مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی اتحادوں کا نیا دور

امریکہ کی قیادت میں قائم سکیورٹی فریم ورک کی جگہ لینے کی بجائے یہ اتحاد ممکنہ خلاؤں کو پر کر کے اسے مزید تقویت دیں گے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف 12 مارچ، 2026 کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے گفتگو کر رہے ہیں (ایکس/پی ٹی وی نیوز آفیشل)

مشرق وسطیٰ میں اسرائیل، امریکہ اور ایران کی جنگ نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی متاثر کیا ہے، جن میں ان کے علاقوں پر ڈرون اور میزائل حملے اور اہم ترین آبی گزرگاہوں کی بندش شامل ہیں۔

اس سے توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارت متاثر ہوئی ہے اور ایک غیر مستحکم، متغیر اور حساس سکیورٹی ماحول پیدا ہو گیا ہے۔

یہ جنگ اس خطے کے سکیورٹی ڈھانچے، علاقائی نظام اور جیو پولیٹکس کو تیزی سے ایک نیا رخ دے رہی ہے۔

ان حالات میں بدلتی ہوئی صورت حال سے نمٹنے کے لیے علاقائی ممالک کا روایتی ردعمل اتحادوں کی تشکیل کے ذریعے اپنے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

یہ نئے اتحاد 1990 کی دہائی میں پہلی خلیجی جنگ کے بعد امریکہ کے قائم کردہ موجودہ سکیورٹی فریم ورک کے اندر ہی ابھر رہے ہیں۔ گذشتہ سال قطر میں حماس کی قیادت پر اسرائیلی فضائی حملہ ان اتحادوں کے قیام کی بنیادی وجہ بنا۔

اس واقعے نے علاقائی ریاستوں کو شدید ہلا کر رکھ دیا اور انہیں اپنی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے موجودہ اقدامات کے ساتھ ساتھ نئے طریقوں پر غور کرنے پر مجبور کیا۔

نتیجے کے طور پر مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے پر دو طرفہ، سہ طرفہ اور چار طرفہ اتحاد سامنے سامنے آ رہے ہیں۔

ان اتحادوں کو شکل دینے میں سعودی عرب کلیدی قوت اور سٹریٹجک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

سکیورٹی اتحاد دراصل فورس ملٹی پلائرز (طاقت کو بڑھانے والے ذرائع) ہوتے ہیں، جو فوجی و معاشی وسائل کو یکجا، سٹریٹجک مفادات کو ہم آہنگ اور مشترکہ خطرات کو روکنے اور اجتماعی امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حریفوں کے خلاف ایک جیسے مقاصد کی نشاندہی کر کے قائم کیے جاتے ہیں۔

سکیورٹی اتحادوں میں شامل ریاستیں یہ شراکت داریاں اس لیے قائم کرتی ہیں کیونکہ ان مقاصد کو تنہا حاصل کرنا ان کے لیے انتہائی مہنگا یا مشکل ہوتا ہے۔

اتحاد کئی قسم کے ہو سکتے ہیں اور ان کی نوعیت ہی ان کے دائرہ کار، مدّت اور کردار کا تعین کرتی ہے۔

مثال کے طور پر سٹریٹجک (حکمت عملی کے) اتحاد زیادہ پائیدار ہوتے ہیں، ان میں گہرا تعاون شامل ہوتا ہے، یہ بظاہر زیادہ پابند کرنے والے ہوتے ہیں اور اجتماعی سکیورٹی کی ایسی ثقافت کو فروغ دیتے ہیں جہاں کسی ایک اتحادی پارٹنر پر حملے کو تمام پارٹنرز پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف، کم درجے اور لین دین پر مبنی اتحاد کم پابند کرنے والے ہوتے ہیں، ان کا محور محدود ہوتا ہے اور وہ محدود مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے کہ مشترکہ فوجی تربیت، دفاعی سامان کی خریداری یا فوجی مشقیں۔

قطر کی فضائی حدود میں اسرائیل کی جارحانہ مداخلت کے بعد جو پہلا بڑا اتحاد وجود میں آیا، وہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ تھا، جس کا مقصد اجتماعی سکیورٹی کو فروغ دینا ہے اور جس میں یہ طے پایا ہے کہ کسی ایک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اگرچہ اس معاہدے نے فریقین کے درمیان دیرینہ سکیورٹی تعاون اور عسکری تعلقات کو باضابطہ شکل دی لیکن اس کا وقت انتہائی اہم تھا، جس نے مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی ڈھانچے میں سکیورٹی فراہم کار اور سفارتی امن ساز کے طور پر پاکستان کے کردار کو مزید مستحکم کیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بندی اور یادداشت افہام و تفہیم پر عمل درآمد کے لیے پاکستان کی ثالثی کو سعودی عرب کی حمایت اور سرپرستی حاصل تھی۔

معاہدے پر دستخط کے بعد سے پاکستان نے مملکت میں مزید 8,000 اہلکار، جے ایف-17 جنگی طیاروں کا ایک مکمل سکواڈرن اور چین کا ایچ کیو-9 ایئر ڈیفنس سسٹم تعینات کیا ہے۔

اس اتحاد کا وقت انتہائی اہم ہے اور اس کی کچھ وضاحت کی ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا جب آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران کے متعدد حملوں کے باعث، متحدہ عرب امارات نے خلیج تعاون کونسل چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اسرائیل و انڈیا کے ساتھ اپنے اتحاد کو مزید گہرا کر لیا۔

جاری جنگ ختم ہونے کے بعد سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ میں اپنی علاقائی برتری کے لیے دو اہم چیلنجرز کا سامنا ہوگا: اسرائیل - یو اے ای اور ایران۔ جنگ سے حوصلہ پا کر ایران کا رویہ مزید جارحانہ ہو جائے گا۔

اسی کے ساتھ غزہ، شام لبنان، ایران اور قطر میں اسرائیل کے بے لگام حملوں نے بھی ریاض کو خبردار کیا ہے۔

اسرائیلی جارحیت کو روکنے میں امریکہ کی ناکامی نے سعودی عرب کو اپنی سکیورٹی شراکت داریوں میں تنوع لانے پر مجبور کیا۔

جولائی2026 میں کویت نے کویتی صدارتی حکم نامے قانون نمبر 73 مجریہ 2026 کے ذریعے پاکستان کے ساتھ 2023 کے دفاعی تعاون کے معاہدے کی باقاعدہ توثیق کر دی۔

اس دو طرفہ اتحاد میں فوجی تربیت تعلیم اور اہلکاروں کا تبادلہ، انٹیلی جنس کی فراہمی اور ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ دفاعی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون شامل ہوگا۔

یہ معاہدہ پانچ سال کی مدت کے لیے ہے جس میں خودکار تجدید کا اختیار بھی موجود ہے۔

جولائی میں بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی، بین الاقوامی تجارتی راستوں، توانائی اور ترسیلی لائنوں اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں 14 رکنی بحری اتحاد بھی سامنے آیا۔

یہ اتحاد ایسے وقت میں ابھرا جب کارگو بحری جہازوں پر حوثی باغیوں کے حملے معمول بن چکے ہیں۔ اس کا مقصد بابِ المندب اور خلیجِ عدن کو محفوظ بنانا ہے۔

ریاض کے ساتھ ساتھ پاکستان، ترکی اور مصر بھی اس کے بانی ارکان میں شامل ہیں۔ اس میں انٹیلی جنس کی فراہمی اور معلومات کا تبادلہ، مشترکہ آپریشنل منصوبہ بندی اور بحری مشقیں شامل ہوں گی۔

اسی طرح ایک اور اتحاد جو تکمیل کے بظاہر قریب ہے، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ایک سہ طرفہ سکیورٹی فریم ورک ہے۔ ان کے مذاکرات حتمی مرحلے تک پہنچ چکے ہیں اور عنقریب اس کا باقاعدہ اعلان متوقع ہے۔

بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قومی ریاستوں کی سکیورٹی اور انہیں علاقائی استحکام کی بنیادی اکائی کے طور پر فروغ دینے، علیحدگی پسند قوتوں کی مخالفت، دہشت گردی کا ٹاکرا کرنے، مشترکہ دفاعی پیداوار اور فوجی تربیت و مشقوں سے متعلق ان کے مشترکہ سکیورٹی نقطہ نظر نے اس سہ طرفہ سکیورٹی فریم ورک کی راہ ہموار کی ہے۔

مشرق وسطیٰ اور وسیع تر اسلامی دنیا میں سعودی عرب کی مرکزی قیادت کا مقام، سفارتی اثر و رسوخ اور مالی سخاوت؛ پاکستان کی جنگ دیدہ فوج اور ایٹمی صلاحیت؛ اور ترکی کی مقامی و جدید ترین دفاعی صنعتی صلاحیت جو ڈرون اور جنگی طیارے بناتی ہے، اس اتحاد کو ایک انتہائی زبردست اور بااثر قوت بنا دیں گے۔

اسی طرح پاکستان، مصر، ترکی اور سعودی عرب کا ایک چار طرفہ (کواڈری لیٹرل) اتحاد بھی زیر التوا ہے اور جیسے ہی ان ریاستوں کے درمیان کسی باقاعدہ فریم ورک پر اتفاق ہوگا، اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔

یہ سکیورٹی اتحاد ایک غیر یقینی اور متغیر ماحول میں ابھر رہے ہیں جہاں امریکہ کی قیادت میں قائم سکیورٹی ڈھانچہ شدید بے ترتیبی اور زوال کا شکار ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل کی مدد حاصل کرنے کے باوجود ایران پر تعزیری قیمت عائد کرنے میں امریکہ کی ناکامی نے مشرق وسطیٰ کے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے پر ازسر نو غور اور اسے نئے سرے سے ترتیب دینے پر مجبور کیا ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ کی قیادت میں قائم سکیورٹی فریم ورک کی جگہ لینے کی بجائے، یہ اتحاد ممکنہ خلاؤں کو پر کر کے اسے مزید تقویت دیں گے۔

دوسرے لفظوں میں یہ اتحاد نہ تو امریکہ کے زیر قیادت سکیورٹی فریم ورک کے منافی کام کرتے ہیں اور نہ ہی اسے چیلنج کرتے ہیں بلکہ یہ اس کی تکمیل کرتے ہیں۔

تصادم کا واحد نقطہ ایک آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر ابراہیمی معاہدے کے ذریعے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے خلیجی ریاستوں (چند ایک کے سوا) کا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرنا ہے۔

ان اتحادوں میں پاکستان کی شمولیت نے نہ صرف ایک سکیورٹی فراہم کرنے والے کے طور پر بلکہ ایک علاقائی امن ساز اور سفارتی قوت کے طور پر بھی اس کے بین الاقوامی وقار کو بلند کیا ہے۔

مصنف ایس راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔ یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ