کراچی سٹی کورٹ نے جمعرات کو نوجوان تاجر میر رضا کی موت کے مقدمے میں قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کی درخواست منظور کرتے ہوئے سیکریٹری ہیلتھ کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ عدالتی حکم پر جتنی جلد ممکن ہو عملدرآمد کیا جائے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے میر رضا کے والد میر حسین کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قبر کشائی اور ازسرنو پوسٹ مارٹم کی اجازت دی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم اور تفتیش میں متعدد خامیاں موجود ہیں، جس کے باعث موت کی اصل وجہ واضح نہ ہو سکی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اپنایا کہ مزید تاخیر سے اہم فرانزک شواہد متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم جلد از جلد کرایا جائے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے بھی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میر رضا کے والد کا دعویٰ ہے کہ ان کے بیٹے نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے قتل کیا گیا، جبکہ پولیس کی رائے ابتدائی میڈیکل لیگل رپورٹ کی بنیاد پر قائم ہے۔
دوسری جانب پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دستیاب تصاویر میں بعض تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے مزید طبی جانچ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ فرانزک ماہرین نے بھی شفاف تحقیقات کے لیے آزاد میڈیکل بورڈ کے ذریعے تمام طبی اور فرانزک شواہد کا دوبارہ جائزہ لینے کی سفارش کی ہے۔
عدالت کے فیصلے کے بعد اب میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ میر رضا کی موت کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔