پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے جمعرات کو کہا ہے کہ ’بلوچستان کے اضلاع واشک اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر دو کامیاب کارروائیوں میں انڈین پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 12 دہشت گرد مارے گئے۔‘
پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق ’کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے بھی تباہ کر دیے گئے۔‘
آئی ایس پی آر کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا: ’پانچ اور چھ اگست 2026 کو، سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے واشک اور مستونگ اضلاع میں دو تیز رفتار، انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کیں، جو ’ردالفساد-3‘ کے تحت انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے جاری سلسلے کا حصہ تھیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان کے مطابق ’یہ ایک مسلسل انسداد دہشت گردی مہم ہے جس کا مقصد انڈین پراکسیز کا خاتمہ کرنا ہے۔ پانچ اگست 2026 کو، بلوچستان کے ضلع واشک میں سکیورٹی فورسز نے چھ عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور فورسز نے ان دہشت گردوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق چھ اگست 2026 کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کے دوران، مسلح افواج اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چھ عسکریت پسند مارے گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا: ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت (جیسا کہ نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی ایپکس کمیٹی نے منظوری دی)، پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ عسکریت پسندی کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے پوری رفتار کے ساتھ اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔‘