پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی کا مشرق وسطیٰ میں ’قابل قبول‘ حل پر زور

چاروں ممالک نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد ایک پائیدار، قابل تصدیق اور باہمی طور پر قابل قبول معاہدے تک پہنچیں۔

پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی کے وزرا خارجہ 21 جون 2026 کو قائرہ میں ملاقات کر رہے ہیں (دفتر خارجہ پاکستان)

پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی نے اتوار کو امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کو جلد از جلد مکمل کریں تاکہ ’پائیدار، قابل تصدیق اور باہمی طور پر قابل قبول‘ حل تک پہنچا جا سکے۔

قاہرہ میں ہونے والا اجلاس ’آر-4‘ کا تازہ ترین اجلاس تھا جسے خطے کے بحرانوں پر مشترکہ مؤقف اپنانے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ گروپ مارچ سے مسلسل ملاقاتیں کر رہا ہے۔

چار ممالک کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کار اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات میں مصروف رہے، جس کا مقصد ان کی جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔

پاکستانی، سعودی، ترک اور مصری وزرائے خارجہ نے قاہرہ میں ملاقات میں ایران امریکہ معاہدے کے نفاذ پر بات چیت کی تاکہ خطے کے استحکام، توانائی منڈیوں، بین الاقوامی بحری راستوں، عالمی سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت کو بحال رکھا جا سکے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’اس مثبت پیش رفت کو آگے بڑھاتے ہوئے اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کو جلد اور کامیابی سے مکمل کیا جائے تاکہ باقی مسائل کا پائیدار، قابل تصدیق اور باہمی طور پر قابل قبول حل حاصل کیا جا سکے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ان کوششوں میں خطے کے ممالک کے خدشات کو بھی شامل کیا جائے، خاص طور پر خلیجی عرب ممالک کی سلامتی اور استحکام کو مدنظر رکھا جائے، اسی طرح پورے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے بھی تاکہ مشترکہ سلامتی مضبوط  اور خطے میں طویل مدت کے لیے استحکام قائم کیا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلسطین کا مسئلہ

مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فلسطین کے مسئلے کی مرکزی حیثیت کو دہراتے ہوئے سعودی، پاکستانی، مصری اور ترک وزرائے خارجہ نے کہا کہ ’فلسطینی مسئلہ خطے میں منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے حصول کی کوششوں کے مرکز میں ہے اور ایک محفوظ اور مستحکم علاقائی نظام کے قیام کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔‘

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق: ’اس حوالے سے غزہ، مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی صورت حال پر خصوصی توجہ دی گئی۔‘

وزرا نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کا اعادہ کیا، جن میں خود ارادیت کا حق اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے، جسے منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا