموں کا تیسرے فریق کے ذریعے بالواسطہ تعلق تھا۔‘
عدالت کو بتایا گیا کہ ایران انٹرنیشنل ’ایرانی حکومت کا ناقد‘ ہے اور ریاست نے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔ اس نشریاتی ادارے کی ایک اہم شخصیت پوریا زراعتی نے ایرانی دارالحکومت میں اپنے چہرے والا ایک بل بورڈ بھی دیکھا تھا جس پر ’زندہ یا مردہ مطلوب‘ کا پیغام درج تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جیوری کو بتایا گیا کہ حملہ آوروں کو جائے وقوعہ سے فرار ہوتے وقت ہنستے ہوئے دیکھا گیا، جو ہیتھرو روانہ ہوئے اور وہاں سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پرواز کر گئے۔
نندیٹو سٹانا کی نمائندگی کرنے والے پیٹر کالڈویل کے سی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مؤکل ’عملی طور پر ان پڑھ‘ ہے اور ’حالات حاضرہ سے باخبر نہیں‘ لہٰذا انہیں ’نہیں معلوم ہو سکتا تھا‘ کہ وہ ایران کے ایما پر کام کر رہا تھے۔
پیٹر کالڈویل نے کہا: ’جارج سٹانا دوسروں کے لیے اس کام میں کارآمد تھے جس کا انہوں نے ارادہ کیا مگر وہ خود نہیں جانتا تھے کہ انہیں کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘ نندیٹو باڈیا کے وکیل ڈیوڈ سپینس کے سی نے مؤقف اپنایا کہ عدالت ’یقین سے نہیں کہہ سکتی‘ کہ ان کے مؤکل ہی نے پوریا زراعتی پر چاقو کے وار کیے تھے۔
جج چیما گرب نے یہ کہتے ہوئے بات مکمل کی: ’ظالم حکومتیں اپوزیشن کو دبانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔ وہ اس کڑے محاسبے کو برداشت نہیں کر سکتیں جو نڈر صحافی کرتے ہیں۔‘ انسداد دہشت گردی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے 2022 سے اب تک برطانیہ میں ایران سے جڑی 20 سازشوں کو ناکام بنایا۔
© The Independent